🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ كَرَاهَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ وَفَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ
موت کی تمنا کے مکروہ ہونے اور نیک عمل والی طویل عمر کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2991
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَشْتَكِي فَتَمَنَّى الْمَوْتَ فَقَالَ: ( (يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ! لَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ كُنْتَ مُسِيءًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ خَيْرٌ لَكَ فَلَا تَتَمَنَّ الْمَوْتَ) ) (وَفِي رِوَايَةٍ: وَإِنْ كُنْتَ مُسِيءًا فَإِنْ تُؤَخَّرْ تَسْتَعْتِبْ مِنْ إِسَائَتِكَ خَيْرٌ لَكَ)
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی تمنا کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہ کے چچا! موت کی تمنا مت کرو، اگر تم نیک ہو تو زندہ رہ کر نیکیوں میں اضافہ کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر برے ہو تو زندہ رہنے کی صورت میں توبہ کر سکتے ہو، لہٰذا یہ بھی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ پس موت کی خواہش نہ کرو۔ ایک روایت میں ہے: اگر تم بدعمل ہو تو موت کی تاخیر کی صورت میں بدعملی سے توبہ کر نا تمہارے لیے بہترہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2991]
تخریج الحدیث: «اسناده ضيعف، لجھالة ھند بنت الحارث الخثعمية أخرجه الحاكم: 1/ 339، والطبراني: 25/ 44، وابن سعد: 4/ 23، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27411»

الحكم على الحديث:
اسناده ضيعف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2992
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَكَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مِتُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا سَعْدُ! أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟) ) فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ( (يَا سَعْدُ! إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمُرُكَ أَوْ حَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ) )
سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور اتنی رقت آمیز گفتگو فرمائی کہ سیّدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رونے لگے اور خوب روئے، بیچ میں انھوں نے یہ بھی کہا: کاش میں مر چکا ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! کیا تم میرے پاس موت کی تمنا کر رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔ پھر فرمایا: اے سعد! اگر تم جنت کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو تمہاری عمر جس قدر طویل ہوگی یا اعمال جس قدر اچھے ہوں گے وہ اتنے ہی تمہارے حق میں بہتر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2992]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا من أجل علي بن يزيد الألھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:22293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22649»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا من أجل علي بن يزيد الألھاني أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7870
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2993
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا تَمَنَّوْا الْمَوْتَ فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم موت کی تمنا نہ کیا کرو،کیونکہ (موت کے بعد والے) امور کی گھبراہٹ بھی بڑی سخت ہے، خوش بختی یہ ہے کہ بندے کی عمر لمبی ہو اور اللہ تعالیٰ اسے توبہ کرنے کی توفیق دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2993]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 3240، 3422، والحاكم: 4/ 240، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 10589، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14618»
وضاحت: فوائد: … ”الْمُطَّلَعِ“ سے مراد وہ امور ہیں جس پر انسان برزخی زندگی میں اور پھر قیامت کے دن اطلاع پائے گا، جبکہ وہ امور، دنیاوی احوال کے مقابلے میں کئی گنا سخت ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیوی پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے خود کشی کرنے والا بڑے عذاب میں پھنس جاتا ہے، الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے۔ لہٰذا ہمیں موت کو دنیاوی آزمائشوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے اور زندگی کو بڑی غنیمت سمجھ کر اعمال صالحہ کی کثرت اور رجوع الی اللہ کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 3240
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2994
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ أَتَيْنَا خَبَّابًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعُودُهُ فَقَالَ: لَوْ لَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ) ) لَتَمَنَّيْتُهُ
حارثہ کہتے ہیں: ہم سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے، انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہر گز موت کی تمنا نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد فيه شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ أخرجه الترمذي: 2483، وابن ماجه: 4163۔ وأخرجه البخاري: 6430، ومسلم: 2681 بلفظ: لولا أن رسول اللهV نھانا أن ندعو بالموت، لدعوت به۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21054، 21059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21368»
وضاحت: فوائد: … اس وقت سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ شدید زخمی تھے اور جسم کے سات مقامات پر ان کو داغا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سخت تکلیف سے دوچار تھے، لیکن صبر کا دامن تھامے رکھا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2995
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَجِعٌ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَاصْبِرْنِي، قَالَ: ( (مَا قُلْتَ؟) ) فَأَعَدْتُّ عَلَيْهِ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: ( (مَا قُلْتَ؟) ) قَالَ: فَأَعَدْتُّ عَلَيْهِ فَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ عَافِهِ أَوْ اشْفِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: اللَّهُمَّ اشْفِهِ بِدُونِ شَكٍّ) ) ) ، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ ذَلِكَ الْوَجَعَ بَعْدُ
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں بیمار تھا اور یہ کہہ رہا تھا: یا اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو (موت دے کر) مجھے راحت عطا فرما،اگر موت آنے میں دیر ہے تو مجھے اٹھا لے اور اگر یہ میری آزمائش ہے تو مجھے صبر کی توفیق عطا فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیا کہا ہے؟ جب میں نے اپنے الفاظ دہرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور فرمایا: کیا کہا تم نے؟ میں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو عافیت دے۔ یا فرمایا کہ اے اللہ! اس کو شفا دے۔ ایک روایت میں شک کے بغیر صرف یہ الفاظ ہیں: اے اللہ! اس کو شفا دے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے اس تکلیف کی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3564، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:637، 841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 637»
وضاحت: فائدہ: … معلوم ہواکہ کسی بیماری اور تکلیف سے گھبرا کر موت کی دعا کرنامنع ہے، اگرکوئی آدمی تنگ ہو کر ایسی دعا کرے تو اسے سمجھانا چاہئے اور اس کے لیے صحت اور شفا یابی کی دعا کرنی چاہئے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 3564
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2996
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَاتَتْ فُلَانَةُ وَاسْتَرَاحَتْ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَنْ غُفِرَ لَهُ) ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں عورت فوت ہو گئی ہے اور راحت پا گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آگے اور فرمایا: صرف اور صرف راحت تو وہ پاتا ہے جو جنت میں داخل ہوتا ہے، دوسری روایت میں ہے: جس کو بخش دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2996]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن لھيعة، وان كان يحيي من قدماء أصحابه سماع قتيبة منه، تفرد برفعه، ومرسله ھو الصحيح أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 9375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:24399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24903»
وضاحت: فوائد: … ہم کسی مرنے والے کسی نیک یا بد کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ راحت پا گیا ہے یا عذاب میں پھنس گیا ہے، کیونکہ اس چیز کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے کہ حقیقت میں کون نیک ہے، کون برا ہے اور کس کی نیکیاں قبول نہیں ہوئیں اور کس کی برائیاں معاف کر دی گئی ہیں۔ ہم حسن ظن یا سوئے ظن کی روشنی میں اپنے اندازے کا اظہار کر سکتے ہیں، نہ کہ حتمی نتیجے کا۔ بہرحال مرنے کے بعد جنت میں داخل ہونے والا حقیقی راحت پا جاتا ہے اور جس کو جنت نہیں ملتی وہ بڑی مصیبت سے دوچار ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن ہستیوں کا نام لے کر ان کے جنتی ہونے کی وضاحت کر دی، ان کے بارے میں بالیقین یہ کہنا درست ہے کہ وہ راحت پا گئی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ فَضْلِ طُولِ الْعُمُرِ مَعَ حُسْنِ الْعَمَلِ وَفَضْلِ مَنْ مَاتَ غَرِيبًا
نیک عمل والی طویل عمر اور اجنبیت والی موت مرنے والے کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2997
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ( (مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ) ) ، قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: ( (مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ) )
سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل اچھا ہو۔ اس نے پھر پوچھا: لوگوں میں سب سے برا آدمی کونسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2997]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا اسناد فيه علي بن زيد بن جدعان أخرجه الترمذي: 2330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20415، 20491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20686»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے لمبی زندگی کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ: أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنْ بَلِیٍّ، وَھُوَ حَیٌّ مِنْ قُضَاعَۃَ، قُتِلَ أَحَدُھُمَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَاُخِّرَ الآخَرُ بَعْدَہٗ سَنَۃً ثُمَّ مَاتَ، قَالَ طَلْحَۃُ: فَرَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ الْجَنَّۃَ فُتِحَتْ، فَرَأَیْتُ الآخَرَ مِنَ الرَّجُلَیْنِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ قَبْلَ الأَوَّلِ، فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ ذَکَرْتُ ذٰلِکَ، فَبَلَّغْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِVفَقَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِV: ((أَلَیْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَہٗ رَمَضاَنَ، وَصَلّٰی بَعْدَہٗ سِتَّۃَ آلآفِ رَکْعَۃٍ، وَکَذاَ وَکَذَا رَکْعَۃً لِصَّلَاۃِ السُّنَّۃِ۔)) (رواہ البیھقی فی ”الزھد“: ۷۳/۲، وأخرج ابن ماجہ: ۳۹۲۵، وابن حبان: ۲۴۶۶ نحوہ، لکن أتم منہ۔ وکذا رواہ احمد: ۱/ ۱۶۱، ۱۶۳، الصحیحۃ: ۲۵۹۱) ”طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قضاعہ کے بلی قبیلے کے دو آدمی تھے، ان میں ایک شہید ہو گیا اور دوسرااس سے ایک سال بعد فوت ہوا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خواب آیا کہ جنت کا دروازہ کھولا گیا اور بعد میں فوت ہونے والا، شہید ہونے والے سے پہلے جنت میں داخل ہوا، مجھے بڑا تعجب ہوا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا تذکرہ کیا اور بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے (ایک سال پہلے شہید ہونے والے کے بعد)رمضان کے روزے نہیں رکھے اور ایک سال کی (فرضی نمازوں کی) چھ ہزار اور اس سے زائد اتنی اتنی نفل رکعتیں ادا نہیں کیں؟“

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2998
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِكُمْ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا) )
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوں کہ تم میں سب سے بہتر آدمی کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور وہ اچھے عمل کرنے والے ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 254، والبزار: 1971، وابن حبان: 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7211»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 254
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2999
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا بَلَغَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَرْبَعِينَ سَنَةً آمَنَهُ اللَّهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْبَلَاءِ مِنَ الْجُنُونِ وَالْبَرَصِ وَالْجُذَامِ، وَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِينَ لَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ حِسَابَهُ، وَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ إِنَابَةً، يُحِبُّهُ عَلَيْهَا، وَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنْهُ حَسَنَاتِهِ وَمَحَا عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ، وَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَسُمِّيَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ وَشُفِّعَ فِي أَهْلِهِ
امام ہیثمی نے کہا: بزار نے اس حدیث کو دو سندوں کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے، ان میں سے ایک کے راوی ثقہ ہیں۔سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب مسلمان آدمی چالیس برس کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنون، پھلبہری اور کوڑھ سے محفوظ کر دیتا ہے، جب وہ پچاس سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اس کا حساب نرم کر دیتا ہے، جب وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اسے رجوع الی اللہ کی ایسی توفیق ملتی ہے کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے،جب وہ ستر سال کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے اور اہل آسمان بھی، جب اس کی عمر اسی سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں قبول کرتا ہے اور اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور جب اس کی عمر نوے سال ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے اور زمین میں اللہ کا قیدی اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے اہل و عیال کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لضعف فرج بن فضالة، ومحمدُ بن عامر لم نعرف من ھو أخرجه مرفوعا البزار: 3587، ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5626»
وضاحت: فوائد: … ”اللہ کا قیدی“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ موت کا منتظر پھر رہا ہوتا ہے، اِس وقت آئی یا اُس وقت آئی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا لضعف فرج بن فضالة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3000
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ سِتُّونَ سَنَةً، فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ) )
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی عمر ساٹھ سال ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کا عمر کے بارے میں عذر ختم کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:7713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 824»
وضاحت: فوائد: … ساٹھ سال عمر پانے والے لوگوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمر اتنا لمبا پیریڈ ہے کہ اس میں سبق حاصل کرنے والے اپنے انجام بخیر کے اسباب جمع کر سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کے پاس حج وعمرہ کے اسباب ہوں، لیکن اس نے اِس عمر تک یہ فریضہ ادا نہ کیا ہو تو اسے سب سے پہلے اسی فریضہ کی تکمیل کرنی چاہیے۔ اس حدیث سے یہ اشارہ بھی ملتاہے کہ ساٹھ سال زندگی ختم ہونے کا مظنہ ہے، اس عمر کے بعد اچھے انداز میں موت کا انتظار ہونا چاہیے، ویسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَعْمَارُ أُمَّتِیْ مَا بَیْنَ السِّتِّیْنَ اِلَی السَّبْعِیْنَ وَأَقَلُّھُمْ مَنْ یَجُوْزُ ذَالِکَ۔)) (ترمذی:) یعنی: ”میری امت کی عمریں ساٹھ سے ستر برس کے درمیان درمیان ہیں، کم ہی لوگ ہیں جو اس مقدار سے تجاوز کریں گے۔“

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6419
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں