الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ التَحْدِيرِ مِنَ الدِّينِ وَجَوَارِهِ لِلْحَاجَةِ وَمَا جَاءَ فِي اسْتِدَانَةِ النَّبِي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرض لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6020
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَعْدِلُ الدَّيْنُ بِالْكُفْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو (تو وہ دیکھ لے کہ) وہاں دینار ودرہم تو نہیں ہوں گے، بلکہ نیکیوں اور بدیوں کا تبادلہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6020]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، دراج ابو السمح في روايته عن ابي الھيثم ضعيف۔ أخرجه النسائي: 8/ 246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11353»
وضاحت: فوائد: … حشر والے دن قرض خواہ، قرضدار کی نیکیاں لے کر یا اپنی برائیاں اس کے کھاتے میں ڈال کر راضی ہو گا، جبکہ اس مقام پر سب سے زیادہ ضرورت نیکیوں کی زیادتی اور برائیوںکی کمی کی ہو گی۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6021
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُلَيْقِ النَّصْرَانِيِّ لِيَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَقُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ لِتَبْعَثَ إِلَيْهِ بِأَثْوَابٍ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَقَالَ وَمَا الْمَيْسَرَةُ وَمَتَى الْمَيْسَرَةُ وَاللَّهِ مَا لِمُحَمَّدٍ ثَاغِيَةٌ وَلَا رَاغِيَةٌ فَرَجَعْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ أَنَا خَيْرُ مَنْ يُبَايَعُ لِأَنْ يَلْبَسَ أَحَدُكُمْ ثَوْبًا مِنْ رِقَاعٍ شَتَّى خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ بِأَمَانَتِهِ أَوْ فِي أَمَانَتِهِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: میں کفر اورقرض سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا قر ض، کفر کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6021]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابوسلمة صاحب الطعام وجابر بن يزيد لايعرفان۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 1499، والبزار: 1305، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13594»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6022
عَنْ عِكْرَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ عُمَانِيَّانِ أَوْ قَطَرِيَّانِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ إِنَّ هَذَيْنِ ثَوْبَانِ غَلِيظَانِ تَرْشَحُ فِيهِمَا فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ وَإِنَّ فُلَانًا جَاءَهُ بَزٌّ فَابْعَثْ إِلَيْهِ يَبِيعُكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ قَالَ قَدْ عَرَفْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبِي أَيْ لَا يُعْطِينِي دَرَاهِمِي فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ أَرَاهُ قَالَ قَدْ كَذَبَ لَقَدْ عَرَفُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْ قَالَ أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حلیق نصرانی کے پاس بھیجا تاکہ وہ آسانی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کچھ کپڑے بھیج دے، پس میں اس کے پاس آیا اور کہا: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تیری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم آسانی تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کچھ کپڑے بھیج دو، لیکن اس نے (طعن کرتے ہوئے) کہا: آسانی کیا ہوتی ہے اور یہ کب ہوتی ہے؟ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بکری ہے نہ اونٹ۔ (میں یہ بات سن کر)واپس آ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یہ اللہ کا دشمن جھوٹ بول رہا ہے، میں سب سے بہتر لین دین کرنے والا ہوں، (لیکن یاد رکھو کہ) اگر کوئی آدمی مختلف ٹکڑوں سے بنا ہوا کپڑا پہن لے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنی امانت کی وجہ سے کوئی ایسی چیز حاصل کرے، جو اس کے پاس نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6022]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه الترمذي: 1213، والنسائي: 7/ 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25656»
وضاحت: فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے کا مفہوم یہ ہے کہ بندے کو کم سے کم چیزوں پر گزارا کر لینا چاہیے، لیکن اپنی امانت کے سہارے قرض نہیں لینا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے کہ بعد میں حالات ساتھ نہ دیں اور قرض کی ادائیگی لیٹ ہو جائے یا موت ہی موقع نہ دے، پہلی صورت میں صفت ِ امانت متأثر ہو گی اور دوسری صورت میں آخرت کا معاملہ خطرے میں پڑ جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6023
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَخَذَ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّاهَا اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو عمانی یا قطری کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، میں نے کہا کہ یہ دو کپڑے تو موٹے ہیں، جب آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے تو یہ وزنی ہوجاتے ہیں، فلاں تاجر کے ہاں ایک قسم کے کپڑے آئے ہیں، اگر آپ اس کی طرف پیغام بھیج دیں کہ وہ آسانی تک دو کپڑے آپ کو فروخت کردے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا تو اس نے کہا: میں جانتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا چاہتا ہے، وہ میرے کپڑے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یعنی وہ اس کے عوض میں میرے درہم ادا نہیں کرے گا، جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا وہ جھوٹ بول رہا ہے، یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا، سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ امانت کو ادا کرنے والا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6023]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2387، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8718»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ہمیںیہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات پر کیے گئے اعتراضات کا جواب کیسے دیتے تھے، اس معاملے میں انسان کو انتہائی فہیم اور حکیم ہونا چاہیے،یہ کوئی قانون وضابطہ نہیں ہے کہ ہر اعتراض کے جواب میں لڑائی کی جائے، یا اعتراض پر اعتراض کر دیا جائے، یا کسی قسم کی بے صبری کا مظاہرہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
6. بَابُ التَّشْدِيدِ عَلَى الْمَدِينِ إِذَا لَمْ يُرِدِ الْوَفَاءَ أَوْ تَهَاوَنَ فِيْهِ وَعَدْمِ صَلَاةِ الْفَاضِلِ عَلَى مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ
ادائیگی کا ارادہ نہ رکھنے والے یا ادائیگی میں سستی کرنے والے قرض دار شخص کی سخت مذمت اور فاضل آدمی کا فوت ہونے والے مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6024
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ الْجَنَّةُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ إِلَّا الدَّيْنَ سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ آنِفًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو انسان لوگوں سے (قرض وغیرہ کے طور پر) مال لیتا ہے اور اس کاارادہ واپس اداکرنے کا بھی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ادائیگی میں اس کی مدد کرتا ہے، لیکن جوانسان لوگوں کامال اس ارادہ سے لیتا ہے کہ اسے ضائع کر دے تو اللہ تعالی بھی اس کو تلف کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6024]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 372، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 557، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19077 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19287»
وضاحت: فوائد: … یہ حسنِ نیت کا انجام ہے کہ اللہ تعالی ادائیگی کے یا معافی کے اسباب کر دے گا، جبکہ اس معاملے میں بری نیت ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6025
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
محمد بن عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہما اپنے والد (عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ)سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔۔۔۔ پھر اسی طرح حدیث بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6025]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19288»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6026
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجَنَازَةٍ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ نُصَلِّي عَلَيْهِ ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالُوا لَا قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا نَعَمْ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ قَالَ فَقَالَ بِأَصَابِعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ قَالَ ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَا قَالَ فَصَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس میت نے کوئی قرضہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر ایک اورجنازہ لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کچھ قرض چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پھر فرمایا: کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تین دینار چھوڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں پر شمارکرتے ہوئے فرمایا: یہ آگ کے تین داغ ہیں۔ پھر تیسرا جنازہ لایا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ مقروض تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ مقروض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ترکہ بھی چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ یہ سن کر سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6026]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه ومختصرا البخاري: 2289، 2295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16624»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور صحابہ کو اس کی ادائیگی کا حکم دیا، اس سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ علاقے کی معروف اہل علم شخصیات کو ان لوگوں کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، جن کی نمازِ جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ کے تین دیناروں کو آگ کے تین داغ کیوں قرار دیا؟
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔“ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔“ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: ”بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّV: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی … “
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو داغ ہیں۔“ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ کے تین دیناروں کو آگ کے تین داغ کیوں قرار دیا؟
معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اس وعید کا بیچ میںکوئی اور سبب ہو گا، اس کا اظہار صرف دیناروں کی بنا پر نہیں کیا گیا، کیونکہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ میت مال کی اتنی مقدار چھوڑ جانے کی وجہ سے آگ کا حقدار نہیں ٹھہرتا ہے۔ آپ خود غور کریں کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ چھوڑ جانے کی رغبت دلاتے ہوئے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”اگر تو (اپنے ترکہ کے ذریعے) اپنے وارثوں کو غنی کر دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو ان کو اس حال میں چھوڑ جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلاتے پھریں۔“ (بخاری، مسلم)
اسی طرح جب نجدی نے زکوۃ کا مسئلہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا زکوۃ کے علاوہ بھی میرے مال میںکوئی حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ہاں اگر تم نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہو (تو کر سکتے ہو)۔“ (بخاری، مسلم) اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ مالدار زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال اپنے پاس رکھ سکتا ہے اور اسی حالت میں اس کو موت بھی آسکتی ہے۔
