الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. بَابُ ادْعِيَةٍ جَامِعَةٍ كَانَ يُعَلِّمُهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَعْضَ أَصْحَابِهِ
ان جامع دعاؤں کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض صحابہ کو جن کی تعلیم دیا کرتے تھے
حدیث نمبر: 5672
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ حُصَيْنًا أَوْ حَصِينًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ كَانَ خَيْرًا لِقَوْمِهِ مِنْكَ كَانَ يُطْعِمُهُمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَقَالَ لَهُ مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي قَالَ فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُكَ فَقُلْتَ لِي قُلْ اللَّهُمَّ قِنِي شَرَّ نَفْسِي وَاعْزِمْ لِي عَلَى أَرْشَدِ أَمْرِي فَمَا أَقُولُ الْآنَ قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ حُصَین یا حَصِین نامی آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کی بہ نسبت تو عبد المطلب اپنی قوم کے لیے بہتر تھا، وہ ان کو جگر اور کوہان کھلاتا تھا اور آپ ان کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اونٹ نحر کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہ جواب دیا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر اس نے کہا: آپ مجھے کیا کہنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی (اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شرّ سے بچا اور سب سے ہدایت یافتہ معاملے پر میرے عزم کو مضبوط کر دے)۔ وہ بندہ چلا گیا، لیکن مسلمان ہو کر پھر آ گیا اور اس نے کہا: میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھے اس دعا کی تعلیم دی تھی: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔ اب میں کیا کہا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَہِلْتُ۔ (اے اللہ! میرے لیے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے مخفی طور پر کیے اور جو علانیہ کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے اور جن کے بارے میں میں جانتا تھا اور جن کے بارے میں نہیں جانتا تھا)۔ ‘ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5672]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20234»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5673
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي طَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ يَقُولُ كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا طارق بن اُشیم رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب کوئی آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیا کہا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے فرماتے یہ کہو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، رمجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے)۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5673]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2697، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15972»
وضاحت: فوائد: … یہ دعا کل چار مطالبات پر مشتمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو انگلیوں کے ذریعے گن کر بتایا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2697
حدیث نمبر: 5674
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ يَقُولُ كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي قَالَ قُلْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ
۔ سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا اور وہ پوچھتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیسے اور کیا کہا کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: تو اس طرح کہا کر: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5674]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15972»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15972
حدیث نمبر: 5675
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي وَهُوَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ قَالَ سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلِ اللَّهَ الْعَافِيَةَ قَالَ وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ نِعْمَتِكَ فَقَالَ ابْنَ آدَمَ هَلْ تَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ قَالَ فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ وَدُخُولُ الْجَنَّةِ وَأَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَقُولُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ فَقَالَ قَدِ اسْتُجِيبَ لَكَ فَسَلْ
۔ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ نماز میں تھا اور اپنی دعا میں یہ الفاظ بھی کہہ رہا تھا: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو آزمائش کا سوال کیا، تو اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے، وہ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے تیری نعمت کی تکمیل کا سوال کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم! کیا تو جانتا ہے کہ نعمت کی تکمیل ہے کیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںنے تو صرف خیر کی امید رکھتے ہوئے یہ دعا کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جہنم سے آزادی اور جنت کا داخلہ نعمت کی تکمیل ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اور آدمی کے پاس آئے اور وہ یہ الفاظ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق تیری دعا قبول کی جا چکی ہے، بس تو سوال کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5675]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22406»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5676
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی تین بار جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس شخص کو مجھ سے پناہ دے دے، اسی طرح جب آدمی تین بار جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اس کو میرے اندر داخل کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5676]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 279، وابن ماجه: 4340، والترمذي: 2572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12194»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5677
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ وَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُوَفِّينِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ إِلَّا قَالَ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ عَبْدِي قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَوْفُوهُ إِيَّاهُ فَيُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ سُهَيْلٌ فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَ بِكَذَا وَكَذَا قَالَ مَا فِي أَهْلِنَا جَارِيَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَقُولُ هَذَا فِي خِدْرِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ … … إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اگر تو نے مجھ کو میرے نفس کے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو مجھے شرّ کے قریب کر رہا ہے اور خیر سے دور کر رہا ہے اور میرا بھروسہ نہیں ہے، مگر تیری رحمت کے ساتھ، پس تو میرے لیے اپنے ہاں ایک وعدہ کر لے، جس کو تو قیامت کے دن پورا کرے گا، بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا)۔ جو آدمی یہ دعا پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے حق میں روزِ قیامت فرشتوں سے کہے گا: فلاں بندے نے مجھ سے وعدہ لیا تھا، تو اس کے لیے اس کا وعدہ پورا کر دو، پس اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود نے کہا: ہمارے اہل و عیال میں تو ہر بچی اپنے پردے کے اندر یہ ذکر کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5677]
تخریج الحدیث: «منقطع، عون بن عبد الله لم يسمع من عبد الله بن مسعود، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3916»
الحكم على الحديث:
منقطع
46. بَابُ دُعَاءِ الأَعْمَى الَّذِي تَوَسَّلَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم في رد بصره
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ دیا تھا
حدیث نمبر: 5678
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ فَهُوَ أَفْضَلُ لِآخِرَتِكَ وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ قَالَ لَا بَلِ ادْعُ اللَّهَ لِي فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَأَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضَى وَتُشَفِّعُنِي فِيهِ وَتُشَفِّعُهُ فِيَّ
۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں اس دعا کو مؤخر کر دیتا ہوں، یہ تیری آخرت کے لیے افضل ہو گا، اور اگر تو چاہتا ہے تو میں تیرے لیے دعا کر دیتا ہوں۔ اس نے کہا: نہیں، بس آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا ہی کر دیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ، یَا مُحَمَّدُ! إِنِّی أَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّی فِی حَاجَتِی ہٰذِہِ فَتَقْضِی وَتُشَفِّعُنِی فِیہِ وَتُشَفِّعُہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تیری طرف متوجہ ہوتاہے،جو کہ رحمت والے نبی ہیں، اے محمد! میں اپنی ضرورت پورا کروانے کے لیے آپ کے ساتھ اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، پس (اے اللہ!) تو میری حاجت پوری کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش میرے حق میں قبول فرما)۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے حق میں میرے سفارش قبول فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5678]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 3578، وابن ماجه: 1385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17373»
وضاحت: فوائد: … ہم نے وَتُشَفِّعُنِی فِیہِ کے الفاظ کا ترجمہ الگ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے، اس کی وجہ دوسری روایات کا واضح متن ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 5679
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) ایک ایسا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جس کی بینائی ختم ہو گئی تھی، …۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5679]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17374»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17374
حدیث نمبر: 5680
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ فَهُوَ خَيْرٌ فَقَالَ ادْعُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضَى لِي اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ
۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے عافیت عطا فرمائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو چاہتا ہے تو میں دعا کر دیتا ہوں اور اگر تو چاہتا ہے تو میں اس کو مؤخر کر دیتا ہوں، اس میں تیرے لیے بہتری ہو گی۔ اس نے کہا: جی آپ دعا کر دیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کوحکم دیا کہ وہ اچھے انداز میں وضو کرے، پھر دو رکعت ادا کرے اور یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … … اَللّٰھُمَّ شَفِّعْہُ فِیَّ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد، جو کہ رحمت والے نبی ہیں، کے ذریعے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد! میں اپنی حاجت کو پورا کرنے کے لیے آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس (اے اللہ! تو میری حاجت پوری کر دے، اے اللہ! میرے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش قبول فرما)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5680]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17372»
وضاحت: فوائد: … وسیلہ کا معنی ومفہوم: لغوی طور پر وسیلہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی ذات تک رسائی یا قرب حاصل کیا جا سکتا ہو۔ لغت عرب کی قدیم اور معروف کتاب الصحاح میں ہے:
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17372
47. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرُّدِ وَصِيغِهِ وَفَضْلِهِ
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5681
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهَؤُلَاءِ الْخَمْسِ وَيُخْبِرُ بِهِنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
۔ سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ان پانچ کلمات کا حکم دیتے تھے اور بتاتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے مروی ہیں، وہ کلمات یہ ہیں: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أُرَدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! بیشک میں تیری پناہ میں آتا ہوں بخیلی سے، بزدلی سے، میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس چیز سے کہ مجھے ادھیڑ عمر میں لوٹا دیا جائے، میں تجھ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں دنیا کے فتنے سے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں عذاب ِ قبر سے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5681]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1585»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6370