🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الطَّرِيْقِ إِذَا اخْتَلَفُوا فِيهِ كَمْ تُجْعَلُ
جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6093
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں اور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ لے اور آمد ورفت والا راستہ سات ہاتھ چھوڑناہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6093]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه البيھقي:6/ 96، وأخرجه قوله: ’’لاضرر ولا ضرار‘‘ فقط ابن ماجه: 3341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2865»
وضاحت: فوائد: … ”اَلْمِیْتَائ“ باب ”اَتٰییَأْتِیْ“ سے مفعال کا وزن ہے اور میم زائد ہے، ”اَلطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ“ سے مراد بڑا راستہ ہے، جہاں سے کثرت سے لوگوں کا گزر ہوتا ہے، بعض نے اس کے معانی کھلے راستے یا آباد راستے کے بھی کیے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه البيھقي:6/ 96
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6094
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفُوا فِي الطَّرِيقِ رُفِعَ مِنْ بَيْنِهِمْ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگوں میں راستہ کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو درمیان سے سات ہاتھ چھوڑا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6094]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7126»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6095
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا فَقَضَى أَنْ يَتْرُكَ لِلطَّرِيقِ فِيهَا سَبْعَ أَذْرُعٍ قَالَ وَكَانَتْ تِلْكَ الطَّرِيقُ تُسَمَّى الْمِيتَاءَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6095]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ أخرجه البيھقي: 6/ 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اگر کسی کی خالی زمین پڑی رہے اور لوگ اس سے گزرتے رہیںیا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرتے رہیں تو وہ زمین اُس پہلے مالک کی ہی رہے گی اور اس کو استعمال کرنے والوں کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا، ما سوائے اس کے کہ لوگوں کے لیے سات ہاتھ چوڑا راستہ چھوڑ دیا جائے گا، ہمارے ہاں کچھ عرصہ تک زمین کو عارضی طورپر استعمال کرنے والے لوگ مستقل قبضے کا دعوی کر دیتے ہیں،یہ دعوی خلافِ شرع ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد۔ أخرجه البيھقي: 6/ 155
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ جَوَاز إِخْرَاجِ مَيَازِيْبِ الْمَطَرِ إِلَى الشَّارِعِ بِشَرْطِ كَتِ الضَّرَرِ عَنِ الْمَارة
پرنالوں کا پانی سڑک کی طرف نکال دینے کا جواز، لیکن شرط یہ ہے کہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6096
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ كَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ فَلَمَّا وَافَى الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِهِ ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ
۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا ایک پر نالہ تھا، اس کا پانی راستے پر گرتا تھا، ایک بار یوں ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لباس پہنا اور وہاں سے گزرے، اُدھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دو چوزے ذ بح کئے گئے تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پرنالے کے نیچے پہنچے تو چوزوں کے خون والا پانی اُن پر گرا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پرنالے کو وہاں سے اکھاڑنے کاحکم دے دیا اور خود واپس گھر لو ٹ کر کپڑے تبدیل کئے اور پھر تشر یف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، تب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم! یہ وہ جگہ ہے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود پرنالہ لگایا تھا، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: تو پھر میں تم سے پر زور بات کرتا ہوں کہ تم میری کمر پر چڑھو اور اس پرنالے کو اس جگہ پر نصب کر دو، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لگایا تھا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6096]
تخریج الحدیث: «حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1790»
وضاحت: فوائد: … یہ واقعہ بہت ہی ایمان افروزہے کہ صحابہ کرامe کس قدر آثار نبوت کو متبر ک تصور کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کی کس قدر تابعد اری کرتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گلیوں اور سڑکوں میں پرنالے چھوڑے جا سکتے ہیں، البتہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس سے گزرنے والوں کو کوئی بڑی ایذا نہ پہنچے۔

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا يَجُوزُ التَّوْكِيلُ فِيهِ
مشارکت اور مضاربت کے مسائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6097
عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَالْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا شَرِيكَيْنِ فَاشْتَرَيَا فِضَّةً بِنَقْدٍ وَنَسِيئَةٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمَا أَنَّ مَا كَانَ بِنَقْدٍ فَأَجِيزُوهُ وَمَا كَانَ بِنَسِيئَةٍ فَرُدُّوهُ
۔ ابومنہال سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم اور سیدنا بر اء بن عاز ب رضی اللہ عنہما دونوں آپس میں شراکت کے ساتھ کاروبار کرتے تھے، ایک دفعہ انہوں نے چاندی خریدی، اس کی کچھ مقدار نقدتھی اور کچھ ادھار، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ جو سودانقد ونقد ہواہے، اس کو برقرار رکھا جائے اور جو ادھار پر ہوا ہے، اس کو واپس کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6097]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2060، 3939، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19522»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اس نمبر (۵۹۷۵) میں گزر چکی ہے، اس باب میں اس کو بیان کرنے سے مقصود مشارکت کو ثابت کرنا ہے کہ دو چار بندے ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو کر کاروبار کر سکتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2060
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6098
عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَانَ أَحَدُنَا يَأْخُذُ النَّاقَةَ عَلَى النِّصْفِ مِمَّا يَغْنَمُ حَتَّى إِنَّ لِأَحَدِنَا الْقِدْحَ وَفِي لَفْظٍ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَطِيرُ لَهُ الْقِدْحُ وَلِلْآخَرِ النَّصْلَ وَالرِّيشَ
۔ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتا تھا، ہم اس طرح کرتے کہ ایک آدمی اپنے حصے کی غنیمت کے نصف حصے پر اونٹنی خرید لیتا تھا، اب بسا اوقات ایسے ہوتا کہ مال غنیمت میں سے کسی کو تیر ملتا اور کسی کو پھل اور پر۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلح وأحكام الجرار/حدیث: 6098]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال شيبان بن امية، وقد اختلف فيه علي عياش بن عباس القتباني۔ أخرجه النسائي: 8/ 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17119»
وضاحت: فوائد: … ایسا سودا کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں جہالت اور دھوکہ ہے۔ اس باب میں مضاربت سے متعلقہ کوئی حدیث نہیں ہے، مضاربت کی تعریفیہ ہے: ایسی تجارت جس میں سرمایہ ایک شخص کا اور محنت کسی دوسرے شخص کی ہو، بیچ میں شرط یہ ہو کہ منافع دونوں میں طے شدہ شرائط کے مطابق تقسیم کیا جائے گااور تجارت کے خسارے میں نقصان صرف مال کے مالک کا ہو گا اور عامل کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ مضاربت کے جواز پر امت کا اجماع ہے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم کسی کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تویہ شرط لگاتے کہ وہ ہمارے مال سے حیوان کی تجارت نہیں کرے گا اور وہ ہمارا مال نہ سمندر میں لے کر جائے گا اور نہ سیلابی مقامات پر، اگر اس نے ایسے کیا تو وہ خود ضامن اور ذمہ دار ہو گا۔ (بیہقی: ۶/ ۱۱۱، دارقطنی: ۳/ ۶۳)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال شيبان بن امية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12