الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِصْلَاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ
باہمی صلح جوئی کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 6083
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ
۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتلاؤں کہ جس کا درجہ نماز، روزے اور صدقہ سے بھی زیادہ ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپس میں مصالحت کرنا اورآپس میں فساد پیدا کرنا تو (نیکیوں کو) تباہ کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6083]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4919، والترمذي: 2509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28058»
وضاحت: فوائد: … نفلی نماز روزے اور صدقہ و خیرات کے فوائد محدود ہیں، جبکہ صلح کے بے شمار فوائد ہیں، معاشرے کے اتحاد و اتفاق اور محبت و مودّت کا انحصار صلح جوئی پر ہے اور صلح نہ کرنے کی صورت میں بغض و عداوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور فرائض اور واجبات کے اجر و ثواب کو بھی مٹا دیتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4919
حدیث نمبر: 6084
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے مابین صلح کروانا جائز عمل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6084]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8770»
وضاحت: فوائد: … یہ مسلم معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ جب بھی لوگوں کے درمیان کے تعلقات معمول سے ہٹنا شروع ہو جائیں تو وہ فوراً کنٹرول کریں، حالات کو معمولی پر لائیں اور لوگوں میں مصالحانہ ماحول کو برقرار رکھیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3594
2. بَابُ جَوَازِ الصُّلْحِ عَنِ الْمَعْلُوْمِ وَالْمَجْهُولِ وَالتَّحَلَّل مِنْهُمَا
معلوم یا نامعلوم چیزمیں صلح کے جائز ہونے اوردونوں صورتوں میں ہو جانے والی¤کمی بیشی کو معاف کردینے کا بیان
حدیث نمبر: 6085
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَوَارِيثَ بَيْنَهُمَا قَدْ دَرَسَتْ لَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ أَوْ قَدْ قَالَ لِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَإِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَبَكَى الرَّجُلَانِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّي لِأَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِذَا قُلْتُمَا فَاذْهَبَا فَاقْتَسِمَا ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انصار کے دو آدمی رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس میراث کا مقدمہ لے کر آئے، جبکہ اس میراث کے آثار مٹ چکے تھے اور ان کے پاس کوئی دلیل بھی نہیں تھی، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی ایک بشر ہوں، تم لوگ میرے پاس اپنے فیصلے میرے پاس لے آتے ہو، ممکن ہے کہ کوئی آدمی اپنی دلیل کے نشیب و فراز سے واقف ہونے کی وجہ سے اس کو اچھے انداز میں پیش کرے اور پھر میں (ان ہی امور کی بنا پر) تم میں فیصلہ کر دو (تو سن لو کہ) میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ کر دوں تو وہ نہ لے، کیونکہ ایسی صورت میں میں اس کو جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا، وہ قیامت والے دن اس کے ذریعے اپنی گردن میں آگ بھڑکاتے ہوئے آئے گا۔ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا: میرا حق میرے بھائی کے لئے ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جبکہ تم یہ کہہ رہے ہو تو پھر جا کر اس کو اس طرح تقسیم کر لو کہ حق کو تلاش کرو اور پھر قرعہ اندازی کر لو اور ہر آدمی اپنے بھائی کو معاف بھی کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6085]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6967، ومسلم: 1713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27253»
وضاحت: فوائد: … مدّعِی، مدّعٰی علیہ اور ان کے گواہوں میں سے ہر ایک کو پتہ ہوتا ہے کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر، بالخصوص اول الذکر دو افراد کو، لیکن دوسرے آدمی کے حق کی اہمیت کا علم ہو جائے تو پھر انصاف پر برقرار رہنا آسان ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6967
حدیث نمبر: 6086
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ يَعْنِي مَظْلَمَةً لِأَخِيهِ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِهِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کے مال اور عزت میں کوئی زیادتی کی ہو تو اس کے پاس آکر اس کو معاف کر وا لے، قبل اس کے کہ اس کا مؤاخذہ کیاجائے، وگرنہ جس کا مؤاخذہ کیا جائے گا، اس دن درہم و دینار نہیں چلے گا، اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں ہوں گی تو اس سے نیکیاں لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی، وگرنہ مظلوم کی برائیاں ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6086]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9613»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6534
3. بَابُ الصُّلْحِ عَنْ دَمِ الْعَمَدِ بِأَكْثَرَ مِنَ الْدِيَةِ وَأَفَلَ
عمداً کیے گئے قتل کی دیت میں کمی بیشی کر کے صلح کروانے کا بیان
حدیث نمبر: 6087
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے جان بوجھ کرقتل کیا، اسے مقتول کے ورثاء کے سپرد کر دیا جائے گا، اگر وہ چاہیں اسے قتل کردیں اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں اور دیت کی تفصیل یہ ہے کہ تیس حقّے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹیاں ہوں، یہ قتلِ عمدکی دیت ہے اور اس کے علاوہ وہ چیز بھی شامل ہے، جس پر صلح ہو جائے،یہ سخت دیت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6087]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 1387، وابن ماجه: 2626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6717»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی تفصیل دیت کے ابواب میں آئے گی، اس مقام پر اس کو ذکر کرنے سے یہ مقصود ہے کہ قتل کے معاملے میں دیت سے زیادہیا اس سے کم پر صلح کرنا درست ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 1387
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَضْعِ الْحَشَبِ فِي جِدَارِ الْجَارِ وَإِنْ كَرِهَ
پڑوسی کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کی دیوار پر لکڑی رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6088
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مَرْفَقَهُ أَنْ يَضَعَهُ عَلَى جِدَارِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے (پڑوسی) بھائی کو نفع والی چیزیعنی دیوار پر (لکڑی وغیرہ) رکھنے سے منع نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6088]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2307»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2337
حدیث نمبر: 6089
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَتَهُ أَوْ قَالَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے پڑوسی کو دیوار میں کوئی شہتیر وغیرہ لگانے سے منع نہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6089]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5627، ومسلم: 1609، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7154»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5627
حدیث نمبر: 6090
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ وَفِي لَفْظٍ مَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَأُوا رُءُوسَهُمْ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑھنے کی اجازت طلب کرے تو وہ اس کو نہ روکے۔ جب سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ نے لوگو ں کو یہ حدیث سنائی انہوں نے اپنے سرجھکا لیے،یہ دیکھ کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے لگ رہا ہے کہ تم اس حکم سے اعراض کر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں نے وہ لکڑی تمہارے کندھوں میں ٹھونس دینی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6090]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7276»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7276
حدیث نمبر: 6091
عَنْ عِكْرَمَةَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَنِي الْمُغِيرَةِ أَعْتَقَ أَحَدُهُمَا أَنْ لَا يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ فَلَقِيَا مُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرِجَالًا كَثِيرًا فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعُ جَارٌ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ فَقَالَ الْحَالِفُ أَيْ أَخِي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ جِدَارِي فَفَعَلَ الْآخَرُ فَغَرَزَ فِي الْأُسْطُوَانِ خَشَبَةً فَقَالَ لِي عَمْرٌو فَأَنَا نَظَرْتُ إِلَى ذَلِكَ
۔ عکر مہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ بنو مغیرہ کے دو بھائی تھے، ان میں سے ایک نے غلا م آزاد کرنے کی قسم اٹھاکر کہا کہ وہ اپنے ہمسائے کواپنی دیوار میں شہتیر نہ رکھنے دے گا، پھر جب ان دونوں کی ملاقات سیدنا مجمع بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ اور کئی صحابہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: ہم لوگ یہ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں شہتیر وغیرہ رکھنے سے نہ روکے۔ یہ سن کر قسم اٹھانے والے نے کہا: اے میرے بھائی! مجھے پتہ چل گیا کہ یہ فیصلہ میری مخالفت میں اور تیرے حق میں ہونے والا ہے، جبکہ میں قسم بھی اٹھا چکا ہوں، اب تو میری دیوار کے ساتھ ستون بنالے، پس اس نے ایسے ہی کیا اور پھر ستون پر لکڑی رکھ لی۔ عمرو نے مجھ سے کہا: میں نے اس چیز کو دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6091]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، عكرمة بن سلمة مجھول، و ھشام بن يحيي مستور۔ أخرجه ابن ماجه: 2336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15939 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16035»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں پڑوسیوں کے حقوق کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے، خود غرضی اور مفاد پرستی کے اس دور میں ان حقوق کی پاسدار کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، خاص طور پر شہری زندگی میں۔ا گر ایک آدمی کوئی مکان یا چھپر بنانا چاہتا ہے اور ایک دو اطراف سے ہمسائیوں کیدیواریں موجود ہیں تو شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ اس آدمی کو اِن اطراف سے دیواریا ستون بنانے کی تکلیف نہ دی جائے، یہ حق ادا کرنے سے اس کا کام بھی جلدی ہو جائے گا، محنت بھی کم ہو گی اور خرچہ بھی بچ جائے گا۔ لیکن جب یہ حق ادا کرنے کی باری آتی ہے تو کوئی سوچتا ہے کہ اس کی دیوار پر وزن زیادہ آ جائے گا، کوئی کہتا ہے کہ وہ اس کی دیوار کو نقصان پہنچائیں گے، کسی کو یہ فکر لگی ہوتی ہے کہ کل کلاں یہ اس دیوار پر قبضے کا دعوی ہی نہ کر دے، یہ سب خطرات اس وقت سامنے آ جاتے ہیں، جب شریعت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا شوق اور رغبت نہ ہو، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور حکم سمجھ کر ہمسائے کا یہ حق ادا کر دیا جائے تو اس کی وجہ سے رحمت و برکت اور اجر و ثواب تو یقینی طور پر مل سکتا ہے، ان شاء اللہ نقصان نہیں ہو گا اور اگر کوئی نقصان ہو جائے تو اللہ تعالی کے لیے صبر کر کے خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا جائے اور حدیث ِ رسول کے احترام میں خاموش رہا جائے۔
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الطَّرِيْقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ كَمْ تُجْعَلُ
جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
حدیث نمبر: 6092
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوا وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَدَعْهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ کر عمارتیں تعمیر کر لو، اور جو اپنے پڑوسی سے اس کی دیوارپر شہتیر رکھنے کا مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو رکھنے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6092]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2757»
وضاحت: فوائد: … اسلام ایسا باکمال مذہب ہے کہ یہ نہ صرف آخرت کو سنوارنے کے ڈھنگ سکھاتا ہے، جو اس کا مقصودِ اصلی ہے، بلکہ دنیا میں بھی تنگ دستی و تنگ ذہنی سے آزاد ہو کر فارغ البالی اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کے لیے قوانین وضع کرتا ہے۔ جہاںشریعت نے وسیع گھر کو امن و سعادت کی علامت قرار دیا ہے، وہاں کھلے راستوں اور کھلی گلیوں کی وجہ سے بھی کئی پریشانیاں دور ہو جاتی ہے۔ اگر اس مسئلہ میں لوگ اتفاقِ رائے سے کوئی حد متعین کر لیں تو ٹھیک وگرنہ شریعت کا حکم نافذ ہو گا، جس کے مطابق کسی گزرگاہ کی چوڑائی سات ہاتھ یعنی ساڑھے دس فٹ رکھی جائے گی۔ گلیوں کا دس گیارہ فٹ وسیع ہونا دورِ حاضر کا اہم تقاضا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2339