🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِّرَاعَةِ وَفَضْلِهَا
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5750
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَكَلَ مِنْهُ الطَّيْرُ أَوِ الْعَافِيَةُ كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
۔ خلادبن سائب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کھیتی کاشت کرتاہے، پھر اس سے پرندے یا کوئی بھی رزق کا طلبگار اس سے کھاتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ کا باعث ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16558 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16674»
وضاحت: فوائد: … ”اَلْعَافِیۃ“ کا اطلاق ہر اس جاندار پر ہوتا ہے، جو رزق طلب کرنے والا ہو، وہ انسان ہو، یا جانور، یا پرندہ، نیز ا س لفظ کا اطلاق جماعت پر بھی ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 4134
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي اِتِّخَاذِ الْغَنَمِ وَ بَرَكَتِهَا وَرَعِيهَا
بکریوں کو پالنے، ان کی برکت اور ان کو چرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5751
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتَّخِذِي غَنَمًا يَا أُمَّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا تَرُوحُ بِخَيْرٍ وَتَغْدُو بِخَيْرٍ
۔ سیدنا ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ام ہانی! بکر یاں پالو، کیونکہ یہ شام کو خیر کے ساتھ آتی ہیں اور صبح کو خیر کے ساتھ جاتی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26902 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
وضاحت: فوائد: … بکریاں عجیب قسم کی خیر و برکت پر مشتمل ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنتی جانور قرار دیاہے، ان کے ہاں سال میں دو بار پیدائش کا سلسلہ ہوتا ہے، دو دو تین تین بچے جنم دیتی ہیں، ان کے مزاج میں عاجزی اور نرمی ہوتی ہے، ان میں بغاوت اور سرکشی کا مادہ بالکل نہیں ہوتا اور ان کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے، معمولی غذا ان کے لیے کافی ہو جاتی ہے، جب چاہا ان کا دودھ دوہ لیا، ان کا گوشت انتہائی عمدہ ہوتا ہے، جبکہ ان کو ذبح کرنا اور گوشت بنانا بہت آسان ہوتا ہے، ایسے لگتا ہے کہ بکری خرگوش اور ہرن کی طرح بڑی خوبصورت اور محبت والی چیز نظر آتی ہے، مزید اگلی روایت کا بغور مطالعہ کر لیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2295
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5752
عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ مَرَّ أَبِي عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ غُنَيْمَةً لِي قَالَ نَعَمْ امْسَحْ رُعَامَهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي جَانِبِ مُرَاحِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَانْتَسِئْ بِهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا أَرْضٌ قَلِيلَةُ الْمَطْرِ قَالَ يَعْنِي الْمَدِينَةَ
۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں: میرے باپ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: کہا ں کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا: جی میری کچھ بکریاں ہیں (ان کی طرف جارہا ہوں) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ٹھیک ہے، لیکن ان کو صاف ستھرا کرنا، ان کی آرام گاہ کو اچھا بنانا اور ان کی آرام گاہ کے پاس نماز پڑھنا، کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے، نیز ان کو مدینہ کی سرزمین سے دور رکھنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ سر زمین کم بارش والی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد ان شاء الله۔ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/933، والبزار: 444، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9623»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ علاقے کی آب و فضا کے مطابق پالتو جانوروں کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز ان کے باڑے آرام دہ ہونے چاہئیں، نماز پڑھنے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مالک بکریوں کے ساتھ رہے گا اور اس طرح درندوں سے امن رہے گا۔

الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد ان شاء الله۔ أخرجه مالك في ’’المؤطا‘‘: 2/933
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5753
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ مسلمان آدمی کے لئے بہترین مال بکریاں ہوں، جن کو وہ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں چلا جائے اور فتنوں سے بچ کر اپنے دین کو لے کر بھاگ جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5753]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3600، 6495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11046»
وضاحت: فوائد: … فتنوں کے زمانے میں دین کی سلامتی کے لیے آبادی سے دور چلا جانا مستحب ہے، بشرطیکہ فتنوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5754
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَجْنِي الْكَبَاثَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ مِنْهُ فَإِنَّهُ أَطْيَبُهُ قَالَ قُلْنَا وَكُنْتَ تَرْعَى الْغَنَمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَهَلْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ رَعَاهَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہوں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر پیلو کا پھل چن رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیاہ رنگت والا چنو، یہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول!آپ بھی بکریاں چراتے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا، جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5754]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3406، 5453، ومسلم: 2050، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14551»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5755
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ مُوسَى وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا عَلَى أَهْلِهِ وَبُعِثْتُ أَنَا وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ
۔ سیدنا ابوسعید حذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں او نٹوں اور بکریوں کے مالکان ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فخر اور تکبر اونٹوں کے مالکان میں اور سکون اور وقار بکریوں کے مالکان میں پایا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب موسیٰ علیہ السلام کو مبعو ث کیا گیا تو وہ اپنے اہل کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیاگیا تو میں بھی جیاد میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5755]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11940»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ کی ایک نشیبی جگہ کا یا ایک پہاڑ کا نام جیاد ہے۔
حافظ بن حجر نے کہا کہ خطابی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں کی مذمت اس بنا پر کی کہ یہ لوگ امورِ دینیہ سے غافل ہو کر اپنے مال مویشیوں میں لگے رہتے ہیں، جس کا نتیجہیہ نکلتا ہے کہ یہ سخت دل ہو جاتے ہیں۔
حافظ صاحب نے خود کہا: سکینت کو بکریوں کے مالکوں کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ وسعت اور کثرت میں اونٹوں کے مالکوں سے کم ہوتے ہیں، اور یہی دو چیزیں فخر اور تکبر کا باعث بنتی ہیں۔ (فتح الباری: ۶/ ۴۳۳، ۴۳۴)
یہ اللہ تعالی کا کوئی نظام ہے کہ جو فرق بکری اور اونٹ میں ہے کہ بکری شریف اور غیر مضرجانور ہے اور اونٹ باغی اور مضر جانور ہے، ان جانوروں کا یہی مزاج ان کے مالکوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2370
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَاب مَا جَاءَ فِي كَسْبِ الْحَجَامِ وَالْإِمَاءِ وَالْقَصَّابِ وَالصَّائِعَ وَغَيْرِ ذَلِكَ
سینگی لگانے والوں، لونڈیوں، قصاب اور سنار وغیرہ کی کمائی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5756
عَنْ رَافِعِ بْنِ رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَانَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ وَأَمَرَنَا أَنْ نُطْعِمَهُ نَوَاضِحَنَا وَنَهَانَا عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ إِلَّا مَا عَمِلَتْ بِيَدِهَا وَقَالَ هَكَذَا بِأَصَابِعِهِ نَحْوَ الْخُبْزِ وَالْغَزْلِ وَالنَّفْشِ
۔ رافع بن رفاعہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سینگی لگانے والے کی کمائی سے منع فرمایا اور ہمیں حکم دیاتھاکہ ہم یہ کمائی آبپاشی کے اونٹوں وغیرہ کو کھلادیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لونڈیوں کی کمائی سے بھی منع کیا تھا، البتہ جو وہ اپنے ہاتھ سے کام کر کے کمائے (وہ جائز ہے)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے روٹی پکانے، روئی اون وغیرہ کو کاتنے یا ان کو دھنکنے کا اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5756]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد لايصح، رافع بن رفاعة لاتصح له صحبة، والحديث غلط۔ أخرجه ابوداود: 3426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19207»

الحكم على الحديث:
ھذا اسناد لايصح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5757
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5757]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2283، 5348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7838»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2283
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5758
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْحَجَّامِ وَكَسْبِ الْمُومِسَةِ وَعَنْ كَسْبِ عَسْبِ الْفَحْلِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع کیاہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت، پچھنے لگانے والے کی کمائی، زانیہ کی کمائی اور سانڈکی جفتی کی کمائی سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5758]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الدارمي: 2624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8371»
وضاحت: فوائد: … کتے کی کمائی اور سانڈ کی جفتی کی جائز اور ناجائز صورتوں پر بحث بالترتیب حدیث نمبر (۵۸۱۲) اور (۵۸۲۴) میںآئے گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الدارمي: 2624
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5759
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتے کی کمائی خبیث ہے، سینگی لگانے والے کی کمائی خبیث ہے اور زانیہ کی کمائی بھی خبیث ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5759]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1568، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17391»
وضاحت: فوائد: … زانیہ کی کمائی سے مراد اس کی وہ کمائی جو وہ زنا اور بدکاری کے ذریعے کرتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1568
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں