🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّتِهَا وَحُكْمِهَا وَمَنْ كَانَتْ وَذِكْرِ النَّوْعِ الْأَوَّلِ مِنْ أَنْوَاعِهَا
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی¤نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2947
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَعَلَى الْمَسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2947]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 687، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2124»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّنْھُمْ

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 687
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2948
عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، قَالُوا: تَأْتِي عَلَيْهِمُ الْآنَ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِهَٰذِهِ الْآيَاتِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ {وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمْ الصَّلَاةَ …} قَالَ: فَحَضَرَتْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا السَّلَاحَ، قَالَ: فَصَفَّفْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ جَلَسَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ: فَصَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ، مَرَّةً بِعُسْفَانَ، وَمَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ
سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر تھے، مشرکین ہمارے مدمقابل آ گئے، ان کی قیادت خالد بن ولید کر رہے تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، وہ لوگ آپس میں کہنے لگے:یہ مسلمان نماز میں مشغول تھے، کاش کہ ہم ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا لیتے۔ پھر انھوں نے کہا: ابھی کچھ دیر بعد ان کی ایک اور نماز کاوقت ہونے والا ہے، وہ ان کو اپنی جانوں اور اولادوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اسی وقت ظہر اور عصر کے درمیان جبریل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہوئے۔ {وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمْ الصَّلَاۃَ … } (جب تو ان میں ہو، پس ان کے لیے نماز قائم کرے …۔) جب عصر کاوقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ صحابہ کرام اسلحہ لے کر کھڑے ہوں، ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم سب نے رکوع کیا اور جب آپ رکوع سے اٹھے تو ہم بھی اٹھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو صرف آپ کے پیچھے والی پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے۔ جب وہ لوگ سجدے کرکے کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر اپنی اپنی جگہ سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے شروع میں) اگلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آ گئے۔ پھر اسی طرح سب نمازیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا اور رکوع سے سر اٹھایا، پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر پہرہ دیتے رہے، جب آپ اور پہلی صف والے لوگ سجدہ کرکے بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا (اور سب تشہد میں بیٹھ گئے، پھر) سب نے مل کر سلام پھیر ا اور نماز سے فارغ ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس انداز میں دو دفعہ نماز پڑھائی، ایک دفعہ عسفان میں اور دوسری دفعہ بنو سلیم کے علاقہ میں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1236، والنسائي: 3/ 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16696»
وضاحت: فوائد: … کتنی حیران کن بات ہے کہ دشمنان اسلام کا نظریہ یہ تھا کہ عصر کی نماز مسلمانوں کو ان کی جانوں اور اولادوں سے بھی عزیز ہے اور وہ کبھی بھی اس کو ترک نہیں کریں گے، کاش عصر حاضر کے مسلمان بھی ان حقائق کو سمجھ جاتے۔ یہ پوری آیت پچھلی حدیث کی شرح میں گزر چکی ہے۔ جب دشمن یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ عصر کی نماز میں مصروف مسلمانوں پر یکبارگی حملہ کر دینا ہے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے غفلت کو گوارہ نہ کیا، لیکن ہم مسلم معاشرہ میں رہتے ہوئے بانوے ترانوے فیصد لوگ بے نمازی ہیں۔ راجح قول کے مطابق عسفان مقام پر پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف اس طریقے کے مطابق ادا کی تھی، یہ چھ یا سات سن ہجری کا واقعہ تھا۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1236
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2949
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَذَكَرَ أَنَّ الْعَدُوَّ كَانُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَّا صَفَّفْنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ، فَلَمَّا قَامَ وَقَامَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَجَلَسَ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسَّجُودِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا، قَالَ جَابِرٌ: كَمَا يَفْعَلُ حَرَسُكُمْ هَؤُلَاءِ بِأُمَرَائِهِمْ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی، اس موقع پر دشمن قبلہ کی جانب تھا۔ ہم نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، آپ نے اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کی، ہم نے بھی اللہ اکبر کہا، آپ نے رکوع کیا، ہم سب نے بھی رکوع کیا، رکوع کے بعد جب آپ نے سجدہ کیا تو آپ کے پیچھے والی صف نے سجدہ کیا اور دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پہلی صف والے سجدوں کے بعد کھڑے ہو گئے تو دوسری صف والوں نے سجدے کیے۔ اس کے بعد اگلی صف والے پیچھے ہو گئے اور پچھلی صف والے آگے ہو گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو سب لوگوں نے رکوع کیا۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کو گئے تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدے کیے۔ (اور پچھلی صف والے نمازی حسب سابق کھڑے رہے) جب آپ سجدوں کے بعد بیٹھے تو پچھلی صف والے نمازیوں نے سجدے کیے اور پھر وہ بھی بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو سب نمازیوں نے آپ کے ساتھ سلام پھیرا۔ جابر کہتے ہیں: (دوسری صف والے نمازی اسی طرح کھڑے رہے) جس طرح آج کل پہرہ دینے والے حضرات امراء و حکام کے ساتھ کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2949]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14489»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 840
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2950
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ، إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ عُقْبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمِيعٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ جَلَسُوا، فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ
سیّدنا عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ نماز خوف اسی طرح ہوتی تھی جس طرح آج کل کے تمہارے پہرہ دار اماموں کے پیچھے ادا کرتے ہیں، البتہ ان کی نماز باری باری ہوتی تھی اور وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کرتے تو پہلی صف والے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور پچھلی صف والے کھڑے رہتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں کے بعدکھڑے ہوتے تو پچھلی صف والے، جو کھڑے رہے تھے، وہ اپنا سجدہ کرتے اور پھر سب (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہو جاتے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کرتے اور جب آپ سجدے کرتے تو پہلی رکعت میں جو لوگ کھڑے رہے تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کرتے اور جن لوگوں نے پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کئے تھے، وہ اب کی بار کھڑے رہتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک صف والے سجدوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ جاتے تو کھڑے ہوئے لوگ اپنے سجدے کرکے بیٹھ جاتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں کو سلام میں جمع کر لیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2950]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 3/ 170، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2382»

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 3/ 170
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2951
عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا فَأْمُرْ أَصْحَابَكَ يَقُومُونَ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةٌ خَلْفَكَ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ وَيَسْجُدُ مَعَكَ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الَّتِي بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ قِيَامٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ يَسْجُدُونَ، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ هَؤُلَاءِ وَيَتَقَدَّمُ الْآخَرُونَ فَقَامُوا فِي مَصَافِّهِمْ فَتَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمْتَ وَسَلَّمَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ
سلیم بن عبد سلولی کہتے ہیں:ہم سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان کے علاقہ میں تھے، ان کے ہمراہ کچھ صحابہ بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا: آپ میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے پڑھی ہے۔ آپ اس طرح کریں کہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو جائیں۔ ایک گروہ آپ کے پیچھے ہو گا اور دوسرا دشمن کے سامنے۔ آپ اللہ اکبر کہیں گے، سب لوگ بھی اللہ اکبر کہیں گے۔ آپ رکوع کریں گے،سب لوگ بھی آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، آپ رکوع سے سر اٹھائیں گے، سب لوگ بھی رکوع سے سر اٹھائیں گے۔ لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو آپ کے ساتھ والی صف سجدے کرے گی اور دوسری صف والے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں گے۔ جب آپ سجدے کر لیں گے، تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، پھر پہلی صف والے پیچھے اور پچھلی صف والے آگے آ جائیں گے اور اسی طریقہ کے مطابق سب لوگ آپ کے ساتھ رکوع کریں گے، لیکن جب آپ سجدہ کریں گے تو پہلی صف والے لوگ آپ کے ساتھ سجدے کریں گے اور پچھلی صف والے کھڑے رہیں گے، جب آپ سجدے کر لیں گے تو دوسری صف والے لوگ سجدے کریں گے، اس کے بعد جب آپ سلام پھیریں گے تو سب لوگ آپ کے ساتھ سلام پھیریں گے۔نیز آپ اپنے ساتھیوں کو بتلا دیں کہ اگر دشمن حملہ آور ہو جائے تو ان کے لیے (نماز کے دوران) قتال اور کلام جائز ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2951]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سليم بن عبد السلولي تفرد بالرواية عنه أبو اسحاق السبيعي أخرجه ابن خزيمة: 1365، والبيھقي: 3/252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23847»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس سے ملتی جلتی نماز خوف کی ایک صورت صحیح مسلم (۸۴۰) کی سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان کی گئی ہے۔ اور یہ حدیث مسند احمد (۲۳۲۶۸، ۲۳۴۳۳) میں بھی صحیح سند کے ساتھ گزر چکی ہے، لیکن اس کا سیاق اس سے ذرا مختلف ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2952
