الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ نَوْعٍ ثَالِثٍ يَتَضَمَّنُ اقْتِصَارَ كُلِّ طَائِفَةٍ عَلَى رَكْعَةٍ مَعَ الْإِمَامِ بِدُونِ قَضَاءِ الثَّانِيَةِ
نماز خوف کی تیسری صورت¤ہر گروہ کا امام کے ساتھ والی ایک رکعت پر ہی اکتفا کرنا اور دوسری کی قضائی نہ دینا
حدیث نمبر: 2957
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ، أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقہ ذی قرد،، میں نمازِ خوف ادا کی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں دو صفیں بنا ئیں، ایک صف دشمن کے سامنے رہی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسروں کی جگہ پر چلے گئے اور وہ اِن کی جگہ پر آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بقیہ) ایک رکعت ان کو پڑھائی۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2957]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه النسائي: 3/ 169، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2063، 21592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21928»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پر ہی اکتفا کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کی تھیں، سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ثُمَّ انْصَرَفَ ھٰؤُلَائِ اِلٰی مَکَانِ ھٰؤُلَائِ وَجَائَ أُولٰئِکَ فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَۃً وَلَمْ یَقْضُوْا۔ یعنی: پھر یہ گروہ دوسرے گروہ کی جگہ پر چلا گیا اور وہ اِدھر آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور لوگوں نے (دوسری رکعت کی) قضائی نہیں دی۔ یہ مسئلہ درج ذیل حدیث، جو نماز خوف والے ابواب کے شروع میں گزر چکی ہے، سے بھی ثابت ہوتا ہے: عَنِ ابْنِ عَباَّسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاۃَ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْVعَلَی الْمُقِیْمِ أَرْبَعًا وَعَلَی الْمَسُافِرِ رَکَعَتَیْنِ وَعَلَی الْخَائِفِ رَکْعَۃً۔ (مسلم: ۶۸۷) سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر مقیم آدمی پر چار، مسافر پر دو اور خوف والے پر ایک رکعت فرض کی ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه النسائي: 3/ 169
حدیث نمبر: 2958
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نمازِ خوف پڑھائی، (اس کی کیفیت یہ تھی کہ) ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے کھڑی ہوگئی اور ایک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیچھے والوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ آگے بڑھے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور وہ آئے اور اِن کی جگہ پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں تھیں اور ان کی ایک ایک۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه النسائي: 3/ 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14229»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم أخرجه النسائي: 3/ 174
حدیث نمبر: 2959
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ، وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّونَ مَعَهُ وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین نے کہا:مسلمانوں کو عصر کی نماز اپنے آباء و اجداد اور اولادسے بھی بڑھ کر محبوب ہے۔ تیاری مکمل کر لو، ان پر یکدم حملہ کرناہے۔ اُدھر جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیں، ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اوردوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ کر کھڑا ہو جائے، پھر وہ دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھے اور یہ گروہ اپنی بچاؤ کی چیزیں اور اسلحہ پکڑ لے، اس طرح لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد أخرجه الترمذي: 3035، والنسائي: 3/ 174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10775»
وضاحت: فائدہ: … ممکن ہے کہ اس حدیث میں وہی واقعہ بیان کیا گیا ہے جو سیّدنا ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بیان ہو چکا ہے، اگر یہ تسلیم کیا جائے تو پھر مقتدیوں کی بھی دو دو رکعتیں ہوں گی۔ بہرحال دوسری احادیث سے صرف ایک رکعت کا ثبوت بھی فراہم ہو چکا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده جيّد أخرجه الترمذي: 3035
4. بَابُ نَوْعٍ رَابِعٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً وَانْتِظَارِهِ لِقَضَاءِ كُلِّ طَائِفَةٍ
نمازِ خوف کی چوتھی صورت¤امام ہر گروہ کو ایک ایک رکعت پڑھا کر اس قدر انتظار کرے کہ وہ لوگ دوسری رکعت خود پڑھ لیں
حدیث نمبر: 2960
عَنْ مُخْمِلِ بْنِ دَمَاثٍ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَأَلَ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ (ابْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) : أَنَا، صَلَّى بِطَائِفَةٍ مِنَ الْقَوْمِ رَكْعَةً وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُوَاجِهِي الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ
مخمل بن دماث کہتے ہیں: میں سعید بن عاص کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھا، انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف ادا کی ہے؟ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ یہ لوگ (ایک رکعت پڑھ کر) دشمن کے بالمقابل اپنے ساتھیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور پھر سلام پھیر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، مُخمِل بن دماث تفرد بالرواية عنه عطية بن الحارث، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، فھو مجھول الحال۔ أخرجه أبوداود مختصرا: 1246، والنسائي: 3/ 167، 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23268، 23352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23742»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازِ خوف ایک رکعت بھی ادا کی جا سکتی ہے، چونکہ کئی موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مقتدیوں کو دو دو رکعتیں بھی پڑھائیں، اس لیے یہ تأویل کرنا بہتر ہے کہ جب شدتِ خوف ہو اور دشمن کی طرف سے کسی حملے کا واقعی خطرہ ہو تو امام لوگوں کو ایک ایک رکعت پڑھا دے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2961
عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرِ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وَجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وَجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمَّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ مَالِكٌ وَهَٰذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ
صالح بن خوات ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی، اس نے بیان کیا کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صف بنالی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا۔ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے خود دوسری رکعت ادا کر لی اور پھر چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ماندہ رکعت پڑھی، پھر آپ اتنی دیر بیٹھے رہے، کہ یہ لوگ دوسری رکعت ادا کرکے (تشہد میں بیٹھ گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا۔ امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں:نماز خوف کے بارے جو کچھ میں نے سنا ہے اس میں سے یہ صورت مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4129، ومسلم: 842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23524»
وضاحت: فوائد: … واقعی یہ بڑی دلچسپ صورت ہے، جو ہمارے اسلام کے موقع شناس ہونے پر دلالت کرتی ہے۔پہلا گروہ دوسری رکعت ادا کرنے کے بعد تشہد اور سلام سے فارغ ہو کر جائے گا، جیسا کہ ابو داود کی روایت کے الفاظ ہیں: وَأَتَمُّوْا لِأَنْفُسِھِمُ الرَّکْعَۃَ الْبَاقِیَۃَ ثُمَّ سَلَّمُوْا وَانْصَرَفُوْا وَالْاِمَامُ قَائِمٌ۔ یعنی: اور انھوں نے دوسری رکعت پڑھی، سلام پھیرا اور پھر چلے گئے، جبکہ امام (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کھڑے رہے۔ دوسرا گروہ امام کے ساتھ سلام پھیرے گا اور امام ان کے سلام کا انتظار کرے گا، جیسا کہ اگلی حدیث کے ایک طریق سے معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ استدلال کرنا بھی درست ہے کہ جب مختلف منزلوں پر مشتمل مسجد میں خواتین و حضرات نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں اور سپیکر کے بند ہو جانے کی وجہ سے مقتدیوں کا امام کے ساتھ رابطہ بالکل منقطع ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں ایسے مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ امام کی اقتدا سے نکل کر نماز کا بقیہ حصہ خود ادا کر لیں، جیسا کہ اِس صورت میں صحابۂ کرام نے دوسری رکعت میں کیا۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4129
حدیث نمبر: 2962
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُومُ الْإِمَامُ وَصَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُوْمُ قَائِمًا حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً أُخْرَى (وَفِي رِوَايَةٍ) ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، بَدَلَ قَوْلِهِ ثُمَّ يَقُوْمُ قَائِمًا) ثُمَّ يَتَقَدَّمُونَ إِلَى مَكَانِ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ يَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَقُومُونَ مَقَامَ هَؤُلَاءِ فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْعُدُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ
سیّدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: امام نماز کے لیے کھڑا ہو جائے گا اور ایک صف اس کے پیچھے اور ایک صف اس کے آگے (یعنی دشمن کے سامنے) کھڑی ہو جائے گی۔ امام اپنے پیچھے والے لوگوں کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائے گا، اس کے بعد وہ کھڑا رہے گا، یہاں تک کہ یہ لوگ از خود دوسری رکعت پڑھ لیں۔ ایک روایت میں ہے: پھر امام اپنی جگہ پر بیٹھ جائے یہاں تک کہ وہ دوسری رکعت اور دوسجدے پورے کر کے اپنے ساتھیوں کے مقام پر چلے جائیں اور وہ آ کر (امام کے پیچھے) پہلے والوں کی جگہ پر کھڑے ہو جائیں، پس وہ ان کو دو سجدوں سمیت ایک رکعت پڑھائے اور پھر بیٹھ جائے گا، یہاں تک کہ وہ دوسری رکعت از خود ادا کر لیں، پھر امام ان پر سلام پھیر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4131، ومسلم: 841، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15801»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں ہے کہ امام کھڑے ہو کر انتظار کرے اور دوسری میں ہے کہ بیٹھ کر انتظار کرے، ان میں جمع و تطبیق کی یہ صورت ہے کہ جب تک پہلا گروہ دوسری رکعت ادا کرتا رہے، امام بیٹھا رہے اور جب وہ چلا جائے تو امام کھڑے ہو کر دوسرے گروہ کے آنے کا انتظار کرے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4131
5. بَابُ نَوْعٍ خَامِسٍ يَتَضَمَّنُ صَلَاةَ الْإِمَامِ بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ بِسَلَامٍ
نماز خوف کی پانچویں صورت¤امام ہر گروہ کو (الگ الگ) ایک سلام کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھائے
حدیث نمبر: 2963
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِبَعْضِ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَتَأَخَّرُوا، وَجَاءَ آخَرُونَ فَكَانُوا فِي مَكَانِهِمْ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَصَارَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے آ کر ان کے مقام پر کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه أبوداود: 1248، والنسائي: 3/ 178، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20408، 20497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20771»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات میں فرض نماز تو دو رکعت ہی تھی، اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جب امام نفل پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتدا میں فرض پڑھے جا سکتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسرے گروہ کو امامت کروا رہے تھے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفلی نماز تھی۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه أبوداود: 1248
حدیث نمبر: 2964
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غِرَّةً، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: ( (اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) ) ، فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟) ) قَالَ: كُنْ كَخَيْرِ آخِذٍ، قَالَ: ( (أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟) ) قَالَ: لَا، وَلَٰكِنِّي أُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: فَذَهَبَ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا كَانَ الظُّهْرُ أَوْ الْعَصْرُ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَطَائِفَةٌ صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا بِإِزَاءِ عَدُوِّهِمْ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَ لِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ، وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی نخل میں محارب خصفہ کے لوگوں سے لڑائی کے لیے تشریف لے گئے۔ جب ان لوگوں نے مسلمانوں میں غفلت کا مشاہدہ کیا تو ایک دشمن غورث بن حارث موقعہ پا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر تلوار لیے آ پہنچا اور بولا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ۔ اتنے میں تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، اب کی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ وہ بولا: آپ اس تلوار کو پکڑنے والے بہترین آدمی بن جائیں (یعنی مجھ پر احسان کریں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ البتہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ کے مقابلے میں آؤں گا اور نہ آپ کے ساتھ لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس گیا اور جا کر کہا: میں بہترین آدمی کے پاس سے آیا ہوں۔ پھر جب ظہر یا عصر کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی۔ لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ دشمن کے مقابلے میں رہا اور دوسرا گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے اور دوسرے گروہ کی جگہ پر یعنی دشمن کے بالمقابل کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ نماز کے لیے آ گئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں۔ اس طرح لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14928، 14929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14991»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 843
حدیث نمبر: 2965
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ، ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: ( (لَا) ) ، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: ( (اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمْنَعُنِي مِنْكَ) ) فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ وَتَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ ذات الرقاع مقام تک پہنچ گئے، جب ہم کسی سایہ دار درخت کے پاس آتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے۔ تو ایک مشرک آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی،اس نے یہ تلوار پکڑی اور اسے سونت کر کہا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ وہ بولا: تو پھر اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ صحابۂ کرام اس کو جھڑکنے لگے، پس اس نے تلوار میان میں ڈالی اور اسے لٹکا دیا، اتنے میں نماز کے لیے اذان دے دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر وہ لوگ چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور لوگوں کی دو دو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2965]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14990»
وضاحت: فوائد: … امام نووی کہتے ہیں کہ طحادی نے نمازِ خوف کی اس صورت کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مگر ان کا یہ دعویٰ ناقابل قبول ہے کیونکہ اس کے نسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے۔محارب، خصفہ کا بیٹا تھا اور خصفہ بن قیس کی چوتھی پشت پر مضر کا نام آتا تھا، قیس کی اولاد کے محاربی لوگ اسی محارب کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ یہ لڑائی غزوۂ ذات الرقاع کے موقع پر ہوئی۔اس واقعہ سے آپ کے حسن اخلاق کا بھی چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جانی دشمن کو اس قدر فراخ دلی کے ساتھ معاف کر دیا اور اس سے انتقام نہ لیا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14990
6. بَابُ نَوْعٍ سَادِسٍ يَتَضَمَّنُ اشْتِرَاكَ الطَّائِفَتَيْنِ مَعَ الْإِمَامِ فِي الْقِيَامِ وَالسَّلَامِ
نمازِ خوف کی چھٹی صورت¤دونوں گروہوں کا قیام اور سلام میں امام کے ساتھ شریک ہونا
حدیث نمبر: 2966
عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ، فَقَالَ: مَتَى؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَةُ الْعَدُوِّ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً ثُمَّ رَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَةُ الْعَدُوِّ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ إِلَى الْعَدُوِّ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَةُ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى رَكَعُوا مَعَهُ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعِدٌ وَمَنْ تَبِعَهُ، ثُمَّ كَانَ التَّسْلِيمُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ
مروان بن حکم نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیاکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس نے پوچھا: کب؟ انھوں نے کہا: غزوہ نجد کے موقع پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے، اِس گروہ کی پشت قبلہ کی جانب تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ والی صف نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدے کئے تو انہی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدے کئے۔ اس دوران دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدوں کے بعد (دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوئے تو یہ لوگ سجدوں سے اٹھ کر دشمن کے سامنے چلے گے اور وہ گروہ اِ س گروہ کی جگہ پر (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے) آ گیا، اِن لوگوں نے آ کر (پہلی رکعت کے) رکوع اور سجدے کیے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے رہے، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت ادا کی اور ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رکوع اور سجدے کیے، پھر دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والا گروہ آیا اور (دوسری رکعت) کے رکوع و سجود ادا کیے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ساتھ والے نمازی بیٹھے رہے، پھر سلام تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی دو رکعتیں تھیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کی بھی دو دو رکعتیں تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الخوف وهى أنواع/حدیث: 2966]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه أبوداود: 1240، والنسائي: 3/ 173، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8243»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجبوری میں قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ پہلی رکعت کے قیام میں ایک گروہ کی اور دوسری رکعت کے قیام میں دوسرے گروہ کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ کاش ان صورتوں سے بے نمازی لوگوں کو بھی شرم و حیا آ جاتا۔ غزوۂ نجد، غزوۂ ذات الرقاع ہی ہے، کیونکہ یہ نجد کی زمین میں تھا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه أبوداود: 1240