🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْعِيرِ
بھائو مقرر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5946
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَلَا السِّعْرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَهُ لَوْ قَوَّمْتَ لَنَا سِعْرَنَا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُقَوِّمُ أَوِ الْمُسَعِّرُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُفَارِقَكُمْ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَطْلُبُنِي بِمَظْلِمَةٍ فِي مَالٍ وَلَا نَفْسٍ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ ایک مرتبہ عہد ِ نبوی میں چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ہمارے لئے قیمت یا بھاؤ مقرر کردیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جو قیمت مقرر کرتا ہے یا بھاؤ بڑھاتا ہے، میں تو یہ امید رکھتاہوں کہ جب تم سے جدا ہوں تو تم میں سے کوئی بھی اپنے مال اور جان کے بارے میں مجھ سے کسی قسم کی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5946]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11831»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2201
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5947
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ سَعِّرْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّمَا يَرْفَعُ اللَّهُ وَيَخْفِضُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلِمَةٌ قَالَ آخَرُ سَعِّرْ فَقَالَ ادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھاؤ تو مقرر کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو صرف اللہ تعالی ہی ہے، جو بھاؤ کو چڑھا دیتا ہے اور کم کر دیتا ہے، میں تو یہ امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملوں کہ میں نے کسی کا نقصان نہ کیا ہوا ہو۔ جب ایک دوسرے شخص نے بھی یہی بات کی کہ آپ نرخ کا تعین کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی کو پکارو (اور اس سے دعا کرو)۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5947]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3450، وابويعلي: 6512، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8852 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8839»
وضاحت: فوائد: … نرخ مقرر کرنے کی صورت یہ ہے کہ سلطان یا اس کا نائب یا کوئی حاکم منڈی میں اشیاء فروخت کرنے والوں کو احکام کے ذریعے پابند کر دے کہ وہ اتنے نرخ سے زائد اشیاء فروخت نہ کریں اور نرخ کے اتار چڑھاؤ، کمی بیشی کو مصلحتاً روک دیں۔ اس سے ایک تو تاجروں کو نقصان ہوتا ہے، دوسرا وہ اشیاء کو روک کر عوام کو ضروریات ِ زندگی سے محروم کر دیتے ہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کے مالک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس کو سستے داموں فروخت کرے یا مہنگے داموں، کوئی دوسرا اس کو پابند نہیں کر سکتا، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ایسے تاجروں کو لوگوں پر آسانی کرنے کی ترغیب دلائی جائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۶۰۴۸)اور اس کے بعد والی احادیث میںیہ ترغیب دلائی گئی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3450
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5948
عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْبَصْرِيَّ قَالَ ثَقُلَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ إِلَيْهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ هَلْ تَعْلَمُ يَا مَعْقِلُ أَنِّي سَفَكْتُ دَمًا قَالَ مَا عَلِمْتُ قَالَ هَلْ تَعْلَمُ أَنِّي دَخَلْتُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ قَالَ مَا عَلِمْتُ قَالَ أَجْلِسُونِي ثُمَّ قَالَ اسْمَعْ يَا عُبَيْدَ اللَّهِ حَتَّى أُحَدِّثَكَ شَيْئًا لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً وَلَا مَرَّتَيْنِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغْلِيَهُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُقْعِدَهُ بِعُظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ
۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ جب سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیماری کی وجہ سے بوجھل ہوگئے تو ان کے پاس عبید اللہ بن زیاد تیمارداری کے لئے آیا اور کہا: اے معقل! کیا میں نے خون ریزی کی ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو معلوم نہیں ہے، اس نے پھر کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مسلمانوں کے بھا ؤمیں کسی قسم کی مداخلت کی ہو؟ انہوں نے کہا: جی مجھے تو معلوم نہیں ہے۔ پھر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اٹھا کر بٹھاؤ، پھر انھوں نے عبیداللہ سے مخاطب ہوکر کہا: میں تجھے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں، جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک دو بار نہیں سنی، (بلکہ کئی دفعہ سنی ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کے بھاؤ میں مداخلت کی اور اس کو اُن پر مہنگا کردیا تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ روزِ قیامت اسے آگ کے وسیع مقام پر بٹھائے۔ عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی کئی دفعہ، ایک دو مرتبہ نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5948]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد۔ أخرجه الحاكم: 2/ 12، والطيالسي: 928، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 479، والبيھقي: 6/ 30، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20579»
وضاحت: فوائد: … آگ کا وسیع مقام، اس سے مراد یہ ہے کہ وسیع جگہ ہو گی اور وہاں بہت زیادہ آگ ہو گی، اللہ تعالی پناہ میں رکھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده جيد۔ أخرجه الحاكم: 2/ 12
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بابُ مَا جَاءَ فِي اخْتِلَافِ الْمُتَبَايَعَينِ
خریدوفروخت کرنے والوں کے مابین اختلاف ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5949
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَفِي لَفْظٍ وَالسِّلْعَةُ كَمَا هِيَ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ مَا يَقُولُ صَاحِبُ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَرَادَّانِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب خریدار اور فروخت کنندہ کا آپس میں اختلاف ہو جائے اور ان کے پاس (اپنے دعوی کی) دلیل بھی نہ ہو، جبکہ سامان ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہو، تو سامان کے مالک کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھردونوں سودا واپس کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5949]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 3511، والنسائي: 7/ 303،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4445»

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابوداود: 3511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5950
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ سِلْعَةً فَقَالَ هَذَا أَخَذْتُ بِكَذَا وَكَذَا وَقَالَ هَذَا بِعْتُ بِكَذَا وَكَذَا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا فَقَالَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مِثْلِ هَذَا فَأَمَرَ بِالْبَائِعِ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ثُمَّ يُخَيَّرَ الْمُبْتَاعَ إِنْ شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ
۔ عبدالملک بن عبید کہتے ہیں: میں ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس موجودتھا، ان کے پاس دوآدمی آئے، انھوں نے آپس میں کچھ سامان کا سودا کیا تھا، لیکن خریدار کہتا تھا کہ اس نے اتنے میں سامان خریدا ہے، اور بیچنے والا کہتا تھا کہ اس نے تو اتنے میں فروخت کیا ہے، ابوعبیدہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس اسی قسم کا مسئلہ لایا گیا تھا، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اسی طرح کا مسئلہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فروخت کرنے والے کوحکم دیا کہ وہ اپنے دعوی پر قسم اٹھائے، پھر خریدار کو اختیار دے دیا کہ اگر وہ چاہتا ہے تو اتنے میں لے لے اور اگر چاہتا ہے تو سرے سے سودا ہی ترک کر دے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5950]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4442»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4442
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5951
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ فِي الْبَيِّعَيْنِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ وَقَالَ أَبِي قَالَ حَجَّاجُ الْبَيِّعَيْنِ الْأَعْوَرُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُبَيْدَةَ قَالَ وَحَدَّثَنَا هُثَيْمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ
۔ (دوسری سند) عبداللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے والدمحترم پر یہ سند پڑھی: خرید و فروخت کرنے والوں کے بارے مجھے ہشام بن یوسف سے خبر دی گئی ہے، یہ ابن جریج کی حدیث ہے، وہ اسماعیل بن امیہ سے اور وہ عبدالملک بن عبیدسے بیان کرتے ہیں، لیکن میرے باپ امام احمد نے کہا: حجاج اعور نے کہا: عبدالملک بن عبیدہ نے کہا: ہمیں ہشیم نے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہمیں ابن ابی لیلیٰ نے قاسم بن عبدالرحمن سے بیان کیا اور انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، اس میں عَنْ اَبِیْہِ کے الفاظ نہیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5951]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4443»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4443
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5952
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب خرید و فروخت کرنے والے دو آدمیوں کا آپس میں اختلاف ہو جائے تو وہ بات قابل اعتماد ہو گی، جو فروخت کرنے والا کہے گا اور خرید ار کو یہ اختیار مل جائے گا کہ (وہ سودے کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا فسخ کرنا چاہتا ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5952]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 3511، والنسائي: 7/ 303، والترمذي: 1270، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4444»

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابوداود: 3511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5953
عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ وَالْأَشْعَثُ فَقَالَ ذَا بِعَشْرَةٍ وَقَالَ ذَا بِعِشْرِينَ قَالَ اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا قَالَ أَنْتَ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِكَ فَقَالَ أَقْضِي بِمَا قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ يَكُنْ بَيِّنَةٌ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ
۔ قاسم کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف ہو گیا، اول الذکر نے کہا: یہ دس کا ہے، لیکن مؤخر الذکر نے کہا:یہ بیس کا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے اور اپنے درمیان کسی آدمی کو مقر ر کرو (تاکہ وہ فیصلہ کر دے)۔ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو ہی مقرر کرتا ہوں، یہ سن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر میں وہی فیصلہ کروں گا، جو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیاہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لین دین کرنے والے دو آدمیوں میں اختلاف ہو جائے، جبکہ کسی کے پاس شہادت بھی نہ ہو تو فروخت کرنے والے کی بات پر اعتماد کیا جائے گا یا پھر دونوں بیع کو فسخ کر دیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب أحكام العيوب/حدیث: 5953]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4447»
وضاحت: فوائد: … جب فروخت کنندہ اور خریدار میں متعلقہ چیز کے بارے میں اختلاف پڑ جائے تو اگر کسی کے پاس گواہ ہوں تو ان کی گواہی کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گی، وگرنہ فروخت کنندہ کی بات کو معتبر سمجھا جائے گا، نہیں تو بات کو طول دیئے بغیر بیع کو فسخ کر دیا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4447
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں