الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ عَلَى الْقُبُورِ
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3341
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: ( (لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى فَإِنَّهُمُ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) ) ، قَالَتْ: وَلَوْلَا ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ، غَيْرَ أَنَّهُ خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بیماری کے دوران فرمایا، جس سے صحت یاب نہ ہو سکے:”اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔“ پھر سیدہ نے کہا: اگر اس بات کا خطرہ نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کو بھی (گھر سے باہر) واضح طور پر بنایا جاتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3341]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1330،ومسلم: 529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25018»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1330
حدیث نمبر: 3342
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَخْرِجُوا يَهُودَ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ شِرَارَ النَّاسِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) )
سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے آخری بات یہ فرمائی تھی: حجاز کے یہودیوں اور نجران والوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دو اور یاد رکھو کہ سب سے برے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3342]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه الطيالسي: 229،والدارمي: 2498، والبزار: 439، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 4/ 12، والبيھقي: 9/ 208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1691»
وضاحت: فوائد:ان احادیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانا، ان پر مسجدیں تعمیر کرنا اور ان پر سجدہ کرنا شرعاً حرام ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدناعمر رضی اللہ عنہا کی قبریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بنائی گئی تھیں تو اس وقت وہ جگہ مسجد نبوی کا حصہ نہیں تھی، بعدمیں کی جانے والی توسیع کی وجہ سے اس مقام کو مسجدکی حدود نے گھیر لیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح أخرجه الطيالسي: 229
39. باب
قبروں کی زیارت کے بارے میں ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: Q3343]
40. بَابُ اسْتِحْبَابِهَا لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ
اس امر کا بیان کہ قبروں کی زیارت صرف مردوں کے لیے مستحب ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے
حدیث نمبر: 3343
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِي بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت، (چند مخصوص) برتنوں اور تین دنوں کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت یاد دلائے گی، نیز میں نے تمہیں کچھ برتنوں سے منع کیاتھا، اب تم ان میں بھی پی سکتے ہو، لیکن ہر نشہ دینے والی چیز سے بچو اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد تک قربانی کے گوشت کوبچا رکھنے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو اسے رکھ سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3343]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه ابويعلي: 278 ورواه ابن ابي شيبة: 8/111 مختصر بلفظ: ((كنت نھيتكم عن ھذه الاوعية، فاشربوا فيھا واجتنبوا ما اسكر۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1236»
وضاحت: فوائد: بعض لوگوں کے فقرو فاقہ کی بنا پر قربانی کا گوشت تین ایام کے بعد تک ذخیرہ کرنے سے منع کیا گیا تھا، اسی طرح شراب کی حرمت کے موقع پر ان برتنوں کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا: کدو سے بنایا ہوا مٹکا‘ کھجور کے تنے کو کرید کر بنایا ہوا برتن‘ روغن کیا ہوا برتن اورپرانا سبز مٹکا۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں امور کی اجازت دے دی تھی۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره أخرجه ابويعلي: 278 ورواه ابن ابي شيبة: 8/111 مختصر بلفظ: ((كنت نھيتكم عن ھذه الاوعية
حدیث نمبر: 3344
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی روایت بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23346»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 977
حدیث نمبر: 3345
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِيهِ: ( (وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَإِنْ زُرْتُمُوهَا فَلَا تَقُولُوا هُجْرًا) )
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، لیکن اب اگر تم قبرستان کی زیارت کرو توکوئی فحش بات نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث: «حديث صحيحؒ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/ 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11606، 11627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11650»
الحكم على الحديث:
حديث صحيحؒ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/ 485
حدیث نمبر: 3346
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تو تھا، لیکن پھرمجھے خیال آیا ان کی زیارت سے دلوں میں رقت پیدا ہوتی ہے، آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور آخرت یاد آتی ہے، لہٰذاتم قبروں کی زیارت کیا کرو، لیکن کوئی فحش کام نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3346]
تخریج الحدیث: «صحيح بطرقه و شواهده أخرجه تام و مقطعا ابن ابي شيبة: 3/ 342، 8/ 159، وابويعلي: 3705، 37006، والحاكم: 1/ 376، والبيھقي: 4/ 77، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13521»
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه و شواهده أخرجه تام و مقطعا ابن ابي شيبة: 3/ 342
حدیث نمبر: 3347
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اور خود بھی روئے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی رلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے یہ اجازت طلب کی کہ میں اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت کروں؟ لیکن مجھے اجازت نہیں دی گئی۔پھر جب میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دے دی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت یاد دلاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3347]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9686»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 976
41. فَضْلٌ مِنْهُ مَا جَاءَ فِي لَعْنِ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسَّرْجُ
قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں¤اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کا بیان
حدیث نمبر: 3348
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور قبروں پر چراغ جلانے والوں پر لعنت کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3348]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون ذكر السرج، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي صالح باذام مولي ام ھانيئؒ أخرجه ابوداود: 3236، وابن ماجه: 1575، والترمذي: 320، والنسائي: 4/ 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2030، 2984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2984»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره دون ذكر السرج
حدیث نمبر: 3349
عَنْ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت سے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3349]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره أخرجه ابن ماجه: 1574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15742»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره أخرجه ابن ماجه: 1574