اس قسم کی بہت ساری احادیث ہیں جو زندگی میں مال و دولت جمع کرنے اور صاحب ِ مال کے فوت ہونے کے بعد اس کو اس کے وارثوں میں تقسیم کر دینے پر دلالت کرتی ہیں۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے: ”بَابُ مَنْ اَدَّیٰ زَکَاتَہٗفَلَیْسَ بِکَنْزٍ؛ لِقَوْلِ النَّبِیِّV: ((لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ اَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ …)) … زکوۃ کی ادائیگی کے بعد مال وہ خزانہ نہیں رہتا (جس کی مذمت کی گئی ہے) کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلہ پر زکوۃ لاگو نہیں ہوتی … “
اس بحث کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ اِس آدمی نے مال سے متعلقہ حقوق کی ادائیگی صحیح طور پر نہ کی ہو، مثلا اہل و عیال پر خرچ کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو لباس پہنانا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ آدمی مال کے باوجود فقر و فاقے کا اظہار کرتا ہو، جیسا کہ علقمہ مزنی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: اہل صفہ، مسجد میں رات گزارتے تھے، ان میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا ازار کھولا گیا تواس میں سے دو دینار نکلے، جن کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو داغ ہیں۔“ (مصنف عبد الرزاق: ۱/ ۴۲۱/ ۱۶۴۹)
اور اس احتمال کا بھی امکان ہے کہ یہ شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہو۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال سے متعلقہ تمام حقوق ادا کرے اور حلال ذرائع سے مال جمع کرے، وگرنہ وہ اس وعید کا مستحق قرار پائے گا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس حدیث میں بیان کی گئی وعید کا مطلب یہ ہو کہ ہمیں صدقہ و خیرات کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ایک دینار میں ساڑھے چار ماشے سونا ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6027
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَلْقَاهُ عَبْدٌ بِهَا بَعْدَ الْكَبَائِرِ الَّتِي نَهَى عَنْهَا أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَا يَدَعَ لَهُ قَضَاءً
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں (معروف) منہی عنہ کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑاگناہ یہ ہے کہ آدمی کو اس حال میں موت آئے کہ وہ مقروض ہو اور اس نے اسے اداکرنے کے لئے ترکہ بھی نہ چھوڑا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6027]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي عبد الله القرشي۔ أخرجه ابوداود: 3342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19724»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6028
عَنْ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ ادَّانَ مِنْ رَجُلٍ دَيْنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ مِنْهُ أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَيْهِ فَغَرَّهُ بِاللَّهِ وَاسْتَحَلَّ مَالَهُ بِالْبَاطِلِ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ سَارِقٌ
۔ سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی دوسرے شخص سے قرض لے اور اللہ تعالی اس کے بارے میں جانتا ہو کہ یہ ادا نہیں کرنا چاہتا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اللہ تعالی کے نام پر دھوکہ دیا اور باطل طریقے سے اس کا مال حاصل کیا، ایسا آدمی اللہ تعالی کو اس حال میں ملے گا کہ وہ چور ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6028]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي عبد الله القرشي۔ أخرجه ابوداود: 3342، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19140»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6029
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا ذَا أُنْزِلَ مِنَ التَّشْدِيدِ قَالَ فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا فَلَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا حَتَّى أَصْبَحْنَا قَالَ مُحَمَّدٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ قَالَ فِي الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَاشَ ثُمَّ قُتِلَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ
۔ سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد کے صحن میں اس مقام پر بیٹھے ہوئے تھے، جہاں جنازے رکھے جاتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے درمیان تشریف فرماتھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اچانک اپنی نگاہ کو آسمان کی جانب اٹھاکر دیکھا، پھر اپنی نظر جھکا لی اور اپنا دست مبارک اپنی پیشانی پر رکھا اور فرمایا: سبحان اللہ! سبحان اللہ!کتنی سختی نازل ہو رہی ہے۔ ہم ایک دن رات تک تو خاموش رہے، جبکہ ہم نے خیر ہی پائی، اگلے دن جب صبح ہوئی تو سیدنا محمد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ نازل ہونے والی سختی کون سی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قرض کے بارے تھی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے!اگر کوئی اللہ کی راہ میں قتل ہوجائے، پھر زندہ ہو، پھر اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو، پھر قتل ہو، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو، تو وہ جب تک قرض ادا نہیں کرے گا، اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6029]
تخریج الحدیث: «ضعيف بھذه السياقة، ابو كثير مولي محمد بن عبد الله روي عنه جمع وذكره ابن حبان في الثقات، وقد اختلف عليه فيه۔ أخرجه النسائي: 7/ 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22860»
وضاحت: فوائد: … آخرت کے لحاظ سے قرض کا معاملہ انتہائی خطرناک ہے، اگر کسی اشد ضرورت کی وجہ سے قرض لینا پڑ جائے تو پہلی فرصت میں اس کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح