🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ
عذاب قبر اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3311
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ابْنَةُ أَبِي سُفْيَانَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ، لَنْ يُعَجَّلَ شَيْءٌ قَبْلَ حِلِّهِ أَوْ يُؤَخَّرَ شَيْءٌ عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ كَانَ أَخْيَرَ وَأَفْضَلَ) )
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی: یا اللہ! مجھے میرے شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، باپ ابوسفیان اور بھائی معاویہ سے فائدہ اٹھانے کاموقع عطا فرما، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اللہ تعالیٰ سے ایسی باتوں کا سوال کیا ہے جن کے اوقات اور ایام مقرر کیے جا چکے ہیں اور ان کے رزق بھی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ کوئی چیز اپنے مقرر وقت سے مقدم یا موخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ میں رکھے تو یہ تیرے لیے بہتر اور افضل ہوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3311]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3700»
وضاحت: فوائد: … ”فائدہ اٹھانے کا موقع عطا فرما۔“ اس دعا کا معنی یہ ہے کہ یہ تینوں ہستیاں لمبی عمر پائیں، تاکہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ان سے مستفید ہوتی رہے۔ اگر لوگوں کی عمراور رزق کا فیصلہ ہو چکا ہے تو عذاب یا نجات کی تقدیر بھی تو لکھی جا چکی ہے، لہٰذا اول الذکر سے روک کر مؤخر الذکر کا سوال کرنے کا حکم دینے میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جہنم یا قبر کے عذاب سے نجات پانے کی دعا کرنا عبادت ہے اور شریعت میں عبادات کا ہی حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ جب تقدیر کے سلسلے میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: کیا ہم اپنی کتاب اور تقدیر فیصلے پر اعتماد نہ کر لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِعْمَلُوْا فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہٗ۔)) یعنی: ”عمل کرو، پس ہر شخص کو اس عمل کے لیے آسان کر دیا گیا ہے، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔“ جب کہ لمبی عمر کی دعا کرنا عبادت نہیں، اس لیے جیسے ہم تقدیر کا سہارا لے کر صوم وصلاۃ کو ترک نہیں کر سکتے، اسی طرح جہنم سے نجات کی دعا کو بھی ترک نہیں کیا جا سکتا۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2663
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا فِي عَذَابِ الْكُفَّارِ وَالْيَهُودِ فِي الْقَبْرِ
قبر میں کفار اور یہود کو عذاب دیے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3312
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا، تَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، فَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضْرَاءَ) )
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبر میں کافر پر ننانوے اژدھے مسلط کر دیئے جاتے ہیں، جو قیامت کے قائم ہونے تک اسے ڈستے رہتے ہیں، (وہ اس قدر زہریلے ہیں کہ) اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تووہ سبزہ نہ اگا سکے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3312]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف دراج أبي السمح في روايته عن ابي الھيثم أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 175، وابن حبان: 3121، والدارمي: 2/ 331، وابويعلي 1329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11354»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف دراج أبي السمح في روايته عن ابي الھيثم أخرجه ابن ابي شيبة: 13/ 175
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3313
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (يُرْسَلُ عَلَى الْكَافِرِ حَيَّتَانِ، وَاحِدَةٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ وَأُخْرَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ تَقْرُضَانِهِ قَرْضًا، كُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر پر دو سانپ چھوڑے جاتے ہیں، ایک سر کی طرف سے اور دوسرا پاؤں کی طرف سے، دونوں اسے بار بار کاٹتے رہتے ہیں، جب وہ ایک دفعہ فارغ ہو جاتے ہیں تو دوبارہ لوٹ آتے ہیں، قیامت کے دن تک ایسے ہوتا رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام محمد، وعلي بن زيد بن جدعان ضعيف أخرجه الخطيب في ’’تاريخه‘‘: 2/ 384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25704»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ام محمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3314
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لَنَا لِأَبِي طَلْحَةَ يَتَبَرَّزُ لِحَاجَتِهِ قَالَ: وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ يُكَرِّمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ، فَمَرَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَامَ حَتَّى تَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا بِلَالُ! هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟ فَقَالَ: مَا أَسْمَعُ شَيْئًا، قَالَ: ( (صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ) ) ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ يَهُودِيًّا
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدناابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے کھجوروں کے باغ میں قضائے حاجت کے لیے گئے، سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نہ کہ پہلو بہ پہلو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے اور وہاں ٹھہر گئے، یہاں تک سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! تم ہلاک ہو جاؤ، جو کچھ میں سن رہا ہوں، تم بھی سن رہے ہو؟ انھوں نے کہا: میں تو کچھ نہیں سن رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس قبر والے کو عذاب دیا جارہا ہے۔ پھر اس کے بارے میں جب پوچھا گیاتو وہ یہودی نکلا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3314]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الحاكم: 1/ 40، والبيھقي في ’’اثبات عذاب القبر‘‘: 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12558، 13719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12558»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه الحاكم: 1/ 40
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3315
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ: ( (يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا) )
سیّدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غروبِ آفتاب کے بعد باہر تشریف لے گئے اور کوئی آواز سن کر فرمایا: یہودیوں کو قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3315]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1375، ومسلم: 2869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23936»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1375
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. فَصْلٌ ثَانٍ فِي عَذَابِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْقَبْرِ
دورِ جاہلیت والے لوگوں کا قبر میں عذاب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3316
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ (امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ بَنِي النَّجَّارِ، فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ، قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَمِعَهُمْ وَهُمْ يُعَذَّبُونَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: ( (اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ) ) ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَإِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ) )
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں بنو نجار کے باغات میں سے ایک باغ میں تھی،اس باغ میں کچھ قبریں بھی تھیں، ان قبروں والے (قبل از اسلام یعنی) دورِ جاہلیت میں مرے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عذاب دیئے جانے کی آوازیں سنیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے نکل گئے: تم عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ان لوگوں کو قبروں میں عذاب ہورہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان کو ایسا عذاب دیا جاتا ہے کہ جو جانوروں کو سنائی دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3316]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 374، 10/ 193، وابن حبان: 3125، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 25/ 268، والبيھقي في ’’اثبات عذاب القبر‘‘: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27584»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3317
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ: ( (مَتَى دُفِنَ هَذَا؟) ) ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُفِنَ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ وَقَالَ: ( (لَوْ لَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ) )
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں بنو نجار کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک قبر سے آواز سنی اور پوچھا کہ یہ آدمی کب دفن کیا گیا تھا؟ صحابہ نے بتایا:اے اللہ کے رسول! یہ آدمی قبل از اسلام دور جاہلیت میں دفن ہوا تھا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قدرے اطمینان ہوا اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر کی آواز سنا دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3317]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12007، 12808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12030»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2868
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3318
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرِبًا لِبَنِي النَّجَّارِ، وَكَانَ يَقْضِي فِيهَا حَاجَةً، فَخَرَجَ إِلَيْنَا مَذْعُورًا أَوْ فَزِعًا، وَقَالَ: ( (لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ أَهْلِ الْقُبُورِ مَا أَسْمَعَنِي) )
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو نجار کی ایک ویران سی جگہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قضائے حاجت کرتے تھے، ایک دن وہاں سے گھبرا کر نکلے اور فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ قبروں والوں کے عذاب کی جو آوازیں میں سنتا ہوں، وہ تمہیں بھی سنا دے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3318]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12120»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12120
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3319
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فِي أَقْبُرٍ وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ فَحَادَتْ بِهِ، وَكَادَتْ أَنْ تُلْقِيَهُ، فَقَالَ: ( (مَنْ يَعْرِفُ هَذِهِ الْأَقْبُرَ؟) ) ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَوْمٌ هَلَكُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: ( (لَوْلَا أَنْ لَّا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُّسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ) ) ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: ( (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ) ) ، قُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، ثُمَّ قَالَ: ( (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ) ) ، فَقُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، ثُمَّ قَالَ: ( (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ) ) ، فَقُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: ( (تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ) ) ، فَقُلْنَا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیّدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مدینہ کے ایک باغ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے،وہاں کچھ قبریں بھی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس خچر پر سوار تھے، وہ اچانک بدکنے لگا اورقریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیچے گرا دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ اسلام سے قبل دورِ جاہلیت میں مر گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذابِ قبر کی آوازیں سنا دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایاـ: تم عذابِ جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم مسیح دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عذاب ِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم عذابِ قبر سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ ہم نے کہا: ہم زندگی اور موت کے فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3319]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21997»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا موضوع بھی سابقہ احادیث والا ہے، پہلے اس امر کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ عذابِ قبر برحق ہے، لیکن اس کی ہیئت و کیفیت کیا ہے، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ان احادیث سے اس مسئلہ کی وضاحت بھی ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جاہلیت کا زمانہ فترے کا دور نہیں تھا، لیکن سابقہ انبیاء کی وجہ سے تکلیف کا دور تھا، یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں مرنے والے نافرمانوں کو قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2867
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. فَصْلٌ ثَالِثٌ فِي عَذَابِ عُصَاةِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْقَبْرِ وَمَا يُخَفِّفُهُ عَنْهُمْ وَإِنَّهُ أَكْثَرُهُ بِسَبَبِ التَّبَوُّلُ
گنہگار مومنوں کو قبر میں عذاب ہونے اور اس کو ہلکا کرنے والے امور کا بیان¤اور اس چیز کی وضاحت کہ یہ عذاب زیادہ پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3320
عَنْ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: ( (إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ، (قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ) وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ) ) ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: ( (لَعَلَّهُمَا أَنْ يُّخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ، [قَالَ وَكِيعٌ تَيْبَسَتَا] ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو قبروں کے پاس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ان دو قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے اور وہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چھڑی لی، اس کو چیر کر اس کے دو حصے بنا لیے اور ہر حصہ ایک ایک قبر پر گاڑھ دیا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید ان سے عذاب میں اس وقت تک تخفیف کر دی جائے، جب تک یہ خشک نہ ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 218، 1361، ومسلم:292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1980»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں