🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ جَوَازِ الرِّهْنِ فِي الْحَضَرِ
حضر میں گر وی رکھنے کے جوازکا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6059
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض بطورِ گروی پڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل وعیال کی خوراک کے لئے یہودی سے وہ جو ادھار لئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6059]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه الترمذي: 1214، والنسائي: 7/ 303، وابن ماجه: 2439، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2109»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاِنْ کُنْْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِھٰنٌ مَّقْبُوْضَۃٌ} … اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والانہ پاؤ تو قبضہ میں رکھی ہوئی گروی ہو گی۔ (سورۂ بقرہ: ۲۸۳) اس آیت ِ مقدسہ میں سفر میں گروی رکھنے کا ذکر ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ گروی رکھنا سفر کے ساتھ خاص ہے، یہاں اغلبیت کے طور پر سفر کا ذکر کیا گیا، وگرنہ حضر میں بھی گروی رکھنا درست ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس حدیث سے کفار کے ساتھ ایسے معاملات کا جواز نکلتا ہے، جن کے متعلق واضح حرمت نہیں آئی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6060
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فوت ہوئے تھے تو آپ کی زرہ تیس صاع جوکے عوض گروی پڑی ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6060]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2916، 4467، ومسلم: 1603، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26526»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6061
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا نَسِيئَةً فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار پر ایک یہودی سے اناج خریدا تھا اور اپنی زرہ بطورِ گروی اس کے پاس رکھی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6061]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24647»
وضاحت: فوائد: … اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اسلحہ وغیرہ جس سے غیر مسلم کو نقصان پہنچ سکے، اس سے احتیاط کرتے ہوئے دوسر ی اشیاء کی تجارت غیر مسلموں سے جائز ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6062
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ تُوُفِّيَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فوت ہوئے توآپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس ایک وسق جوکے عوض بطورِ گروی پڑی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6062]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله ’’بوسق من شعير‘‘، وھذا اسناد ضعيف لضعف شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ماجه: 2438، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28139»
وضاحت: فوائد: … صحیح احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس صاع غلہ لیا تھا، اس روایت میں وسق کا ذکر ہے، جس میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6063
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَلَقَدْ رَهَنَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ مَا يَفْتَكُّهَا بِهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ حَتَّى مَاتَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کے ایک یہودی کے ہاں اپنی زرہ گر وی رکھ کر اس سے اناج لیاتھا، وفات تک اتنی گنجائش نہ ہو سکی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو واپس لے لیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6063]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 4147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13531»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ الظَّهْرِ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُوْنًا
گروی میں رکھی ہوئی سواری پر اس کے خرچ کے عوض سواری کر لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6064
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَتِهِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گروی رکھی ہوئی سواری پر اس پر ہونے والے خرچ کے عوض میں سواری کی جائی گے اور اسی طرح دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا، اور اس کا خرچ دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6064]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2511، 2512، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10114»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6065
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جانور گروی رکھا جا ئے گا تو اس کا چارہ گروی لینے والے کے ذمہ ہو گا اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا اور دودھ پینے والے اور سواری کرنے والے شخص پر اس کا خرچ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الرهن/حدیث: 6065]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7125»
وضاحت: فوائد: … گروی رکھنے والے کو رَاھِن اور جس کے پاس گروی رکھی جائے، اس کو مُرْتَھِن کہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مرتہن گروی میں رکھی ہوئی سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کا خلاصہ درج ذیل ہے:
اگر گروی رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج نہ ہو، مثلا گھر، سائیکل، موٹر سائیکل اور دیگر سامان وغیرہ تو کسی حال میں مرتہن کے لیےیہ جائز نہ ہو گا کہ وہ اس سے نفع حاصل کرے اور اگر گروی میں رکھی جانے والی چیز خرچے کی محتاج ہو، مثلا بکری اور گھوڑا وغیرہ، تو مرتہن اپنی طرف سے اس چیز پر جتنا خرچ کرے گا، اس کے برابر اس سے فائدہ اٹھا سکے گا، جیسا کہ درج بالا احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں