🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب
قرض دینے کی فضیلت اور تنگدست پر آسانی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6010
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ حِينَ غَزَا حُنَيْنًا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَضَاهُ إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ
۔ سیدنا عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ حنین کے موقع پر اس سے تیس یا چالیس ہزار درہم قرض لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ سے واپس تشریف لائے تو اس کو قرضہ اداکیا اور دعا دیتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی آپ کے اہل اور مال میں برکت دے، ادھار کا صلہ یہی ہے کہ اسے پوراپورا واپس کیاجائے اور اس کی تعریف کرکے شکریہ ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6010]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2424، والنسائي: 7/ 314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16523»
وضاحت: فوائد: … قرض کی ادائیگی کے وقت قرض خواہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور اس کے لیے دعا بھی کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2424
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6011
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَأَلَ رَجُلًا أَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَالَ لَهُ ائْتِنِي بِشُهَدَاءَ أُشْهِدُهُمْ عَلَيْكَ فَقَالَ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا قَالَ فَائْتِنِي بِكَفِيلٍ قَالَ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ أَلْفَ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ وَقَضَى حَاجَتَهُ وَجَاءَ الْأَجَلُ الَّذِي أَجَّلَهُ فَطَلَبَ مَرْكَبًا فَلَمْ يَجِدْهُ فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا فَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَكَتَبَ صَحِيفَةً إِلَى صَاحِبِهَا ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي اسْتَسْلَفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ فَسَأَلَنِي شُهُودًا وَسَأَلَنِي كَفِيلًا فَقُلْتُ كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا فَرَضِيَ بِكَ وَجَهَدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ بِحَقِّهِ فَلَمْ أَجِدْ وَإِنِّي اسْتَوْدَعْتُكَهَا فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا يَقْدُمُ بِمَالِهِ فَإِذَا هُوَ بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَالُ فَأَخَذَهَا حَطَبًا فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ فَأَخَذَهَا فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ إِنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا يَخْرُجُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ بِهِ فِي الْخَشَبَةِ فَانْصَرَفَ بِالْأَلْفِ رَاشِدًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کے ایک آدمی نے کسی سے ایک ہزار دینار ادھار لینے کا سوال کیا۔ اس نے کہا: کوئی گواہ لاؤ، جسے میں تجھ پر گواہ بنا سکوں۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ گواہ کافی ہے۔ اس نے کہا: تو پھر کوئی کفیل لاؤ۔ اس نے کہا: اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ اس نے کہا: تو نے سچ کہا ہے۔ پس اس نے اسے ایک مقررہ وقت تک ایک ہزار دینار قرضہ دے دیا۔ وہ آدمی سمندر کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنی ضرورت پوری کی۔ جب مقررہ وقت آ پہنچاتو اس نے کوئی سواری تلاش کی، لیکن نہ مل سکی۔ سو اس نے ایک لکڑی لی اور اس میں کھدائی کر کے ایک ہزار دینار رکھ دیا اور ان کے مالک کی طرف ایک خط لکھا اور (لوہے وغیرہ کے ذریعے اس سوراخ کو) بند کر دیا، پھر وہ لکڑی لے کر سمندر کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ! تو جانتاہے کہ میں نے فلاں آدمی سے ایک ہزار دینا ادھار لیا تھا، جب اس نے مجھ سے شاہد اور کفیل کا مطالبہ کیا تو میں نے کہا تھا کہ اللہ ہی بطورِ کفیل کافی ہے۔ وہ (تیری کفالت پر) راضی ہو گیا تھا اور اب میں نے سواری تلاش تو کی تاکہ اس کا حق اس تک پہنچا دوں، لیکن سواری نہیں مل رہی۔ اب میں اس مال کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پھر اس نے وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی۔ اُدھرادھار دینے والا آدمی اس غرض سے نکلا کہ شاید (کوئی سوار) کسی سواری پر سوار ہو کر (میرا قرضہ چکانے کے لیے) میرا مال لے کر آ رہا ہو۔ اچانک (اسے سمندر کے کنارے پر) ایک لکڑی نظر آئی جس میں اس کا مال تھا۔ اس نے ایندھن کا کام لینے کے لیے وہ لکڑی اٹھا لی، جب اسے توڑا تو اسے مال اور خط موصول ہوا، اس نے وہ لے لیا۔ بعد میں قرضہ لینے والا آدمی (ایک ہزار دینار لے کر) خود بھی پہنچ گیا اور کہا: مجھے کوئی سواری نہیں مل سکی تھی (لہٰذا اب یہ قرضہ چکانے آیا ہوں)۔ قرضہ دینے والے نے کہا: اللہ تعالی نے مجھ تک وہ چیز پہنچا دی، جو تو نے لکڑی میں بھیجی تھی۔ سو وہ کامیاب ہو کر واپس پلٹ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6011]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8571»
وضاحت: فوائد: … قرض کی ادائیگی کامعاملہ تو واضح طور پر ثابت ہو رہا ہے، اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جب آدمی اللہ تعالی کو حقیقی گواہ اور کفیل تسلیم کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اپنی شان کے مطابق اس آدمی کو صلہ دیتے ہیں، غور کریں کہ اللہ تعالی نے اس لکڑی کو متعلقہ بندے تک کیسے پہنچایا۔ لیکن جب اس بندے نے دیکھا کہ اس نے اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے رقم تو بھیج دی ہے، لیکن شرعی قوانین کے مطابق اس نے حق ادا نہیں کیا، اس لیے وہ قرض خواہ کے پاس پہنچا، لیکن اس نے صدق و امانت کا ثبوت دیتے ہوئے لکڑی کے مل جانے کا اقرار کیا۔ سبحان اللہ وکفی باللہ وکیلا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2063
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6012
عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَى فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِنِي ثَمَنَ بَكْرِي فَقَالَ أَجَلْ لَا أَقْضِيكَهَا إِلَّا نَجِيبَةً قَالَ فَقَضَانِي فَأَحْسَنَ قَضَائِي قَالَ وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِنِي بَكْرِي فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا قَدْ أَسَنَّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ مِنْ بَكْرِي قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک اونٹ فروخت کیا، پھر جب میں اس کی قیمت کا تقاضا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اونٹ کی قیمت اداکیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: ہاں ضرور، بلکہ میں تجھے عطا نہیں کروں گا، مگر اس سے عمدہ اونٹ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرا قرض چکایا اور اچھی ادائیگی کی، اتنے میں ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرےاونٹ کی قیمت ادا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بڑا اونٹ عطا کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ تو میرے اونٹ سے بہتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص قوم کا بہترین فرد ہے، جو ادائیگی کے لحاظ سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6012]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 291، وابن ماجه: 2286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17279»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 291
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6013
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ میراقرض تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مجھے ادا کیا اور زیادہ بھی دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6013]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 443، 2394، 2603، ومسلم: 715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14284»
وضاحت: فوائد: … قرضہ اس لالچ میں دینا درست نہیں ہے کہ ادائیگی کے وقت اس سے بہتر چیز مل جائے گی، البتہ قرض دار اپنی طرف سے بہتر انداز میں ادائیگی کر سکتا ہے، بہرحال قرض خواہ کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی حرص رکھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 443
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6014
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا فَأَتَتْهُ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ أَعْطُوهُ فَقَالُوا لَا نَجِدُ لَهُ إِلَّا رَبَاعِيًا خِيَارًا قَالَ أَعْطُوهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے ادھار اونٹ لیا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِس کو اس کااونٹ دے دو۔ صحابہ نے کہا: اب تو ہمارے پاس چار دانتوں والا (چھ سال عمر والا) ہی بچا ہے،جو اس کے اونٹ سے اچھا اور بہتر اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی اِس کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں بہترین آدمی وہی ہے، جواچھے طریقے سے قرض کی ادائیگی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6014]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1600، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27723»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6015
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ وَفِي لَفْظٍ يَتَقَاضَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَأَغْلَظَ لَهُ قَالَ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا قَالَ اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ وَفِي لَفْظٍ الْتَمِسُوا لَهُ مِثْلَ سِنِّ بَعِيرِهِ قَالُوا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ قَالَ فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اونٹ کے قرض کی ادائیگی کامطالبہ کردیا اور سخت رویہ اختیار کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے ساتھ کوئی کاروائی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑدو، جس نے حق لیناہوتاہے، وہ باتیں کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اونٹ خرید کر اس کو ادا کرو۔ صحابہ نے کہا:اس کے اونٹ سے بہتر عمر والا اونٹ ہی میسر آ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی خرید کر دے دو، بے شک بہتر وہی ہے، جو قرض کی ادائیگی اچھے انداز میں کرتاہے۔ دیہاتی نے کہا:آپ نے مجھے میرے حق سے زیادہ دیا ہے، اللہ تعالی بھی آپ کو زیادہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے، جو بہتر طورپر قرض ادا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6015]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2306، 2390، 2401، 2606، 2609، ومسلم: 1601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9379»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صبروتحمل، انصاف پسندی اور قر ض کی حسن ادائیگی پر دلالت کرتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2306
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6016
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّةَ بِسَمَاحَتِهِ قَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا
۔ قرضہ اس لالچ میں دینا درست نہیں ہے کہ ادائیگی کے وقت اس سے بہتر چیز دی جائے گی، البتہ قرض دار اپنی طرف سے بہتر انداز میں ادائیگی کر سکتا ہے، بہرحال قرض خواہ کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی حرص رکھے۔(یہ عبارت شرح کی ہے اس کی وجہ سے نمبرنگ بھی خراب ہو گئی ہےپھر 6025 چونکہ مسنگ ہے اس لیے اس کے بعد نمبرنگ صحیح ہو گئی ہے) [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6016]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6963»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6017
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ أَوْ قَالَ الْأَنْفُسَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا نُخِيفُ أَنْفُسَنَا قَالَ الدَّيْنَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اس بناء پر جنت میں داخل ہو گیا کہ وہ ادائیگی کے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی (اور فراخ دلی) سے کام لیتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6017]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 1739، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ 906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17542»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۵۷۸۸)میں اس قسم کی حدیث گزر چکی ہے، معمولات میں نرمی اختیار کرنا، یہ کوئی چند دنوں کا کھیل نہیں ہے، اس صفت سے متصف ہونے کے لیے خاصا تکلف کرنا پڑتا ہے اور اپنے آپ کو اس چیز کا عادی بنانا پڑتا ہے کہ ہر قسم کے قول و فعل سے پہلے اپنے آپ کو سوچنے کا موقع دیا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 1739
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ التَحْدِيرِ مِنَ الدِّينِ وَجَوَارِهِ لِلْحَاجَةِ وَمَا جَاءَ فِي اسْتِدَانَةِ النَّبِي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
قر ض سے محتاط رہنے، بوقت ضرورت اس کے جائز ہونے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرض لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6018
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدَّيْنُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے آپ کو خوف میں مبتلا نہ کر دیا کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسو ل! کون سی چیز ہمیں خوف وہراس میں مبتلا کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6018]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17453»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17453
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6019
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَلَيْسَ بِالدِّينَارِ وَلَا بِالدِّرْهَمِ وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امن کے بعد اپنے نفسوں کو خوف میں مبتلا نہ کر دیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرض لے کر۔ [الفتح الربانی/كتاب السلم كتاب القرض والدين/حدیث: 6019]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 27، والبيھقي: 6/ 82، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5385»
وضاحت: فوائد: … کوئی مانے نہ مانے، قرضدار آدمی کا امن تباہ ہو جاتا ہے، عجیب قسم کی احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے، قرضہ وصول کرنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وقت پر ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں توہین آمیز باتیں سننا پڑتی ہیں اور ایسی صورت میں آدمی اپنے قرض خواہ سے چھپنا شروع کر دیتا ہے، نفس کو بے عزت کلمات سننے کی عادت ہو جاتی ہے اور بسا اوقات تو بھری مجلس میں غیرت و حمیت کو کھونا پڑتا ہے، اس پر مستزاد یہ کہ وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے معاشرے میں اس کی ساخت کو بری طرح نقصان پہنچتا ہے۔ ان ہی مصائب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف سے تعبیر کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 2/ 27
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں