🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحْتَضَرِ وَتَلْقِينِهِ كَلِمَةَ التَّوْحِيدِ وَحُضُورِ الصَّالِحِينَ عِنْدَهُ وَعَرَقِ جَبِينِهِ
قریب الموت کو کلمۂ توحید کی نصیحت کرنا، اس کے پاس نیک لوگوں کا حاضر ہونا¤اور اس کی پیشانی کا پسینہ، ان امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3011
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ (الْأَسْلَمِي) عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ بِخُرَاسَانَ فَعَادَ أَخًا لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَوَجَدَهُ بِالْمَوْتِ، وَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ جَبِينُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ) )
سیّدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ خراسان میں تھے، وہاں وہ اپنے ایک بیمار بھائی کی عیادت کے لیے گئے، جبکہ وہ فوت ہونے والا تھا اور اس کی پیشانی پسینہ آلود تھی، یہ دیکھ کر انھوں نے کہا: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: مومن کی موت اس کی پیشانی کے پسینے کے ساتھ ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3011]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1452، والترمذي: 982، والنسائي: 4/ 5، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22964، 23022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23410»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1452
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3012
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ
(دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن پیشانی کے پسینہ کے ساتھ فوت ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3012]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23352»
وضاحت: فوائد: … اس موقع پر پسینہ آنے کی درج ذیل تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23352
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3013
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنَّا نُؤْذِنُهُ لِمَنْ حُضِرَ مِنْ مَوْتَانَا فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ، قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ فَشَقَّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ، قَالَ: فَكُنَّا إِذَا مَاتَ مِنَّا الْمَيِّتُ، أَذَنَّاهُ بِهِ فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ، انْتَظَرَ شُهُودَهُ وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ، قَالَ: فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى، قَالَ: فَقُلْنَا: أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ وَلَا نُشْخِصَهُ وَلَا نُعَنِّيَهُ، قَالَ: فَقُلْنَا ذَلِكَ فَكَانَ الْأَمْرُ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو ہم میں سے جب کسی آدمی کی وفات کا وقت قریب آتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی وفات سے پہلے ہی تشریف لے آتے اور اس کے پاس ٹھہرے رہتے، اس کے حق میں مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے اور اس کی وفات کا انتظار کرتے، بسا اوقات اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کافی دیر ہو جاتی اور یہ معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شاق گزرتا۔ اس کے بعد ہم نے سوچا کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات سے پہلے اطلاع نہ کیا کریں۔ پس بعد ازاں ایسے ہوتا کہ جب ہم میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دیتے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے اہل و عیال کے ہاں تشریف لا کر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے اور نماز جنازہ پڑھاتے، اس کے بعد اگر مناسب سمجھتے تو دفن تک ٹھہر جاتے اور مناسب سمجھتے تو پہلے ہی تشریف لے جاتے۔ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک عرصہ تک یہی طریقہ جاری رہی، اس کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے آسانی اس میں ہے کہ ہم میت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر اٹھا کر لے جایا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر سے نہ نکالا کریں اور (اہل میت کے گھر آنے کی) تکلیف نہ دیا کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3013]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير فليح بن سليمان الخزاعي، فقد تكلم بعض الائمة في حفظه، وضعفه يحيي بن معين، والنسائي، وابوداود، وقال الساجي: ھو من أھل الصدق، وكان يھم، وقال الدارقطني: مختلف فيه ولابأس به، وقال الحافظ في ’’التقريب‘‘: صدوق، كثير الخطأ أخرجه ابن حبان: 3006، والحاكم: 1/ 357، والبيھقي: 4/ 74، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11651»
وضاحت: فوائد: … یہ حقائق ہمیں بھی سمجھنے چاہئیں کہ آج کل بعض اہل علم کے بارے میں عوام کی عقیدت زیادہ ہوتی ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں دم کروانے کے لیے ان کو ترجیح دیتے ہیں، نمازِ جنازہ کے لیے ان ہی کا انتخاب کرتے ہیں اور نکاح اور دوسری دعوتوں میں بھی ان کی شرکت کو ضروری سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ ایک علاقے میں اس قسم کا عالم ایک ہی ہوتا ہے، اب وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے، کس کو چھوڑے اور کس کو نہ چھوڑے، جبکہ اس نے زندگی بھی گزارنی ہے اور اپنے بیوی بچوں کا نظام بھی چلانا ہے، اس لیے اگر بعض اوقات ایسے لوگ ہماری خواہش کی تکمیل نہ کر سکیں تو ان کے بارے میں نرم رویہ ہونا چاہیے اور ان کے خلاف زبان کھولنے سے محفوظ رہنا چاہیے۔ یہی معاملہ رات کو خطاب کرنے والے اہل علم اور خطباء کا ہے کہ عوام تقریر کے لیے وقت لیتے اتنا اصرار کرتے ہیں کہ چاروناچار ہاں میں ہاں ملانا پڑتی ہے، لیکن بعد میں ایسی مجبوریاں کھڑی ہو جاتی ہیں کہ وہ پہنچ نہیں پاتے، ایسی صورت میں دیکھا یہ گیا ہے کہ عوام آگ بگولا ہو کر اس خطیب کی مخالفت میں برس پڑتے ہیں، بلکہ بسا اوقات اس پر کیس بھی کر دیتے ہیں اوراپنی کانفرنس کے خرچے کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ روحِ اسلام سے دور ہیں اور اس سے غافل ہیں کہ اِن اہل علم کا ان پر کیا حق ہے اور ان کا ان کے بارے میں کیا رویّہ ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غير فليح بن سليمان الخزاعي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ قِرَاءَةِ يس عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَمَا جَاءَ فِي شِدَّةِ الْمَوْتِ وَنَزْعِ الرُّوحِ وَتَغْمِيضِ
قریب الموت کے پاس سورۂ یس کی تلاوت کرنے، شدتِ موت، روح کے عالَم نزع¤میت کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے لیے دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3014
عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي الْمَشِيخَةُ، أَنَّهُمْ حَضَرُوا غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُّمَالِيَّ حِينَ اشْتَدَّ سَوْقُهُ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ يَسْ؟ قَالَ: فَقَرَأَهَا صَالِحُ بْنُ شُرَيْحٍ السَّكُونِيُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ مِنْهَا قُبِضَ، قَالَ: فَكَانَ الْمَشِيخَةُ يَقُولُونَ إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَيِّتِ خُفِّفَ عَنْهُ بِهَا، قَالَ صُفْوَانُ وَقَرَأَهَا عِيسَى بْنُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ
صفوان کہتے ہیں:مجھے بزرگوں نے بیان کیا کہ وہ غضیف بن حارث ثمالی کے ہاں گئے، جبکہ (وہ عالَم نزع میں تھے اور) روح کے نکلنے میں شدت تھی، ایک بندے نے کہا: کیا تم میں سے کوئی سورۂ یٰسین پڑھ سکتا ہے؟ جواباً صالح بن شریح سکونی نے سورۂ یس کی تلاوت کی اور ابھی تک وہ چالیسویں آیت تک پہنچے تھے کہ ان کی روح قبض ہو گئی۔ اسی لیے اہل علم کہا کرتے تھے کہ جب یہ سورت کسی قریب الموت پر پڑھی جاتی ہے تو اس پر اس کی وجہ سے تخفیف کر دی جاتی ہے۔ صفوان کہتے ہیں کہ عیسی بن معتمر نے ابن معبد پر پڑھی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3014]
تخریج الحدیث: «أثر اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17094»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ صحیحہ میں مریض، قریب الموت یا میت کے پاس اس کے حق میں دعائیں کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
أثر اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3015
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يَسْ قَلْبُ الْقُرْآنِ، لَا يَقْرَأُهَا رَجُلٌ يُرِيدُ اللَّهَ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ غُفِرَ لَهُ، وَاقْرَأُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ) )
سیّدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورۂ یٰس قرآن مجید کا دل ہے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی کامیابی کے لیے اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے اور تم فوت ہونے والے کے قریب اس سورت کی تلاوت کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3015]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه، وسمّي في رواية بأبي عثمان، ولا يعرف أخرجه النسائي في ’’عمل اليوم والليلة‘‘: 1075، والطبراني: 20/ 511۔ وأخرجه أبوداود: 3121، وابن ماجه:1448 مختصرا بلفظ: ((اقرء وھا علي موتاكم۔)) يعني يس۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20300، 20301 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20566»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال سورۂ یس عقائد کے اصول، توحید کے اثبات، ایک سے زیادہ معبودوں کی نفی، قیامت کی علامتوں اور حساب و کتاب کے احوال پر مشتمل ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل وأبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3016
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اقْرَأُوهَا عَلَى مَوْتَاكُمْ) ) يَعْنِي يَسْ
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم قریب الموت پر سورۂ یٰسین کی تلاوت کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3016]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20567»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20567
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3017
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَيِّتَ أَوْ الْمَرِيضَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ) ) ، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: ( (قُولِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً) ) ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَأَعْقَبَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُوَ خَيْرٌ لِي مِنْهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی مریض یا قریب الموت کے پاس جاؤ تو خیر والی بات کیا کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول!ابو سلمہ فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبًی حَسَنَۃَ (یا اللہ! مجھے اور اس کو بخش دے اور مجھے اس کا بہتر بدلہ عطا فرما۔) پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بدلے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کیے جو میرے حق میں اس سے بہتر تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3017]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27030»
وضاحت: فوائد: … خیر والی بات سے مراد دعا و استغفار کرنا، اس باب کی آخری حدیث کی شرح دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 919
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3018
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ خَلَقَهُ اللَّهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں، ان میں سے آدم کے بیٹے کے لیے سب سے سخت چیز موت ہے اور پھر موت اپنے سے بعد والے مراحل کی بنسبت بہت آسان بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3018]
تخریج الحدیث: «اس كي سند ضعيف هے، سُكَين مختلف فيه، وأبوه عبد العزيز بن قيس العبدي جھّله أبوحاتم وابن خزيمة، ووثقه ابن حبان والعجلي، وقال ابن حجر في ’’التقريب‘‘: مقبول أخرجه الطبراني في ’’الأوسط‘‘: 1997، وابن عدي في ’’الكامل‘‘: 3/ 1301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12594»

الحكم على الحديث:
اس كي سند ضعيف هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3019
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ، وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیالہ پڑا ہوا تھا، اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا ہاتھ پیالے میں داخل کرتے، پھر اسے اپنے چہرے پر پھیرتے اور یہ دعا کرتے: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّی عَلٰی سَکَرَاتِ الْمَوْتِ۔ (یا اللہ! موت کی شدتوں میں میری مدد فرما)۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3019]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه الترمذي: 978، وابن ماجه: 1623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24860»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس أخرجه الترمذي: 978
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3020
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قُبِضَ أَوْ مَاتَ وَهُوَ بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي، فَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سینہ اور ٹھوڑی کے درمیان تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت کا منظر دیکھنے کے بعد اب کسی کے لیے موت کی شدت کو ناپسند نہیں کرتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجنائز/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4446، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24987»
وضاحت: فوائد: … ”حَاقِنَۃ“: دونوں ہنسلیوں کا درمیانی گڑھا
”ذَاقِنَۃ“: گلے کا ابھرا ہوا کنارہ، ٹھوڑی کے نیچے کا حصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک ان کے سینے پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم موت کے شدائد میں مبتلا تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں