الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6114
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے، اگر اس کو کاشت کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اس سے عاجز آ گیا ہو تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو عطیہ کے طور پر دے دے اور اس کو کرائے پر نہ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6114]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2340، 2632، ومسلم: س 1176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15281»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2340
حدیث نمبر: 6115
۔ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانِ) قَالَ: كَانَتْ لِرِجَالِ فُضُولُ أَرْضِينَ فَكَانُوا يُوَاجِرُوْنَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ( (مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعُهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ۔) )
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بعض لوگوں کے پاس زائد زمینیں ہوتی تھیں، وہ ان کو تہائی،چوتھائی اور نصف حصے کے عوض اجرت پر دے دیتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے یاپھر اپنے کسی بھائی کو بطور عطیہ دے دے، اگر وہ ایسا کام نہ کرنا چاہے تو پھر اپنی زمین کو اپنے پاس رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6115]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0
حدیث نمبر: 6116
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ أَوْ مَاءٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا تَبِيعُوهَا فَسَأَلْتُ سَعِيدًا مَا لَا تَبِيعُوهَا الْكِرَاءُ قَالَ نَعَمْ
۔ (تیسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زائد زمین یاپانی ہو تو اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو دے دے اور اس کو فروخت نہ کرے۔ سلیم بن حیان کہتے ہیں: میں نے سعید سے پوچھا کہ فروخت نہ کرنے کامطلب کرائے پر دینا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6116]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15357»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15357
حدیث نمبر: 6117
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَرْضَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعَهْدِ عُمَرَ وَعَهْدِ عُثْمَانَ وَصَدْرِ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِهَا بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ
۔ امام نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چھوٹی نہروں کے پاس اگنے والی فصل اور چارے کی کچھ مقدار کے عوض زمینوں کو کرائے پر دیا جاتا تھا، میں یہ نہیں جانتا کہ چارے کی مقدار کتنی ہوتی تھی۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانوں میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے شروع میں اپنی زمین کو کرائے پر دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا آخر دور جاری تھا کہ انہیں یہ بات موصول ہوئی کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو اس طرح کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس وہ ان کے پاس آئے، جبکہ میں نافع بھی ان کے ساتھ تھا اور اُن سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام ترک کردیا اور کرائے پر زمین دینا چھوڑ دیا، پھر جب ان سے اس بارے میں پوچھاجاتا تھا تو وہ کہتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کاخیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6117]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2343، 2344، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4504»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2343
حدیث نمبر: 6118
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ رَافِعٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے ابن خدیج! تم زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے اپنے دوچچو ں سے سنا، وہ اپنے گھر والوں کو یہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6118]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2345، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15919»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2345
حدیث نمبر: 6119
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالْأَرْضِ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ
۔ سیدنا رافع ابن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداوار اور معین غلے کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے، میرے ایک چچا ہمارے ہاں آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا ہے، جو ہمارے لئے سود مند تھا، بہرحال اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لئے زیادہ مفید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداواریا غلے کی معین مقدار کے عوض کرائے پر دینے سے منع فرما دیا ہے اور زمین کے مالکوں کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کریں یا کسی کو کاشت کرنے کے لیے دے دیں، اس کے علاوہ باقی صورتوں کو ناپسند کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6119]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15917»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1548
حدیث نمبر: 6120
عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ قُلْتُ وَمَا الْمُخَابَرَةُ قَالَ يُؤْجَرُ الْأَرْضُ بِنِصْفٍ أَوْ بِثُلُثٍ أَوْ بِرُبُعٍ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مخابرہ سے منع فرمایا ہے، میں نے کہا: مخابرہ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: زمین کو نصف یا تہائی یاچوتھائی پیدوار کے عوض کرائے پر دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6120]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3407، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21970»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3407
حدیث نمبر: 6121
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ فَتَرَكْنَاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مخابرہ کیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، پھر ہم نے اس کو ترک ہی کردیا۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2345، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15896»
وضاحت: فوائد: … ان تمام احادیث میں زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا ہے، اگلے ابواب کا مطالعہ جاری رکھیں اور یہ نکتہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ممانعت کی کیا وجہ ہے اور جواز کی کون سی صورتیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2345
3. بَابُ حُجَّةِ مَنْ مَنَعَ كِرَاءَ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا إِلَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے¤اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6122
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ قَالَ قُلْتُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ لَا إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتیوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں حنظلہ نے کہا: اگر سونے اور چاندی کے عوض میں دے تو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، صرف زمین کو اس کی پیداوار کے بعض حصے کے عوض میں دینے سے منع کیا گیا ہے، سونے اور چاندی کے عوض زمین کو کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6122]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2332، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17390»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2332
حدیث نمبر: 6123
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ قُلْتُ وَمَا الْحَقْلُ قَالَ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ كَرِهَ الثُّلُثَ وَالرُّبُعَ وَلَمْ يَرَ بَأْسًا بِالْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ يَأْخُذُهَا بِالدَّرَاهِمِ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے حکم سے دریافت کیا کہ محاقلہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: زمین کو تہائی یاچوتھائی حصہ پر کاشت کرنا، جب ابراہیم نے یہ بات سنی تو وہ تہائی اور چوتھائی حصے پر زمین کاشت کرنے کو ناپسند کرتے تھے، البتہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ کوری زمین درہموں کے عوض لی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6123]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398، والنسائي: 7/ 33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15811 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15904»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398