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّ مِرَارٍ قَبْلَ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَكَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ فِي السَّنَةِ السَّابِعَةِ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ خوف سے پہلے چھ غزوے کئے تھے اور نماز خوف ہجرت کے ساتویں سال مشروع ہوئی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2952]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14751 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14810»
وضاحت: فوائد: … چھ غزوات سے مراد وہ غزوے ہیں، جن میں لڑائی ہوئی تھی، وہ بالترتیب یہ ہیں: غزوۂ بدر، غزوۂ احد، غزوۂ خندق، غزوۂ قریظہ، غزوۂ مریسیع، غزوۂ خیبر۔اس باب میں نمازِ خوف کی اس صورت کا ذکر ہے، جس کے مطابق دشمن، اسلامی فوج اور ان کے قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ نَوْعٍ ثَانٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً وَقَضَاءِ كُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً
نماز خوف کی دوسری صورت¤امام ہرگروہ کو ایک ایک رکعت پڑھائے اور لوگ ایک ایک رکعت الگ الگ پڑھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2953
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامُوا صَفَّيْنِ، فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلُ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلُوهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامُوا فَذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی، لوگ دو صفیں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئی اور دوسری دشمن کے مدمقابل رہی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ والی صف کو ایک رکعت پڑھائی۔ اس کے بعد یہ لوگ دشمن کے سامنے چلے گئے اور دوسری صف والے ان کے مقام پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اٹھ کر ایک ایک رکعت پڑھی اور پھر سلام پھیر کر میدان میں دشمن کے سامنے چلے گئے،وہ لوگ (جائے نماز کی طرف) لوٹے اور آ کر ایک ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد منقطع، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبد الله بن مسعود أخرجه أبوداود: 1244، 1245، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3561»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2954
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو نماز خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل رہا، پہلا گروہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا گیا اور دوسرے گروہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک رکعت پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو اِن لوگوں نے اور اُن لوگوں نے ایک ایک رکعت ادا کر لی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 942، 4132، 4133، ومسلم: 839، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6351، 6378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6351»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 942
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2955
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ صَلَّاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَفَّ وَرَاءَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا، وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، سَجَدَ مِثْلَ نِصْفِ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ فَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ
(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی۔ (اس کی تفصیل یہ تھی:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، ہم میں سے ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنا کر (نماز شروع کر دی) اور ایک گروہ دشمن پر متوجہ ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکوع اور دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، یہ رکعت نمازِ فجر کے نصف کے برابر تھی، پھر یہ لوگ پھر گئے اور دشمن کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے، پھر دوسرا گروہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے کی طرح ایک رکعت پڑھائی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو دو گروہوں میں سے ہر بندہ کھڑا ہوا اور علیحدہ علیحدہ دوسجدوں سمیت ایک ایک رکعت ادا کر لی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2955]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6377»
وضاحت: فوائد: … اس روایت سے یہ تو معلوم ہو رہا ہے کہ یہ فجر کی نماز نہیں تھی اور صحیح بخاری کی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ نمازِ عصر تھی۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6377
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2956
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
(تیسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نجد کی جانب ایک غزوہ میں شرکت کی، پس ہم دشمن کے سامنے آگئے …۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2956]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6378»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے نماز خوف کا یہ طریقہ ثابت ہوا کہ امام، لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کرے، ایک گروہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اور دوسرا دشمن کے سامنے کھڑا رہے، پہلی رکعت کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے کی جگہ پر آجائیں، پھر جب امام سلام پھیرے تو یہ ایک ایک رکعت ادا کر لیں۔ یہ کیفیت اس وقت ہو گی، جب دشمن قبلہ کی سمت میں نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6378
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں