الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَطَاءِ السُّلْطَانِ وَكَسْبِ عُمَّالِ الصَّدَقَةِ باب مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِرَاعَةِ وَفَضْلِهَا
بادشاہ کے عطیے اور عاملین زکوٰۃ کی کمائی کا بیان
حدیث نمبر: 5740
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ نَأْكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَذِنَ لَنَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے صدقہ وخیرات کی وصولی پر مامور فرمایا، جب میں نے (اس خدمت کے دوران) زکوۃ کے مال سے کھانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5740]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي سمع عقبة بن عامر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17442»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي سمع عقبة بن عامر
حدیث نمبر: 5741
عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا أَوْ لَيْسَتْ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا أَوْ لَيْسَ لَهُ دَابَّةٌ فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ
۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوہمارے کام کا ذمہ دار ٹھہرے اور اگر اس کاگھر نہ ہو تو وہ گھر بنالے، اگر اس کی بیوی نہ ہو تو وہ شادی کر لے، اگر اس کا خادم نہ ہوتو خادم خرید لے اور اگر اس کی سواری نہ ہوتو سواری بھی لے لے، لیکن اگر وہ اس کے علاوہ کوئی اور چیزلے گاتو وہ خائن اور چور قرار پائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5741]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18180»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی مسلمانوں کی مصالح سے متعلقہ امور میں مصروف ہو، وہ ان کے مالوں میں سے اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے، جیسے بیوی، خادم، گھر یا سواری وغیرہ، لیکن اس ضمن میں حکومتییا پرائیویٹ ادارے کی طرف سے دی گئی رخصت کے مطابق یہ سہولتیں حاصل کی جائیں گی، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے، وگرنہ وہ ملازم خائن اور دھوکے باز ٹھہرے گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2945
حدیث نمبر: 5742
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ لَنَا عَلَى عَمَلٍ فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ فَهُوَ غُلٌّ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْوَدُ قَالَ مُجَالِدٌ هُوَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ وَفِي لَفْظٍ لَا حَاجَةَ لِي فِي عَمَلِكَ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا قَالَ وَأَنَا أَقُولُ ذَلِكَ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى
۔ سیدنا عدی بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے جو آدمی ہمارے کام پہ مامور ہو اور وہ ایک سوئی یا اس سے زیادہ کوئی چیز چھپائے گا تو وہ خیانت کرے گا اور روزِ قیامت اس کو اپنے ساتھ لائے گا۔ ایک سیاہ رنگ والا آدمی کھڑا ہوا، اس کا نا م سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھا، راوی کہتا ہے کہ گویا کہ وہ مجھے اب بھی اسی طرح نظر آرہاہے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے یہ عہدہ واپس لے لیں، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو اس کے بارے میں اس طرح کی سخت باتیں کرتے ہوئے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میں اب بھی کہتاہوں کہ جس کسی کو بھی ہم کوئی ذمہ داری سونپیں تو وہ ہر چیز ہمارے سامنے پیش کر دے، وہ تھوڑی ہو یا زیادہ، پھر اس کو جو کچھ دے دیا جائے، وہ لے لے اور جس چیز سے روک دیا جائے، اس سے باز آ جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5742]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم: 1833، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17869»
وضاحت: فوائد: … ارشادِباری تعالی ہے: {وَمَنْ یَّغْلُلْیَاْتِ بِمَاغَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ} … ”جوخیانت کرے گا،وہ روزِ قیامت اس چیز کے ساتھ آئے گا، جو اس نے خیانت کی ہو گی۔“ (سورۂ آل عمران: ۱۴۱)
معلوم ہوا کہ کوئی ملازم اور ساعی حکمران کی اجازت کے بغیر قومی اثاثے میں تصرف نہیں کر سکتا۔
معلوم ہوا کہ کوئی ملازم اور ساعی حکمران کی اجازت کے بغیر قومی اثاثے میں تصرف نہیں کر سکتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه مسلم: 1833
حدیث نمبر: 5743
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْنِي عَلَى شَيْءٍ أَعِيشُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا حَمْزَةُ نَفْسٌ تُحْيِيهَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ نَفْسٌ تُمِيتُهَا قَالَ بَلْ نَفْسٌ أُحْيِيهَا قَالَ عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشر یف لائے اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی ذمہ داری سونپ دو کہ اس کے ذریعے میری گزران ہو سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمزہ! کسی نفس کو زندہ کرنا آپ کو پسند ہے یا مارنا؟ انھوں نے کہا: جی کسی نفس کو زندہ کرنا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کا خیال کر۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5743]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6639»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے تھے کہ آپ ان کو زکوۃ کی وصولی پر مقر ر کریں تاکہ اس کے عوض ان کو جو اجرت ملے گی، اس سے ان کی معیشت کوسہارا مل جائے گا، مگر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بنو ہاشم میں سے تھے اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کے لیے صدقہ اور زکوۃ حرام تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ بات سمجھانے کے لیے تمہید کے طور نفس کے زندہ کرنے یا اس کو مارنے کی بات کی، کیونکہ اگر سیدہ حمزہ کو زکوۃ کا عامل مقرر کر دیا جاتا تو گویا اس میں ان کے نفس کی موت تھی، کیونکہ حرام رزق کی وجہ سے کئی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ سرے سے عبادات ہی قبول نہیں ہوتیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحيي بن عبد الله المعافري
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَسْبِ بِالزِّرَاعَةِ وَفَضْلِهَا
زراعت کے ذریعے کمائی کرنا اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5744
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ مَالِ الْمَرْءِ لَهُ مُهْرَةٌ مَأْمُورَةٌ أَوْ سِكَّةٌ مَأْبُورَةٌ
۔ سیدنا سوید بن ہبیرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا بہترین مال گھوڑی کا کثیر النسل بچہ ہے یا کھجوروں کی قطار ہے، جن کی پیوند کاری کی گئی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5744]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اياس بن زھير من رجال التعجيل، لم يذكروا في الرواة عنه غير مسلم بن بديل ھذا، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، ثم انه مرسل۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6471، والبيھقي: 10/ 64، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 1/ 439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15939»
وضاحت: فوائد: … کثیر النسل جانوروں اور زراعت میں گھروں کی خیر و برکت کے خزانے پوشیدہ ہیں، ایک آدمی نے تقریباً بیس کے قریب بھیڑ بکریاں پال رکھی تھیں، جب ہم نے اس کی گزر بسر کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا کہ اس کے بیوی بچوں کا انحصار صرف ان بھیڑ بکریوں پر ہے، خوشی غمی کی صورت میں جب بھی کسی بڑے خرچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک دو جانور بیچ کر گزارا کر لیتے ہیں اور روٹین کی زندگی تو دو تین مہینوں کے بعد دو تین بچے فروخت کر دینے سے گزرتی رہتی ہے، جبکہ وہ آدمی انتہائی خوشحال نظر آ رہا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5745
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَيْرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جب کھیتی کاشت کرتاہے یاپودالگاتاہے اور اس سے پر ندے، انسان اور حیوان کھاتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5745]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اياس بن زھير من رجال التعجيل، لم يذكروا في الرواة عنه غير مسلم بن بديل ھذا، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، ثم انه مرسل۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 6471، والبيھقي: 10/ 64، والبخاري في ’’التاريخ الكبير‘‘: 1/ 439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12523»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5746
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ سیدہ ام مبشررضی اللہ عنہا، جو کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میں ایک باغ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیایہ باغ تمہارا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کس نے لگایا تھا، مسلمان نے یا کافر نے؟ میں نے کہا: مسلمان نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان جو کھیتی کاشت کرتا ہے یا کوئی پودا گاڑھتا ہے اور پھر جو پرندہ، انسان، درندہ، چوپایہ اور کوئی بھی چیز اس سے کچھ کھاتی ہے، تو اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5746]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج نحوه مسلم: 1552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27905»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرج نحوه مسلم: 1552
حدیث نمبر: 5747
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ لَكِ هَذَا فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ مَنْ غَرَسَهُ مُسْلِمٌ أَوْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ أَوْ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ طَائِرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ سَبُعٌ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص درخت لگاتا ہے اور صبر کے ساتھ اس کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ پھل دینے لگتا ہے، تو پھر اس درخت کے پھل سے جو چیز کھائی جائے گی، وہ اللہ تعالی کے ہاں اس آدمی کے لیے صدقہ ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5747]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج نحوه مسلم: 1552، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27361 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27905»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرج نحوه مسلم: 1552
حدیث نمبر: 5748
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوآدمی درخت لگاتاہے تو اس سے جو پھل نکلتا ہے، اللہ تعالی اس کے بقدر اس کو اجر عطا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5748]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عبد العزيز الليثي۔أخرجه الطبراني: 3968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23917»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عبد العزيز الليثي۔أخرجه الطبراني : 3968
حدیث نمبر: 5749
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَهُ أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ
۔ سیدنا ابودردا ء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں دمشق میں پودے لگارہاتھا، میرے پاس سے ایک آدمی کا گزر ہوا، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو درداء! آپ صحابی ہوکر یہ کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر اعتراض کرنے میں جلد بازی مت کرو، میں نے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جوانسان پودا لگاتاہے پھر اس میں سے جو آدمی، بلکہ اللہ تعالی کی کوئی مخلوق جو کچھ کھاتی ہے، اس کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5749]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28055»
وضاحت: فوائد: … اعتراض کی وجہ یہ تھی کہ اس آدمی نے دنیا اور اس کی آبادی کی مذمت والی نصوص ذہن نشین کی ہوئی تھیں، ان کی روشنی میں اس نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا کہ صحابی ٔ رسول کو زیب نہیں دیتا کہ وہ دنیوی امور کی طرف متوجہ ہوں، آگے سے انھوں نے اپنی حسنِ نیت کے ذریعے اس کا جواب دیا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره