الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُصَرَّاةِ
اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو
حدیث نمبر: 5936
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً وَرُبَّمَا قَالَ شَاةً مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّهَا وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، وہ (اگر چاہے تو) اسے واپس لوٹا دے، لیکن اس کے ساتھ ایک صاع بھی لوٹائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قافلوں کو راستے میں ملنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5936]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2149، 2164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4096»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5937
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ بَيْعُ الْمُحَفَّلَاتِ خِلَابَةٌ وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَةُ لِمُسْلِمٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جو صادق اور مصدوق ہیں، نے فرمایا: دودھ روکے ہوئے جانوروں کی بیع کرنا دھوکہ ہے اور مسلمان کے لیے دھوکہ کرنا حلال نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5937]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، وروي مرفوعا وموقوفه ھو الصحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4125»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کا واضح ترین مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی آدمی دودھ روکا ہوا جانور خرید لیتا ہے تو اس کو تین ایام کے اندر اندر سودا واپس کرنے کا اختیار مل جاتا ہے، البتہ واپسی کی صورت میں اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جانور کے ساتھ ساتھ کھجوروں کا ایک صاع مالک کو واپس کرے، یہ دراصل روکے ہوئے دودھ کا عوض ہے، امام شافعی اور امام احمد سمیت جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ احناف میں سے زفر نے جمہور سے اتفاق کیا ہے، البتہ وہ کھجور کے ایک صاع اور گندم کے نصف صاع میں اختیار دیتے ہیں۔ عام احناف نے اس عیب کی وجہ سے بیع کو فسخ کرنے کا اختیار دیا ہے اور قیاس جلی کی روشنی میں اس حدیث میں بیان کیے گئے کھجوروں کے ایک صاع کو بھی تسلیم کرنے سے دوری اختیار کی ہے، اس مقصد کے لیے کبھی تو انھوں نے یہ کہہ دیا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہیں ہے، اس لیے ان کی وہ روایت قابل قبول نہیں ہو گی، جو قیاس جلی کے خلاف ہو گی۔ ہماری گزارش یہ ہو گی کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ احادیث کے حافظ تھے اور یہی صفت فقیہ کے شایان شان ہے، نیز اسی حدیث کو روایت کرنے والے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہیں کہ احناف جن کو فقہ اور اجتہاد کا امام سمجھتے ہیں؟ اس معاملے میں احناف کی سب سے بڑی غلطییہ ہے کہ وہ بعض واضح معاملات کی روشنی میں قانون بنا لیتے ہیں، پھر اس قانون کی روشنی میں مختلف حیلے بہانے تلاش کر کے شرعی نصوص کو ردّ کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس کی ایک مثال یہاں بیان کی گئی ہے۔ ہمارا نظریہیہ ہے کہ تمام قوانین و ضوابط شرعی نصوص کے تابع ہیں، قرآن و حدیث کو دیکھ کر قانون بنایا جائے گا اور آیات و احادیث کو دیکھ کر اس قانون میں سے مخصوص چیزوں کو مستثنی قرار دیا جائے گا، یہ قانون شریعت نے دیا ہے کہ چیز کو دیکھ کر اس کی قیمت طے کی جائے گی، لیکن روکے ہوئے دودھ کے عوض میں ایک صاع کھجوریں دے دینا،یہ بھی شرعی قانون ہے، اس لیے اس مخصوص مقام پر دوہے جانے والے پانچ دس کلو دودھ کی قیمت ادا نہیں کی جائے گی، بلکہ صرف ایک صاع کھجوریں دی جائیں گی، ایک صاع کا وزن دو کلوسو گرام ہو تا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَاب مَا جَاءَ فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ وَأَنَّ الكَسْبَ الْحَادِثَ لا يمنعُ الرَّدْ بِالْعَيْبِ
غلام کی ضمانت اور اس چیز کا بیان کہ تازہ کی ہوئی کمائی عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے¤میں رکاوٹ نہیں بنے گی
حدیث نمبر: 5938
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا اسْتَغَلَّهُ ثُمَّ وَجَدَ أَوْ رَأَى بِهِ عَيْبًا فَرَدَّهُ بِالْعَيْبِ فَقَالَ الْبَائِعُ غَلَّةُ عَبْدِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَلَّةُ بِالضَّمَانِ وَفِي لَفْظٍ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے غلام خریدا اوراس سے فائدہ حاصل کیا، لیکن بعد میں اس نے اس میں ایک عیب دیکھ کر اس کو واپس لوٹا دیا، بیچنے والے نے کہا: میرے غلام کی آمدنی (بھی مجھے دی جائے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آمدنی (اور نفع) ضمانت کے عوض ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5938]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3510، وابن ماجه: 2243، والترمذي: 1286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25019»
وضاحت: فوائد: … اَلْخِرَاج: ایسا فائدہ اور منافع جو فروخت شدہ چیز سے مشتری کو حاصل ہوتا ہے۔ بِالضَّمَانِ: یہ منافع اس کفالت و ذمہ داری کے عوض ہو گا، جو مشتری پر لازم ہو گی۔
اَلْخِرَاجُ بِالضَّمَانِ: اس ترکیب کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی آدمی زمینیا جانور یا غلام یا کوئی چیز خرید کر اس سے منافع حاصل کرتا ہے، پھر وہ اس میں ایسا نقص اور عیب پا لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس چیز کو واپس کر دیتا ہے، اب اس نے اِن دنوں میں اس چیز سے جتنا نفع حاصل کیا ہو گا، وہ اسی خریدار کا ہو گا اور اس منافع کو اس چیز کے ساتھ واپس نہیں کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ چیز عقد اور فسخ کے درمیان والی مدت میںتلف ہو جاتی تو اس کی ذمہ داری خریدار پر ہوتی اور یہ سارا اسی کو نقصان ہوتا، اس لیے آمدن کا حقدار بھی وہی ہو گا۔
اَلْخِرَاجُ بِالضَّمَانِ: اس ترکیب کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی آدمی زمینیا جانور یا غلام یا کوئی چیز خرید کر اس سے منافع حاصل کرتا ہے، پھر وہ اس میں ایسا نقص اور عیب پا لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس چیز کو واپس کر دیتا ہے، اب اس نے اِن دنوں میں اس چیز سے جتنا نفع حاصل کیا ہو گا، وہ اسی خریدار کا ہو گا اور اس منافع کو اس چیز کے ساتھ واپس نہیں کیا جائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر یہ چیز عقد اور فسخ کے درمیان والی مدت میںتلف ہو جاتی تو اس کی ذمہ داری خریدار پر ہوتی اور یہ سارا اسی کو نقصان ہوتا، اس لیے آمدن کا حقدار بھی وہی ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5939
عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُهْدَةُ الرَّقِيقِ أَرْبَعُ لَيَالٍ قَالَ قَتَادَةُ وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقُولُونَ ثَلَاثُ لَيَالٍ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام کی ذمہ داری چارراتوں تک ہے۔ جبکہ قتادہ کہتے ہیں: اہل مدینہ کے نزدیک تین راتیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5939]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عقبة، ثم ھو مضطرب۔ أخرجه ابن ماجه: 2245، وأخرجه بنحوه ابوداود: 3507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17491»
وضاحت: فوائد: … یعنی اگر کسی غلام میں چار دنوں کے اندر اندر کوئی عیب نظر آ جائے تو اس کو گواہی کے بغیر بیچنے والے کو واپس کر دیا جائے گا اور اگر خریدنے والے نے اس مدت کے بعد کسی عیب کا دعوی کر دیا تو گواہوں کا مطالبہ کیا جائے گا کہ آیا واقعییہ غلام شروع سے معیوب تھا۔ لیکنیہ روایت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5940
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار دنوں کے بعد (غلام کی) کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5940]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17424»
الحكم على الحديث: ضعیف
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي دَمِ الاحْتِكَارِ
ذخیرہ اندوزی کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 5941
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَبَرِئَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ وَأَيُّمَا أَهْلُ عَرْصَةٍ أَصْبَحَ فِيهِمُ امْرُؤٌ جَائِعٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ تَعَالَى
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے چالیس راتیں ذخیرہ اندوزی کی، وہ اللہ تعالیٰ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور جس گھر والوں کے پاس کوئی بھوکا آدمی ہو (اور وہ اسے کھانا نہ کھلائیں) تو ان سے بھی اللہ تعالی کی ضمانت اٹھ جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5941]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي بشر۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 6/ 104، وابويعلي: 5746، والحاكم: 2/ 11، والبزار: 1311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4880»
وضاحت: فوائد: … یعنی اللہ تعالی کے ہاں ایسے آدمی کی کوئی حرمت اور کرامت نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5942
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ احْتَكَرَ حُكْرَةً يُرِيدُ أَنْ يَغْلِيَ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ خَاطِئٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس ارادے سے ذخیرہ اندوزی کی کہ مسلمانوں کو مہنگائی میں مبتلا کر دیا جائے، تو وہ نافرمان ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5942]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الحاكم: 2/ 12، والبيھقي: 6/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8602»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5943
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ وَكَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَحْتَكِرُ الزَّيْتَ
۔ سیدنا معمربن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خطاکارہی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ سعید بن مسیب روغن زیتون (یا ہر قسم کا تیل) ذخیرہ کرلیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5943]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1605، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15761 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15853»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5944
عَنْ أَبِي يَحْيَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَأَى طَعَامًا مَنْثُورًا فَقَالَ مَا هَذَا الطَّعَامُ فَقَالُوا طَعَامٌ جُلِبَ إِلَيْنَا قَالَ بَارَكَ اللَّهُ فِيهِ وَفِيمَنْ جَلَبَهُ قِيلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهُ قَدِ احْتُكِرَ قَالَ وَمَنِ احْتَكَرَهُ قَالُوا فَرُّوخُ مَوْلَى عُثْمَانَ وَفُلَانٌ مَوْلَى عُمَرَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا فَقَالَ مَا حَمَلَكُمَا عَلَى احْتِكَارِ طَعَامِ الْمُصَلِّينَ قَالَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْإِفْلَاسِ أَوْ بِجُذَامٍ فَقَالَ فَرُّوخُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أُعَاهِدُ اللَّهَ وَأُعَاهِدُكَ أَنْ لَا أَعُودَ فِي طَعَامٍ أَبَدًا وَأَمَّا مَوْلَى عُمَرَ فَقَالَ إِنَّمَا نَشْتَرِي بِأَمْوَالِنَا وَنَبِيعُ قَالَ أَبُو يَحْيَى فَلَقَدْ رَأَيْتُ مَوْلَى عُمَرَ مَجْذُومًا
۔ مولائے عثمان فروخ نے بیان کیا کہ ایک دن سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ، جو کہ اس وقت امیر المؤمنین تھے، مسجد کی طرف نکلے اور وہاں بکھراہوا اناج دیکھا اور پوچھا: یہ اناج کیسا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ اناج ہمارے لئے باہر سے لایا گیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ تعالیٰ اس میں اور اس کو لانے والے میں برکت ڈالے۔ اتنے میں کسی نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ذخیرہ کیا ہوا مال ہے، انھوں نے پوچھا: کس نے اسے ذخیرہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام فروخ اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک غلام نے ذخیرہ کیا ہے، انھوں نے ان دونوں کو بلایا، پس وہ آ گئے، انھوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: اے امیرالمومنین! ہم اپنے مالوں سے اسی طرح کی خریدوفروخت کرتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالی اس پر افلاس یا کوڑھ کو مسلط کردیں گے۔ فروخ نے تو اسی وقت کہا: اے امیرالمومنین! میں اللہ تعالیٰ سے اور پھرآپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ اناج میں ذخیرہ اندوزی نہیں کروں گا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نے کہا:ہم اپنے مالوں سے چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ابویحییٰ کہتے ہیں: میں نے بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس غلام کو کوڑھ زدہ دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5944]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابييحيي المكي وفروخ مولي عثمان۔ أخرجه ابن ماجه: 2155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 135»
وضاحت: فوائد: … ذخیرہ اندوزی: حافظ ابن حجرl نے کہا: … لان الاحتکار الشرعی امساک الطعام عن البیع وانتظار الغلاء مع الاستغناء عنہ وحاجۃ الناس الیہ۔ (شرعی ذخیرہ اندوزییہ ہے کہ غلہ کو روک لینا اور فروخت نہ کرنا، اس انتظار میں کہ نرخ چڑھ جائیں، جبکہ عوام کو اس کی شدید ضرورت ہو اور ایسا کرنے والا اس سے مستغنی ہو۔)
سعید بن مسیب کا خیالیہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کا تعلق صرف اشیائے خوردنی کے ساتھ ہے۔لیکن ذخیرہ اندوزی کی مذمت کی احادیث عام ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ انسانوں کی ضرورت کا تعلق صرف کھانے پینے کی اشیاء سے نہیں ہے۔
سعید بن مسیب کا خیالیہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی کا تعلق صرف اشیائے خوردنی کے ساتھ ہے۔لیکن ذخیرہ اندوزی کی مذمت کی احادیث عام ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ انسانوں کی ضرورت کا تعلق صرف کھانے پینے کی اشیاء سے نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْعِيرِ
بھائو مقرر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5945
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ سَعَّرْتَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْخَالِقُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّزَّاقُ الْمُسَعِّرُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ بِمَظْلِمَةٍ ظَلَمْتُهَا إِيَّاهُ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ بھاؤ مقرر فرمادیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی ہی ہے، جو پیدا کرنے والا، کمی کرنے والا، کشادگی کرنے والا، رزق دینے والا اور بھاؤ بڑھانے والاہے، میں اللہ تعالی سے یہ امید رکھتا ہوں کہ جب میں اس کو ملوں تو کوئی بھی خون اور مال کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی حق تلفی کامطالبہ کرنے والا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5945]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3451، وابن ماجه: 2200، والترمذي: 1314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12619»
الحكم على الحديث: صحیح