الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَمُضَاعَفَةِ أَجْرٍ فَاعِلِهَا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
حدیث نمبر: 5712
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ مَرَّةً وَاحِدَةً كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5712]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7551»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 408
حدیث نمبر: 5713
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود پڑھا، اللہ تعالیٰ اس پر ستر رحمتیں نازل کرے گا اور اس کے فرشتے اس کے لیے ستر بار دعائے رحمت کریں گے، اب بندے کی مرضی ہے کہ وہ کم پڑھے یا زیادہ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5713]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6605»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5714
وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِي أَلَا أُبَشِّرُكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شُكْرًا
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: بیشک جبریل رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں آپ کو خوشخبری نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ہے: جس نے آپ پر درود بھیجا، میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جس نے آپ کے لیے سلامتی کی دعا کی، میں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے شکر ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5714]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 1/550، والبيھقي: 2/ 371، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1664»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 5715
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا صَلَّى عَلَيَّ فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: جس نے مجھ پر درود بھیجا، فرشتے اس وقت تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہیں گے، جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گے، اب بندے کی مرضی ہے کہ وہ کم پڑھے یا زیادہ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5715]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15768»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 5716
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا اور کہا: اَللّٰھُمَّ أَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَالْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (اے اللہ! روزِ قیامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس مُقرّب مقام پر اتارنا) تو اس کے لیے میری سفارش واجب ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5716]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولجھالة حال وفاء الحضرمي، أخرجه الطبراني في الكبير: 4481، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17116»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
حدیث نمبر: 5717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے زمین میں چلنے پھرنے والے ہیں، وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5717]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي: 3/43، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4320»
وضاحت: فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکریم و تعظیم کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک درود و سلام پہنچانے کے لیے بعض فرشتوں کو مسخر کر دیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 5718
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی آدمی جو مجھ پر درود بھیجے، مگر اللہ تعالیٰ میری روح مجھ پر لوٹاتے ہیں، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کے جواب دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5718]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2041، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10827»
وضاحت: فوائد: … انسان کی وفات سے دوبارہ اٹھنے تک کے وقت کو عالم برزخ کہتے ہیں، جو ایک مخصوص زندگی کا نام ہے اور جس کی احادیث ِ مبارکہ میں مختلف کیفیتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک کیفیت کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب فرزندانِ امت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سلامتی کی دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح کو لوٹاتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب دیتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5719
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَعَلْتُ صَلَاتِي كُلَّهَا عَلَيْكَ قَالَ إِذَنْ يَكْفِيكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا أَهَمَّكَ مِنْ دُنْيَاكَ وَآخِرَتِكَ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میںاپنی دعا کا وقت آپ پر درود بھیجنے میں لگا دوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ تجھے ہر اس چیز سے کفایت کرے گا، جو تجھے دنیا اور آخرت کے معاملے میں غمزدہ کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5719]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21562»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم پر درود و سلام بھیجنے سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی ملتی ہے اور دونوں جہانوں کی ہر قسم کی پریشانی دور ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21562