🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5342
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عبد الرحمن بن سمرہ! جب تو کسی چیز پر قسم اٹھا لے اور پھر کسی دوسری چیز کو بہتر خیال کرے تو تو بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5342]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20892»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1652
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5343
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھا لے، لیکن پھر کسی دوسرے چیز کو بہتر سمجھے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1651، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18440»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1651
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5344
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھا لی، لیکن پھر اس نے بہتری کسی اور چیز میں دیکھی تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5344]
تخریج الحدیث: «انطر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18446»

الحكم على الحديث:
انطر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18446
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5345
عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ فَقَالَ تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
۔ تمیم بن طرفہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے سو درہموں کا سوال کیا، انھوں نے کہا: تو مجھ سے سو درہم کا سوال کرتا ہے، جبکہ میں حاتم کا بیٹا ہوں، اللہ کی قسم! میں تجھ کو نہیں دوں گا، لیکن پھر انھوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جو قسم اٹھا لے، لیکن پھر کسی اور چیز میں بہتری محسوس کرنے لگے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے۔ (تو میں تجھے کچھ نہ دیتا، پھر اس کو چار سو درہم دے دیئے) [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5345]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18454»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18454
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5346
عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَدَّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمَ دَجَاجٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى فَلَمْ يَدْنُ قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى ادْنُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا فَقَالَ ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ قَالَ أَيُّوبُ أَحْسِبُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ فَانْطَلَقْنَا فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَقَالَ أَيْنَ هَؤُلَاءِ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَتَيْنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَانْدَفَعْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا فَقُلْتُ نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا فَعَرَفْنَا أَوْ ظَنَنَّا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا
۔ زہدم جرمی کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے مرغی کا گوشت پیش کیا، بنو تیم اللہ قبیلے کا ایک آدمی بھی وہاں موجود تھا، اس کا رنگ سرخ تھا اور ایسے لگ رہا تھا کہ وہ غلام ہے، وہ اس کھانے کے قریب نہ آیا، سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: قریب آ جا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ گوشت کھاتے ہوئے دیکھا ہے، اس نے کہا: میں نے اس کو ایک ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا کہ اس وجہ سے میں ا س سے گھن محسوس کی اور قسم اٹھا لی کہ میں اس کو کبھی بھی نہیں کھاؤں گا، انھوں نے کہا: قریب ہو جا، میں تجھے اس کے بارے میں بھی خبر دیتا ہوں، میں اشعریوں کے ایک گروہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواریوں کا سوال کرنے آئے تھے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زکوۃ کے اونٹ تقسیم کر رہے تھے، ایوب راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تم کو سواریاں نہیں دوں گا، اور نہ میرے پاس اب سواریاں ہیں۔ سو ہم واپس چلے گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مالِ غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے لیے سفید کوہانوں والے پانچ اونٹوں کا حکم دیا، ہم وہ لے کر واپس چلے گئے، میں (ابو موسی) نے اپنے ساتھیوں سے کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواریاں مانگنے کے لیے آئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم اٹھائی تھی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو پیغام بھیج کر بلا لیا اور ہمیں سواریاں دے دیں، میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قسم کے بارے میں بھول گئے ہیں، اللہ کی قسم! اگر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم سے غافل کر دیا تو ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو ں گے، لے جاؤ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف، تاکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم یاد کروائیں، پس ہم لوٹ آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم سواریوں کا مطالبہ کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے تھے، لیکن آپ نے قسم اٹھا لی تھی کہ آپ ہمیں سواریاں نہیں دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سواریاں دے دیں، اب ہمیں یہ گمان ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی قسم کے بارے میں بھول گئے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلے جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تم کو سواریاں دی ہیں، رہا مسئلہ میرا تو اللہ کی قسم ہے کہ ان شاء اللہ میں جب بھی قسم اٹھاتا ہوں اور پھر کسی اور چیز کو بہتر محسوس کرتا ہوں تو میں وہی اختیار کرتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5346]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6721، ومسلم: 1649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19820»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کے سوال کا جو جواب دیا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سواریاں دی ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دی ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نہ دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی نہیں دینی تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6721
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5347
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي أَوْ قَالَ إِنِّي كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مگر میں اسی چیز کو اختیار کرتا ہوں، جو بہتر ہوتی ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ یا فرمایا: بیشک میں اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور بہتر چیز کو اختیار کر لیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5347]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19787»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19787
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5348
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ فَحَمَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کا سوال کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مصروف پایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواریاں نہیں دوں گا۔ جب وہ جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا اور سواری دے دی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی کہ آپ مجھے سواری نہیں دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں قسم اٹھاتا ہوں کہ تم کو ضرور ضرور سواری دوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار 1344، وابويعلي: 3835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12079»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5349
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک چیز پر قسم اٹھائی، لیکن بعد میں کسی اور چیز میں خیر دیکھی تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5349]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8719»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1650
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5350
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَلْجَجَ أَحَدُكُمْ بِالْيَمِينِ فِي أَهْلِهِ فَإِنَّهُ أَثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْكَفَّارَةِ الَّتِي أَمَرَ بِهَا
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے اہل کے معاملے میں کوئی قسم اٹھائے اور (بزعم خود) سچا بنتا پھرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سخت گنہگار ہو گا، اس کفارہ سے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5350]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6625، ومسلم: 1655، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7729»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6625
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5351
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَاَنْ يَلَجَّ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ أَثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ كَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب کوئی آدمی اپنے اہل کے معاملہ میں کوئی قسم اٹھاتا ہے اور (اس قسم کے بہانے اڑا رہتا ہے) تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے زیادہ گنہگار ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فرض کیا ہوا کفارہ ادا کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5351]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8193»
وضاحت: فوائد:حافظ ابن حجر نے کہا: آثَم کا معنی اشدّ تأثیما ہے …۔ اس حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی اپنے اہل و عیال سے متعلقہ ایسی قسم اٹھاتا ہے کہ اس کو پورا کرنے کی صورت میں ان کو تکلیف ہوتی ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کر دے۔ اگر وہ کہے کہ وہ گناہ سے بچنے کے لیے قسم نہیں توڑے گا، تو وہ گنہگار ہو گا، بلکہ اس کا ایسی قسم پر برقرار رہنے اور اپنے اہل کے لیے تکلیف کا باعث بننے کا گناہ قسم توڑنے سے زیادہ ہو گا … بیضاوی نے کہا: اس حدیث کا مرادی معنی یہ ہے کہ جب آدمی اپنے اہل سے متعلقہ امور میں قسم اٹھاتا ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاتا ہے (اور یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے اہل کو اس قسم کی وجہ سے کتنی تکلیف ہو رہی ہے تو) اس کا یہ گناہ قسم توڑنے کے گناہ سے زیادہ ہو گا، کیونکہ اس نے اپنی قسم کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نام کو حیلہ بنا لیا ہے، حالانکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔(فتح الباری: ۱۱/۶۳۷)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8193
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں