الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْأَمَانَةِ فِي الْبَيْعِ وَالشَّرَاءِ وَفَضْل ذلِكَ
خرید و فروخت میں سچائی اور امانت اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5779
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عِقَارًا لَهُ فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِي اشْتَرَى الْعِقَارَ فِي عِقَارِهِ جَرَّةً فِيهَا ذَهَبٌ فَقَالَ الَّذِي اشْتَرَى الْعِقَارَ خُذْ ذَهَبَكَ مِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ فَقَالَ الَّذِي بَاعَ الْأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا قَالَ فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ قَالَ أَحَدُهُمَا لِي غُلَامٌ وَقَالَ الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ قَالَ أَنْكِحَا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے زمین خریدی، خریدنے والے شخص کو اس زمین میں ایک گھڑا مل گیا، جس میں سونا تھا،اس نے فروخت کرنے والے سے کہا: اپنا سونا لے لو، میں نے آپ سے زمین خریدی ہے، نہ کہ سونا، لیکن فروخت کرنے والے نے کہا: میں نے زمین بھی فروخت کی تھی اور جو کچھ اس میں تھا، وہ بھی بیچ ڈالا۔ چنانچہ وہ دونوں ایک آدمی کے پاس اپنا فیصلہ لے گئے، اس نے کہا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہاکہ اس کا لڑکا ہے اوردوسرے نے کہا کہ اس کی لڑکی ہے، اس نے کہا: تم اس لڑکے اور لڑکی کی آپس میں شادی کر دو اور یہ سونا ان پر خرچ کردو اور کچھ مقدار صدقہ کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5779]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3472، ومسلم: 1721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8176»
وضاحت: فوائد: … ہماری شریعت میں ایسی چیز کے احکام مقرر ہیں، اگر وہ گری پڑی چیز ہے تو اس پر اس سے متعلقہ احکام لاگو ہو جائیں گے، اگر وہ جاہلیت کا دفینہ ہے، جس کو رِکاز کہتے ہیں تو اس کو پا لینے والا اس کا مالک بن جائے گا، البتہ اسی وقت پانچواں حصہ زکاۃ دینی ہو گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3472
حدیث نمبر: 5780
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلْبٌ فَأَعْطَانِي دِينَارًا فَقَالَ أَيْ عُرْوَةُ ائْتِ الْجَلْبَ فَاشْتَرِ لَنَا شَاةً قَالَ فَأَتَيْتُ الْجَلْبَ فَسَاوَمْتُ صَاحِبَهُ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ فَجِئْتُ أَسُوقُهُمَا أَوْ قَالَ أَقُودُهُمَا فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فَسَاوَمَنِي فَأَبِيعُهُ شَاةً بِدِينَارٍ فَجِئْتُ بِالدِّينَارِ وَجِئْتُ بِالشَّاةِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا دِينَارُكُمْ وَهَذِهِ شَاتُكُمْ قَالَ وَصَنَعْتَ كَيْفَ فَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقِفُ بِكُنَاسَةِ الْكُوفَةِ فَأَرْبَحُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا قَبْلَ أَنْ أَصِلَ إِلَى أَهْلِي وَكَانَ يَشْتَرِي الْجَوَارِيَ وَيَبِيعُ
۔ سیدنا عروہ بن ابی جعد بار قی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ سامانِ تجارت والا قافلہ آیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک دینار دیا اور فرمایا: عروہ! قافلے میں جاؤ اور ہمارے لئے ایک بکری خرید لاؤ۔ پس میں قافلے میں گیا اور بکری کے مالک سے سودا کیا اور ایک دینار کی دوبکریاں خرید لیں، میں ان کو لا رہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک آدمی ملا، میرا اس سے سودا بن گیا اور میں نے اس کو ایک دینار میں ایک بکری فروخت کر دی، چنانچہ میں ایک بکری اور ایک دینار لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لیجئے اپنا دینار اوریہ لیجئے اپنی بکری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے سودا کیا ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ!اس کی تجارت میں برکت فرما۔ یہ دعا اس قدر قبول ہوئی کہ میں کوفہ میں کُنَاسَہ مقام میں کھڑا ہوتا تھا اور گھر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کا نفع کما لیتا تھا۔ یہ صحابی لونڈیوں کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5780]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3385، وابن ماجه: 2402، والترمذي: 1258، وأخرجه مختصرا و نحوه البخاري: 3642، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19579»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت میں نفع کی شرح مقرر نہیں ہے، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3385
10. بَابُ دَمِ الْكَذِبِ وَالْحَلْفِ لِتَرْوِيجِ السِّلْعَةِ وَذَمِ الأَسْوَاقِ
سودا فروخت کرنے کے لیے جھوٹ بولنے اور قسم اٹھانے کی مذمت اور بازاروں کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5781
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی قسم سے مال تو فروخت ہو جاتا ہے، لیکن کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5781]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2087، ومسلم: 1606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7293 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7291»
وضاحت: فوائد: … جھوٹی قسموں کی وجہ سے مال میں بظاہر اضافہ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن تاجر اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی برکت سے محروم ہو جاتا ہے، جبکہ بنیادی چیز اللہ تعالی کی برکت ہے، باقی سب امور فرعی اور سرسری ہیں، اگر برکت شامل حال ہو تو تھوڑا مال بھی کفایت کر جاتا ہے اور اگر برکت نہ ہو تو سرے سے مالک سکون والی زندگی ہی بسر نہیں کر سکتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2087
حدیث نمبر: 5782
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ وَيَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ
۔ سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تاجر برے لوگ ہیں۔ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال نہیں کیا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، لیکن بات یہ ہے کہ یہ لوگ جب بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور پھر جب (جھوٹی) قسم اٹھاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5782]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 711، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 4845، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 2078، والحاكم: 2/ 7، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15757»
وضاحت: فوائد: … تاجر کے لیے ضروری تنبیہیہ ہے کہ وہ سچ بولے اور جھوٹی قسم سے بچے، کسی بڑی ضرورت کے پیش نظر وہ سچی قسم اٹھا سکتا ہے، لیکن سچی قسموں کی کثرت بھی درست نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 711
حدیث نمبر: 5783
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنْفِقُ ثُمَّ يَمْحَقُ
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجارت میں زیادہ قسمیں اٹھانے سے اجتناب کرو، بے شک اس سے سودا تو بکتا ہے، لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5783]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1607، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22912»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سودا کرتے وقت قسموں کی کثرت سے بچا جائے، اگرچہ قسم اٹھانے والا سچا ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1607
حدیث نمبر: 5784
عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ كُنَّا نَبِيعُ الرَّقِيقَ فِي السُّوقِ وَفِي لَفْظٍ آخَرَ كُنَّا نَبْتَاعُ الْأَوْسَاقَ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنْ اسْمِنَا وَفِي لَفْظٍ أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ وَفِي لَفْظٍ إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَحَلْفٌ فَشُوبُوهَا بِصَدَقَةٍ
۔ سیدنا قیس بن غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم (تاجروں) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں سَمَاسِر یعنی دَلّال کہا جاتا تھا، ایک روایت میں ہے: ہم بازار میں غلام بیچتے تھے، ایک روایت میں ہے: ہم مدینہ منورہ میں سامان فروخت کیا کرتے تھے، ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سابقہ نام کی بہ نسبت اچھا نام رکھا، ایک روایت میں ہے: ہم نے اپنے لیے جو نام تجویز کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اچھا نام رکھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجارت میں ناجائز قسم اور جھوٹ کی آمیزش ہو جاتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: ان بازاروں میں لغو باتیں اور جھوٹیں قسمیں عام ہوتی رہتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ صدقہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5784]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 3326، والترمذي: 1208، وابن ماجه: 2145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16238»
وضاحت: فوائد: … ”سَمَاسِر“ عجمی زبان کا لفظ ہے، یہ لفظ عجمی تاجروں سے عربی تاجروں میں سرایت کر گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عربی لفظ ”تاجر“ سے تبدیل کر دیا۔ اوساق: وسق کی جمع ہے۔ یہ ساتھ صاع (ٹوپے) کا ہوتا ہے۔ گندم، کھجور، جو وغیرہ کی تجارت مراد ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح أخرجه ابوداود: 3326
حدیث نمبر: 5785
عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ بَيْعٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَعَايِشُنَا قَالَ فَقَالَ لَا خِلَابَةَ إِذًا وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارت سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تجارت تو ہمارا ذریعۂ معاش ہے، آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس میں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس وقت ہمیں دَلّال کہا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5785]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابراهيم مولي صُخَير لم يدرك احدا من الصحابة، وقوله: ’’كنا نسمي السماسرة‘‘ ثبت في الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16239»
وضاحت: فوائد: … تجارت میں پائے جانے والے مفاسد کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرے سے اس سے منع کر دینے کا ارادہ کیا، لیکن جب صحابہ نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت تو دے دی، لیکن شرط یہ لگائی کہ تجارت کسی قسم کے دھوکے پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 5786
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُبَّ يَمِينٍ لَا تَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ فَرَأَيْتُ فِيهَا النَّخَّاسِينَ بَعْدُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتنی قسمیں ہیں جو اس جگہ میں اللہ تعالی کی طرف بلند نہیں ہوتیں۔ پھر میں نے اس جگہ میں چوپائیوں اور غلاموں کو فروخت کرنے والوں کو دیکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5786]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وعبيد مولي ابي رھم ليس بذاك المعروف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8010»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے کسی علاقے کے بارے میںیہ پیشین گوئی کی تھی کہ وہاں اٹھائی جانے والی قسمیں اللہ تعالی کی طرف بلند نہیں ہوں گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ پورا ہوا اور وہ جگہ خرید و فروخت کا مرکز بن گئی اوروہاں جھوٹی قسمیں اٹھائی جانے لگیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 5787
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ قَالَ فَقَالَ لَا أَدْرِي فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ قَالَ يَا جِبْرِيلُ أَيُّ الْبِلَادِ شَرٌّ قَالَ لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ فَقَالَ أَسْوَاقُهَا
۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! زمین کا کون سا حصہ بد ترین ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے۔ جب جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے یہ سوال کیا، لیکن انہوں نے کہا: مجھے بھی معلوم نہیں، لیکن میں اپنے رب سے پوچھوں گا، سو وہ چلے گئے، پھر کچھ دیریا عرصہ ٹھہرے رہے، پھر جب آئے تو کہا: اے محمد! آپ نے بد ترین قطعۂ زمین کے بارے میں پوچھا تھا اور میں نے کہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ہے، پھرمیں نے اپنے ربّ سے پوچھاہے، تو اس نے کہا ہے کہ روئے زمین میں سے بد ترین حصہ بازارہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5787]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل۔ أخرجه البزار: 1252، وابويعلي: 7403، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 1546،والحاكم: 1/ 899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16865»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَحَبُّ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُھَا، وَاَبْغَضُ الْبِلَادِ اِلَی اللّٰہِ اَسْوَاقُھَا۔)) … ”اللہ تعالی کے ہاں سب سے پسندیدہ مقامات مساجد ہیں اور سب سے بری جگہیں بازار ہیں۔“ (صحیح مسلم)
مساجد کا معاملہ تو واضح ہے کہ وہ نماز، تلاوت، اللہ کے ذکر اور عبادت کا مرکز اور صالحین بلکہ فرشتوں کی پناہ گاہ ہیں۔ رہا مسئلہ بازاروں کا تو وہ اس قسم کے مفاسد پر مشتمل ہوتے ہیں: جھوٹ، دھوکہ، جھوٹی قسمیں، عصر حاضر میں مرد و زن کا بدترین اختلاط اور بے پردگی، اللہ تعالی کے ذکر سے غافل کرنے والے امور، شیطانوں کی کثرت جو ان مفاسد پر آمادہ کرتے ہیں۔
مساجد کا معاملہ تو واضح ہے کہ وہ نماز، تلاوت، اللہ کے ذکر اور عبادت کا مرکز اور صالحین بلکہ فرشتوں کی پناہ گاہ ہیں۔ رہا مسئلہ بازاروں کا تو وہ اس قسم کے مفاسد پر مشتمل ہوتے ہیں: جھوٹ، دھوکہ، جھوٹی قسمیں، عصر حاضر میں مرد و زن کا بدترین اختلاط اور بے پردگی، اللہ تعالی کے ذکر سے غافل کرنے والے امور، شیطانوں کی کثرت جو ان مفاسد پر آمادہ کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل۔ أخرجه البزار: 1252
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسَاهْلِ وَالتَّسَامُحِ فِي البَيْعِ وَالْإِقَالَةِ وَحُسْنِ التَّقَاضِي وَفَضْلٍ ذَلِكَ
تجارت میں نرمی اختیار کرنے اور دررگزر کرنے، سودا واپس کرنے اور اچھا معاملہ کرنے اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5788
عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخٍ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اشْتَرَى مِنْ رَجُلٍ أَرْضًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَقِيَهُ فَقَالَ لَهُ مَا مَنَعَكَ مِنْ قَبْضِ مَالِكَ قَالَ إِنَّكَ غَبَنْتَنِي فَمَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ أَحَدًا إِلَّا وَهُوَ يَلُومُنِي قَالَ أَوَذَلِكَ يَمْنَعُكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاخْتَرْ بَيْنَ أَرْضِكَ وَمَالِكَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا وَبَائِعًا وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا
۔ قریشیو ں کے غلام عطاء بن فروخ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے زمین خریدی، لیکن اس آدمی نے ملنے میں تاخیر کی، پھر جب وہ ملا تو اس (عثمان رضی اللہ عنہ) نے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنا مال قبضے میں لینے سے روک رکھا ہے؟ کہا: تم نے مجھ سے دھوکہ کیا ہے، میں جس بندے کو ملتا ہوں، وہ مجھے ملامت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: کیایہ رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، آپ اپنی زمین اور مال میں سے ایک چیز کو پسند کریں، پھرانھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس آدمی کو جنت میں داخل کرے گا،جو خریدتے وقت، بیچتے وقت، تقاضا چکاتے وقت یا تقاضا کرتے وقت نرم خوئی اختیار کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5788]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2202، والنسائي: 7/ 318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 410»
وضاحت: فوائد: … معاملات میں نرم خوئی والی زندگی انتہائی آسان ہے، کاش ہم اللہ تعالی کا حکم سمجھ کر اس کو اختیار کر لیتے، مصیبتیہ ہے کہ جب ہم کسی شخصیت کی خاطر چند دن نرمی کا اختیار کرتے ہیں اور نتیجہ جلدی وصول نہیں ہوتا تو ہم پر مایوسی چھا جاتی ہے اور ہم یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ آئندہ ہم سختی کے ساتھ اپنے معاملات ڈیل کریں گے، ہمیں ہمارے معاملات میں دو چیزوں نے دھوکہ دیا ہے، ایک جلد باز مزاج اور دوسرا اللہ تعالی کی ذات مقدم نہ رکھنا، یعنی اللہ تعالی کا لحاظ کرتے ہوئے نرمی کو اختیار نہ کرنا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2202