الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5702
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ قَالَ وَكِيعٌ فِتْنَةُ الصَّدْرِ أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَذَكَرَ وَكِيعٌ الْفِتْنَةَ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بخیلی، بزدلی، عذابِ قبر، ذلیل ترین عمر اور سینے کے فتنے سے پناہ طلب کرتے تھے۔ امام وکیع نے کہا: سینے کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی اس حال میں مرے کہ اس نے مذکورہ برائیوں میں سے کسی کاارتکاب کیا ہو، لیکن ابھی تک توبہ نہ کی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5702]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه أبوداود: 1539، والنسائي: 8/255، وابن ماجه: 3844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 388»
وضاحت: فوائد: … سینے کے فتنے سے مراد دل کی سختی اور دنیا کی محبت ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5703
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَسُوءِ الْعَمَلِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: بخیلی، بزدلی، سینے کا فتنہ، عذابِ قبر اور برا عمل۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5703]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 145»
وضاحت: فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سُوء ِ الْعملِ کے الفاظ کاتب کی غلطی ہے، کیونکہ ابو داود کی روایت میں سُوء ِ الْعُمُرِ‘ ‘ کے الفاظ ہیں، اسی طرح ابو دواد کی ایک روایت میں،ابن ماجہ کی روایت میں اورمذکورہ بالا حدیث کے پہلے طریق والی روایت میں اَرْذَلِ الْعُمُر کے الفاظ ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 145
48. باب وُجُوبِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 5704
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ میری قبر کو عید بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5704]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8790»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} … بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔ (سورۂ احزاب: ۵۶)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5705
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ وَاسْأَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا دَرَجَةٌ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ تمہارے لیے باعث ِ طہارت ہے، اور اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کیا کرو، یہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، صرف ایک آدمی اس تک پہنچ سکے گا اور میں امید کرتا ہوںکہ وہ میں ہی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5705]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك القاضي سييء الحفظ، وليث بن ابي سليم ضعيف، كعب مجھول، أخرجه الترمذي: 3612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8755»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ صحیح احادیث، اس روایت سے مستغنی کر دیتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
49. باب ذم تَارِكِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5706
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا ناک خاک آلود ہو جائے، جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5706]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الترمذي: 3545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7444»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 5707
عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ
۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی بخیل ہے، جس کے پاس میرا ذکر ہوا، لیکن اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5707]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 3546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1736»
وضاحت: فوائد: … ایسا آدمی درود نہ پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں بخل سے کام لیتا ہے اور اپنے نفس کے حق میں بھی بخل کرتا ہے، کیونکہ اس کا نفس درود کی وجہ سے نازل ہونے والی رحمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
50. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمُضَاعَفَةِ أَجْرٍ فَاعِلِهَا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
حدیث نمبر: 5708
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وَجْهِهِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَرَى السُّرُورَ فِي وَجْهِكَ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي مَلَكٌ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَمَا يُرْضِيكَ أَنَّ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا قَالَ بَلَى
۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے چہرے پر مسرت دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ بات آپ کو راضی نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: آپ کی امت کا جو آدمی آپ پر ایک بار درود پڑھے گا، میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا اور آپ کی امت کا جو آدمی آپ کے لیے ایک بار سلامتی کی دعا کرے گا، میں اس پر دس سلامتیاں نازل کروں گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، میں راضی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5708]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 3/44، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16476»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 5709
مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا نَحْوُهُ وَفِيهِ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ صَلَاةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ عَشْرَ دَرَجَاتٍ وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَهَا
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، پھر اس طرح کی روایت بیان کی، البتہ اس میں یہ تفصیل ہے: آپ کی امت میں سے جس نے آپ پر درود بھیجا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا، اس کی دس برائیاں معاف کر ے گا، اس کے دس درجات بلند کرے گا اور اسی طرح کا درود اس پر لوٹائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5709]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو معشر ضعيف، ثم انه لم يدرك اسحاق بن كعب، واسحاق مجھول الحال، أخرجه بنحوه ابوے علي: 1425، والطبراني في الكبير: 4721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16465»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5710
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَ صَلَوَاتٍ وَحَطَّ عَنْهُ عَشْرَ خَطِيئَاتٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیںنازل کرے گا اور اس کی دس برائیاں معاف کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5710]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 3/ 50، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12021»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5711
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیںنازل کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5711]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10292»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 408