🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ نَوْعٍ سَابِعٍ يَتَضَمَّنُ اشْتِرَاكَ طَائِفَةٍ مَعَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنْ قِيَامِهَا
نماز خوف کی ساتویں صورت¤ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2967
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ، قَالَتْ: فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صِدْعَيْنِ، فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ وَقَامَتْ طَائِفَةٌ تِجَاهَ الْعَدُوِّ، قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى، حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَاءِهِمْ، قَالَتْ: فَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ، فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمْ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا، لَا يُؤْلُونَ أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرِكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وادیٔ نخل میں ذات الرقاع کے مقام پر نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور ایک گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہونے والوں نے بھی اللہ اکبر کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اِن نمازیوں نے مل کر رکوع اور ایک سجدہ کیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، لوگوں نے بھی سر اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور انھوں نے دوسرا سجدہ از خود کیا، پھر کھڑے ہو گئے اور پچھلے پاؤں پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے، یہاں تک ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ اب دوسرا گروہ آ گیا، انہوں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنائی، اللہ اکبر کہا اور ازخود رکوع کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا سجدہ کیا، اِن لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، سجدہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور ان لوگوں نے دوسرا سجدہ خود کر لیا۔ اس کے بعد دونوں گروہ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے کئے تو سب لوگوں نے سجدے کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں سے اٹھے تو سب لوگ سجدوں سے اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سارے اعمال بہت جلدی سے سر انجام دیئے۔ جس قدر تخفیف ممکن تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی تخفیف کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سلام پھیرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شرکت کی سعادت حاصل کر چکے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2967]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه أبوداود: 1242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26886»
وضاحت: فوائد: … اس موقع پر پہرے کی جو ضرورت پہلی رکعت میں تھی، وہ دوسری رکعت میں نہیں تھی۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن أخرجه أبوداود: 1242
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ الصَّلَاةِ فِي شِدَّةِ الْخَوْفِ وَمَا يُبَاحُ فِيهَا مِنْ كَلَامٍ وَإِيمَاءٍ وَغَيْرِهِ
شدتِ خوف میں نماز کا طریقہ او راس میں کلام اور اشاروں وغیرہ کا جائز ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2968
عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ يَجْمَعُ لِي النَّاسَ لِيَغْزُونِي وَهُوَ بِعُرَنَةَ، فَأْتِهِ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اعْنِتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ، قَالَ: ( (إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيرَةً) ) ، قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى وَقَعْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ بِعُرَنَةَ مَعَ ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلًا، وَحِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُّ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقُشْعَرِيرَةِ، فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَاوَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ أُومِئُ بِرَأْسِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَٰذَا الرَّجُلِ، فَجَاءَ كَذَلِكَ، قَالَ: أَجَلْ أَنَا فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي، حَمَلْتُ عَلَيْهِ السَّيْفَ، حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي فَقَالَ: ( (أَفْلَحَ الْوَجْهُ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (صَدَقْتَ) ) الْحَدِيثِ
سیّدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح میرے مقابلہ کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے اور وہ اس وقت عُرَنَہ مقام میں ہے، تم جا ؤ اور اسے قتل کر دو۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کی کوئی علامت بیان فرمائیں،تاکہ میں پہچان لوں کہ یہ وہی شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو اس کی وجہ سے ایک دفعہ تم پر جھرجھری طاری ہو گی۔ پس میں نے تلوار لی اور اس کے پاس جا پہنچا۔ وہ واقعی عرنہ مقام میں اپنی عورتوں کے ساتھ تھا اور وہ ان کے لیے جگہ بنا رہا تھا۔ اُدھر نمازِ عصر کا وقت بھی ہو چکا تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مجھ پر جھرجھری طاری ہو گئی، میں اس کی طرف بڑھا۔ مجھے یہ خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی ایسا جھگڑا ہو جائے جو نماز سے غافل کر دے۔ اس لیے میں نے اس کی طرف چلتے چلتے ہی نماز پڑھنا شروع کر دی، اشارے سے رکوع و سجود کرتا گیا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا: کون ہو؟ میں نے کہا: ایک عربی ہوں، آپ کے بارے سنا ہے کہ آپ اس آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مقابلے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہے ہو، اسی لیے میں بھی حاضر ہوا ہوں، اس نے کہا: جی ہاں، میں اسی کوشش میں ہوں۔ پس میں اس کے ساتھ چلتا رہا، جب اس نے مجھے موقع دیا تو میں نے تلوار کے ساتھ اس پر حملہ کر دیا اور اسے قتل کر ڈالا اور اس حال میں وہاں سے نکل آیا کہ اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: کامیاب رہے ہو۔ میں عرض کیا: اے رسول اللہ! میں اسے قتل کر آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک کہتے ہو۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2968]
تخریج الحدیث: «ابن عبد الله بن أنيس، ھو عبد الله بن عبدا لله، لم يذكروا فيه جرحا ولا تعديلا ليكن يه روايت شواهد كي بنا پر صحيح هے، شرح ميں اس كي تفصيل ديكھيں۔ أخرجه أبو يعلي: 905، وابن خزيمة: 983، وابن حبان: 7160، وأخرجه مختصرا أبوداود: 1249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16143»

الحكم على الحديث: ابن عبد الله بن أنيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2969
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنَّ هَاجَهُمْ هَيْجٌ مِنَ الْعَدُوِّ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ
سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: آپ اپنے ساتھیوں سے کہہ دیں اگر (دوران نماز) دشمن حملہ آور ہوجائے تو ان کے لیے قتال اور کلام دونوں جائز ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2969]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سليم بن عبد السلولي تفرد بالرواية عنه أبو أِسحاق السبيعي تقدم مطوّلا برقم: 1734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23847»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2970
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو چھڑا دینے والی کو کثرت سے یاد کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2970]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 2307، وابن ماجه: 4258، والنسائي: 4/ 4، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7912»
وضاحت: فوائد: … سیّدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے مجاہدین سے کہا تھا کہ اگر (دوران نماز) دشمن حملہ کر دیں تو تمہارے لیے (نماز کی حالت میں ہی) لڑنا جائز ہو گا۔ (مسنداحمد: ۲۳۴۳۳)

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 2307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں