🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. فَصْلٌ رَابِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي ضَغْطَةِ الْقَبْرِ
فصل چہارم: قبر کے میت کو سختی کی ساتھ دبوچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3331
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ قَعَدَ عَلَى شَفَتِهِ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَصَرَهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: ( (يُضْغَطُ الْمُؤْمِنُ فِيهِ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا) ) ، ثُمَّ قَالَ: ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللَّهِ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبِرُ، أَلَا أَخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذُو الطِّمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ) )
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے، جب ہم قبر کے قریب آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور قبر کے اندر دیکھنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کو قبر میں اس قدر دبایا جاتا ہے کہ اس کے کندھے اور سینے کی ہڈیاں اپنی جگہ سے زائل ہو جاتی ہیں اور کافر کی قبر کو تو آگ سے بھر دیا جاتا ہے۔ کیا میں تمہیں یہ نہ بتلا دوں کہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ کون ہیں؟ وہ ہیں جو بدمزاج اور متکبر ہوتے ہیں۔ اور کیا میں تمہیں یہ بھی نہ بتلا دوں کہ سب سے بہترین بندگانِ خدا کون سے ہیں؟ وہ ہیں جو دو بوسیدہ کپڑے والے ضعیف اور فقیر ہوتے ہیں اور جن کو لوگ بھی کمزور سمجھتے ہیں، لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھا دیں تو وہ بھی ان کی قسم پوری کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: «سناده ضعيف لضعف محمد بن جابر بن سيار الحنفي، ولانقطاعه، فان ابا البختري سعيد بن فيروز لم يدرك حذيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23457 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23850»

الحكم على الحديث:
سناده ضعيف لضعف محمد بن جابر بن سيار الحنفي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُنْقَلُ أَوْ يُنْبَشُ لِغَرَضٍ صَحِيحٍ
کسی صحیح مقصد کے لیے میت کو منتقل کرنے یا اس کی قبر اکھاڑنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3332
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَتَى ابْنُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ إِنْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ نَزَلْ نُعَيَّرُ بِهَذَا، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ قَدْ أُدْخِلَ فِي حُفْرَتِهِ، فَقَالَ: ( (أَفَلَا قَبْلَ أَنْ تُدْخِلُوهُ؟) ) ، فَأُخْرِجَ مِنْ حُفْرَتِهِ فَتَفَلَ عَلَيْهِ مِنْ قَرْنِهِ إِلَى قَدَمِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی (منافق) مرا تو اس کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس نہ آئے تو ہمیں ہمیشہ عار دلائی جاتی رہے گی، پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ اس کو قبر میں رکھا جا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے قبر میں داخل کرنے سے پہلے مجھے کیوں نہیں بلوا لیا تھا؟ پھر اسے قبر سے نکالا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کے سر سے قدم تک اپنا لعاب لگایا اور اسے اپنی قمیص پہنا دی۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1270، 1350، 5795، ومسلم: 2773، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14986، 15075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15049»
وضاحت: فوائد: … رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بیٹے عبد اللہ نے تبرک کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کا مطالبہ کیا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق انھوں نے کہا تھا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلْبِسْ اَبِیْ قَمِیْصَکَ الَّذِیْ یَلِیْ جِلْدَکَ۔ یعنی: اے اللہ کے رسول! آپ میرے باپ کو وہ قمیص پہنائیں، جو آپ کے چمڑے سے لگتی رہی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1270
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3333
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتُشْهِدَ أَبِي بِأُحُدٍ فَأَرْسَلْنَنِي أَخَوَاتِي إِلَيْهِ بِنَاضِحٍ لَهُنَّ، فَقُلْنَ: اذْهَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاكَ عَلَى هَذَا الْجَمَلِ فَأَدْفِنْهُ فِي مَقْبَرَةِ بَنِي سَلِمَةَ، قَالَ: فَجِئْتُهُ وَأَعْوَانٌ لِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِي وَقَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَا يُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِهِ) ) ، فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِهِ بِأُحُدٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: غزوہ احد میں میرے ابو جان شہید ہو گئے، میری بہنوں نے مجھے ایک اونٹ دے کر بھیجا اور کہا: جاؤ اور اپنے اباجان کی میت کو اس اونٹ پر لاد کر بنوسلمہ کے قبرستان میں دفن کرو۔ پس میں اور میرے مدد گار آ گئے، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ بات معلوم ہوئی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد میں بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلاکر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کو اپنے (شہید) بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیا جائے گا۔ پس انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: «سناده ضعيف، عمر بن سلمة بن ابي يزيد وابوه مجھولان أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15331»

الحكم على الحديث:
سناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ عَلَى الْقُبُورِ
قبروں کے اوپر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3334
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 437، ومسلم: 530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10727»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 437
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3335
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3335]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7813»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7813
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3336
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَعَنَ (وَفِي لَفْظٍ قَاتَلَ) اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) )
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پرلعنت کرے یا ان کو ہلاک کرے، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه الطبراني: 4907، وعبد بن حميد: 244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21940»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره أخرجه الطبراني: 4907
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3337
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَدْخِلْ عَلَيَّ أَصْحَابِي، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَكَشَفَ الْقِنَاعَ، ثُمَّ قَالَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) )
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے صحابہ کو میرے پاس بلاؤ۔ پس وہ آگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر والا کپڑا ہٹایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره أخرجه الطيالسي: 634، والبزار سي ’’مسنده‘‘: 2609، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 393، 411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22117»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره أخرجه الطيالسي: 634
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3338
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) إِلَّا إِنَّهُ قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ وَهُوَ مُتَقَنِّعٌ بِبُرْدٍ لَهُ مَعَافِرِيٍّ وَلَمْ يَقُلْ وَالنَّصَارَى
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: جب صحابہ آئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی بنی ہوئی معافری چادر لپیٹی ہوئی تھی، اس روایت میں نصاری کا لفظ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22118»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22118
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3339
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اَللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا، اللہ ایسے لوگوں پر لعنت کرے، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنا لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3339]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي أخرجه الحميدي: 1025، وابن سعد: 2/ 241، وابن عبد البر في ’’التمھيد‘‘: 5/ 44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7352»
وضاحت: فوائد: چونکہ یہود و نصاری انبیاء کی تعظیم میں ان کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے اور نماز میں ان کی طرف متوجہ ہوتے تھے، اس طرح انھوں نے ان قبروں کو بت بنا رکھا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بت نہ بن جائے۔ جو لوگ مخصوص ہیئت اور عجزو انکساری کے ساتھ مسجد نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف رخ کر کے ذکر و اذکار یا درود و سلام کا اہتمام کرتے ہیں، ان کو اس قسم کی احادیث کی روشنی میں اپنے کیے سے باز آ جانا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي أخرجه الحميدي: 1025
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3340
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری قبر کو عید نہ بنا لینا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنا لینا، تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود بھیج دیا کرو، بے شک تمہارا درود مجھ تک پہنچ جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الجنازة/حدیث: 3340]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8790»
وضاحت: فوائد: ”میری قبر کو عید نہ بنا لینا “ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو میلہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور اس کی زیارت کے لیے ایام و اوقات کو مخصوص نہ کر لیا جائے اور حج و عمرہ یا مسجد ِ حرام اور مسجد ِ نبوی کی طرح کسی سفر کا مقصود اس کی زیارت نہ ہو، وگرنہ یہودو نصاری کے ساتھ مشابہت قرار پائے گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن أخرجه ابوداود: 2042
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں