الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ حُجَّةِ مَنْ مَنَعَ كِرَاءَ الْأَرْضِ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا إِلَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
زمین کو اس کی بعض پیداوار کے عوض کرائے پر دینے سے منع کرنے والوں اور سونے¤اور چاندی کے عوض جائز سمجھنے والوں کی دلیل کا بیان
حدیث نمبر: 6124
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الْحَقْلُ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر زمین دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کے عوض کوئی متعین چیز لے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ حقل ہے اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6124]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2862»
وضاحت: فوائد: … اگلے باب کی پہلی حدیث میں اسی متن کو مرفوع بیان کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1550
حدیث نمبر: 6125
عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يُكْرُونَ الْمَزَارِعَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاذِيَانَاتِ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِرَاءَ الْمَزَارِعِ بِهَذَا وَنَهَى عَنْهَا وَقَالَ رَافِعٌ وَلَا بَأْسَ بِكِرَائِهَا بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بڑی نہروں کے پاس والی فصل، چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی فصل اور کچھ چارے یا بھوسے کے عوض کھیتوں کو کرائے پر دیتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طریقے سے کھیتوں کو کرائے پر دینے کو ناپسند کیا اور اس سے منع فرما دیا، پھر سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: البتہ درہم و دینار کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6125]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2332، 2722، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15902»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2332
حدیث نمبر: 6126
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الزَّرْعِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ كَيْفَ كِرَاؤُهَا أَبِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ فَقَالَ رَافِعٌ لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ
۔ (دوسری سند) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے چچا نے مجھے بیان کیا کہ وہ لوگ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چھوٹی نہروں کے آس پاس اگنے والی فصل اور کچھ کھیتی، جس کو مالک مستثنی کرتا تھا، کے عوض زمین کو کرائے پر دیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ میں حنظلہ نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے کہا:تو پھر زمین کو کس طرح کرائے پر دیا جائے؟ کیا درہم و دینار کے عوض؟ انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کھیتی کو درہم و دینار کے عوض کرائے پر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6126]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17410»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17410
حدیث نمبر: 6127
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَصْحَابَ الْمَزَارِعِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يُكْرُونَ مَزَارِعَهُمْ بِمَا يَكُونُ عَلَى السَّوَاقِي مِنَ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَاءِ مِمَّا حَوْلَ الْبِئْرِ فَجَاءُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَصَمُوا فِي بَعْضِ ذَلِكَ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُكْرُوا بِذَلِكَ وَقَالَ اكْرُوا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
۔ سیدنا سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھیتیوں کے مالکان عہد ِ نبوی میں اپنی کھیتیاں اس قطعۂ زمین کے عوض کرائے پردیتے تھے، جہاں پانی والی نالیاں بہتی تھیں یا کنویں کے ارد گرد جہاں پانی خود بخود چڑھ آتاتھا، لیکن جب وہ بعض معاملات میں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس طرح زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا اور فرمایا: سونے اورچاندی کے عوض زمین کرائے پردیاکرو۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6127]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3391، والنسائي: 7/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1542»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مالک اپنی زمین کی اجرت میں زمین کے بعض حصے اپنے لیے خاص کر لیتا تھا، جس سے بسا اوقات مالک کو زیادہ فائدہ ہو جاتا تھا اور مُزَارِع کو نقصان اور کبھی اس کے برعکس۔ دوسرایہ مسئلہ ثابت ہوا کہ زمین ٹھیکے پر دینا درست ہے، مثلا آٹھ ہزار روپے کے عوض ایک سال کے لیے ایک ایکڑ زمین کرائے پر دینا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3391
4. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى الْجَوَاز بِالْجَمِيعَ وَحَمَلَ النَّهَى عَلَى كَرَاهَةِ التَّنْزِيهِ
تمام طریقوں سے زمین کو کرائے پر دینے والوں کی دلیل کا اور ممانعت کو نہی تنزیہی¤پر محمول کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6128
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو وَذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ طَاوُسٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا
۔ سیدنا عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ بٹائی پرزمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے۔ عمروبن دینار نے کہا: جب میں نے طاؤوس کے سامنے اس چیز کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین اپنے بھائی کوبطور عطیہ دے دے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس پر زمین کی مقررہ پیداوار لے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6128]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2342، ومسلم: 1550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2087»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2342
حدیث نمبر: 6129
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ قَالَ سُفْيَانُ حَظُّ الْأَرْضِ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ
۔ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عرب کی چند بستیوں کی طرف بھیجا اور حکم دیاکہ میں وہاں سے زمین کاتہائی اور چوتھائی لے کر آؤں۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6129]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جابر بن يزيد الجعفي ضعيف، ومحمد بن زيد الجعفي لم نتبينه۔ أخرجه عبد الرزاق: 14472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22468»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا وَعَطَاءً وَمُجَاهِدًا وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ قَالَ شُعْبَةُ كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع کر دیا جوہمارے لئے فائدہ مندتھا، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ہی ہمارے لئے اس کام سے بہتر ہے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ اسے خود کاشت کرے یا اسے ویسے ہی چھوڑ دے، یا کسی بھائی کو کاشت کے لیے بطورِ عطیہ دے دے۔ عبد الملک کہتے ہیں: میں نے طاؤوس سے اس حدیث کا ذکر کیا،ان کا خیال تھا کہ اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سب سے زیاد ہ علم رکھنے والے ہیں اور وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، اگر وہ اپنے بھائی کو کاشت کے لیے دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: عبد الملک ان تین راویوں کو جمع کرتے تھے: طاؤوس، عطاء اور مجاہد، اور مجاہد سے بیان کرنے والے راوی کے بارے میں شعبہ کا خیال تھا کہ وہ صاحب ِ حدیث ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6130]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2598»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1550
حدیث نمبر: 6131
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ قَدِ اقْتَتَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنَكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ قَالَ فَسَمِعَ رَافِعٌ قَوْلَهُ لَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ
۔ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، میں اس حدیث ِ مبارکہ کو ان سے زیادہ جاننے والا ہوں، اصل بات یہ تھی کہ جب دو آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر جھگڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرتمہاری یہ صورت حال ہے تو پھر زمینیں کرائے پر ہی نہ دیاکر و۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف یہ الفاظ سنے تھے کہ زمینوں کو کرائے پر نہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6131]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1550، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21966»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں مذکورہ احادیث کے انداز سے پتہ چلتا ہے کہ مصلحتاً زمین کو کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا ہے۔ زمین کو کرائے پر دینے سے متعلقہ پچھلے چند ابواب میں مذکورہ احادیث ِ مبارکہ کا خلاصہ درج ذیل ہے: بہتر یہ ہے کہ زمین کرائے پر نہ دی جائے، بلکہ کسی مسلمان بھائی کو بغیر کسی معاوضہ کے کاشت کرنے کے لیے دے دی جائے۔ درہم و دیناریعنی نقدی کے عوض زمین کو ٹھیکے پر دینا جائز ہے، جیسا کہ آج کل پاکستان کے نہری علاقے میں ہوتا ہے۔ زمین کو اس کی کل پیداوار کے بعض معین حصے پر کرائے پر دینا جائز ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کے ساتھ کیا تھا، آج کل یہ طریقہ پاکستان کے بارانی علاقوں میں اپنایا جاتا ہے۔ زمین کو اس طرح کرائے پر دینا منع ہے کہ اس کے بعض حصے کو مالک کے لیے اور بعض حصے کو مُزَارِع کے لیے خاص کر دیا جائے، کیونکہ اس میں فریقین میں سے ایک کے نقصان کا امکان ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1550