الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ الْمَنْعِ مِنَ الْكَلَامِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ وَالرُّخْصَةِ فِي تَكَلُّمِهِ وَتَكْلِيمِهِ لِمَصْلَحَةٍ وَجَوَازِ قَطْعِ الْخُطْبَةِ لِأَمْرٍ يَحْدُثُ
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا¤امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2805
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَرَاءَةً وَهُوَ قَائِمٌ يُذَكِّرُ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَجَاهَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَبُو ذَرٍّ، فَغَمَزَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَحَدُهُمَا فَقَالَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ السُّورَةُ يَا أُبَيُّ! فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ يَسْكُتْ فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ السُّورَةُ فَلَمْ تُخْبِرْ، قَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ فَقَالَ: ( (صَدَقَ أُبَيٌّ) )
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ والے دن سورۂ توبہ کی تلاوت کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ وعظ ونصیحت کر رہے تھے۔ سیّدنا ابی بن کعب، سیّدنا ابو الدرداء اور سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، (مؤخر الذکر دو صحابہ میں سے) ایک نے سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دبایا اور پوچھا: ابی! یہ سورت کب نازل ہوئی، میں نے تو آج ہی سنی ہے؟ انھوں نے جواباً خاموش رہنے کا اشارہ کیا، جب وہ (جمعہ سے) فارغ ہو گئے تو اس صحابی نے کہا: میں نے تم سے سوال کیا تھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی، لیکن تم نے مجھے کوئی بات نہ بتلائی۔ اب کی بار سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: آج تجھے اپنی اس نماز میں سے کچھ نہیں ملا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو بات کی ہے۔ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا اور ابی کے قول سمیت ساری بات ذکر کر دی، آگے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2805]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد قوي ان ثبت سماع عطاء بن يسار من أبي بن كعب أخرجه ابن ماجه: 1111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21611»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2806
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَى آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أُبَيُّ! مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ الْآيَةُ؟ قَالَ: فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي، حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أُبَيٌّ: مَالَكَ مِنْ جُمُعَتِكَ إِلَّا مَا لَغَيْتَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقُلْتُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ تَلَوْتَ آيَةً وَإِلَى جَنْبِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلْتُهُ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ الْآيَةُ؟ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي حَتَّى إِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَيٌّ أَنَّهُ مَا لِي مِنْ جُمُعَتِي إِلَّا مَا لَغَيْتُ، فَقَالَ: ( (صَدَقَ أُبَيٌّ، فَإِذَا سَمِعْتَ إِمَامَكَ يَتَكَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتَّى يَفْرُغَ) )
سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر بیٹھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور بیچ میں ایک آیت بھی تلاوت کی، میرے پہلومیں سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابی! یہ آیت کب نازل ہوئی ہے؟لیکن انہوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، میں نے پھر سوال دوہرایا، لیکن انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار ہی کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اتر آئے تو سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تجھے اس جمعہ (کے ثواب) میں سے کچھ نہیں ملے گا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو کام کیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے (دوران خطبہ) ایک آیت تلاوت کی تھی، جبکہ میرے پہلو میں سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے میں نے ان سے یہ پوچھا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ لیکن انھوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، جب آپ اتر آئے، تو ابی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے یہ کہہ دیا کہ میرے لیے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ہے مگر وہی کچھ جو میں نے لغو کام کیا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا ہے، جب تو اپنے امام کو سنے کہ وہ کلام کررہا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک خاموش ہوجا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، حرب بن قيس لم يسمع من أبي الدرداء أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 1/ 367، والطبراني في ’’الكبير‘‘ وقد سلفت القصة في الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22073»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2807
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ فِي الْحَاجَةِ فَيُكَلِّمُهُ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے، تو ایک آدمی کسی حاجت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائے نماز کی طرف آگے بڑھتے اور نماز پڑھاتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1120، والترمذي: 517، والنسائي: 3/ 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12225»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه ابوداود: 1120
حدیث نمبر: 2808
عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ يَسْتَخْبِرُ النَّاسَ يَسْأَلُهُمْ عَنْ أَخْبَارِهِمْ وَأَسْعَارِهِمْ
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سنا، جبکہ وہ منبر پر تھے اور لوگوں سے ان کی خبروں اور نرخوں کے بارے میں معلومات لے رہے تھے اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث: «صحيح أخرجه ابن سعد: 3/ 59، وابن شبة: 3/ 962، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 540»
الحكم على الحديث: صحيح أخرجه ابن سعد: 3/ 59
حدیث نمبر: 2809
عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، قَالَ فَأَقْبَلَ إِلَيَّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، قَالَ ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا
سیّدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اجنبی آدمی ہوں، دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرا دین کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، پھر کرسی لائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو علم دیا، اس میں سے مجھے تعلیم دینے لگے، پھر خطبہ کے لیے تشریف لے گئے اور اس کا آخری حصہ مکمل کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21033»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 876
حدیث نمبر: 2810
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا، فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} نَظَرْتُ إِلَى هَٰذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں سیّدنا حسن اور سیّدنا حسین رضی اللہ عنہما آ گئے، ان پر سرخ رنگ کی دو قمیصیں تھیں، وہ چل رہے تھے اور گر رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اتر پڑے، ان کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا دیا، پھرفرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا کہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں، میں نے ان دو بچوں کو دیکھا، یہ چلتے ہوئے گر رہے تھے، مجھ سے صبر نہ ہو سکا، اس لیے میں نے اپنی گفتگو بند کر دی اور ان کو اٹھا لیا۔۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2810]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي أخرجه ابوداود: 1109، وابن ماجه: 3600، والترمذي: 3774، والنسائي: 3/ 108، 192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23383»
الحكم على الحديث: اسناده قوي أخرجه ابوداود: 1109
14. بَابُ قِصَّةِ الَّذِينَ انْفَضُّوا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَةِ الْجُمُعَةِ
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
حدیث نمبر: 2811
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَتْ عِيرٌ مَرَّةً الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ اثْنَا عَشَرَ فَنَزَلَتْ {وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا} (سورة الجمعة: 11)
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک (تجارتی) قافلہ آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، پس لوگ (مسجد سے) نکل کھڑے ہوئے اور بارہ آدمی باقی رہ گئے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:،اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2064، ومسلم: 863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14408»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2064
15. بَابُ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ وَحُكْمِ مَنْ سَبَقَ بِرَكْعَةٍ أَوْ زُوحِمَ، وَمَنْ قَالَ بِاشْتِرَاطِ الْمَسْجِدِ لِصِحَّةِ الْجُمُعَةِ
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
حدیث نمبر: 2812
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زبان پر دو رکعت نماز سفر، دو رکعت نمازِ عید الاضحی، دو رکعت نماز عید الفطر اور دو رکعت نماز جمعہ مکمل نمازیں ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2812]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/ 183، وابن ماجه: 1063، 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 257 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 257»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/ 183
حدیث نمبر: 2813
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا كُلَّهَا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نماز کی ایک رکعت پالی، پس تحقیق اس نے ساری نماز پالی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 580، ومسلم: 607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7284، 8883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8870»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 580
حدیث نمبر: 2814
عَنْ سَيَّارِ بْنِ الْمَعْرُورِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنَى هَٰذَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ مَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ فَلْيَسْجُدِ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ، وَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ صَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ
سیارمعرورکہتے ہیں: سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک خطبے میں کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مسجد تعمیر کی اور صرف ہم مہاجرین و انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر جب ہجوم بڑھ جائے تو آدمی اپنے بھائی کی پشت پر سجدہ کر لے۔ پھر انھوں نے کچھ لوگوں کو راستے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: مسجد میں نماز پڑھو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها/حدیث: 2814]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 70، والبيھقي: 3/ 182، 183، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 217»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 70