🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب مَا جَاءَ فِي الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ
مساقات اور مزارعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6104
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور عیسائیوں کو حجاز سے جلاوطن کیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر کے علاقے پرقابض ہوئے تو وہاں سے یہودیوں کو نکال دینے کا ارادہ کیا، کیونکہ فتح کے بعد وہ زمین اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کی ہو چکی تھی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں سے نکالنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اس شرط پر ہمیں ہی یہاں ٹھہرنے دیا جائے کہ ہم نصف پھل کے عوض محنت کریں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، ہم جب تک چاہیں گے، تم کویہاں برقرار رکھیں گے۔ پس وہ وہاں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تیماء اور اریحاء کی جانب جلا وطن کردیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6104]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2338، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6368»
وضاحت: فوائد: … یہ مزارعت کے جواز کی دلیل ہے، لیکن اس کی صورت یہ ہے کہ مالک کل پیدوار کا کچھ حصہ اپنے لیے مقرر کرے اور کچھ مزارعین کے لیے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2338
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6105
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَهُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ وَصَارَتْ خَيْبَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ ضَعُفَ عَنْ عَمَلِهَا فَدَفَعُوهَا إِلَى الْيَهُودِ يَقُومُونَ عَلَيْهَا وَيُنْفِقُونَ عَلَيْهَا عَلَى أَنَّ لَهُمْ نِصْفَ مَا خَرَجَ مِنْهَا الْحَدِيثَ
۔ بشیر بن یسارسے مروی ہے کہ انھوں نے کئی صحابہ کرام کو اس طرح ذکر کرتے ہوئے پایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر پر غالب آئے اور خیبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ملکیت میں آگیا تو چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اور صحابہ) خود اس میں کام کاج کرنے سے کمزور تھے، اس لیے اس کو یہودیوں کے سپرد کردیا کہ وہ اس کی نگرانی کریں گے اور اس پر خرچ کریں گے اور ان کو اس کے عوض نصف پھل ملے گا۔ (الحدیث) [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6105]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3011، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16530»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3011
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6106
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کی زمین اورکھجوریں نصف نصف حصے پر یہودیوں کودے دی تھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6106]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه مطولا ابوداود: 3410، وابن ماجه: 1820، ومختصرا 2468، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2255»

الحكم على الحديث: حسن لغيره۔ أخرجه مطولا ابوداود: 3410
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6107
۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ نَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ ثَمَرِ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والوں سے نصف آمدن پر معاملہ طے کیا وہ کھیتی ہو یا پھل۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6107]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2329، 2331، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4663 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2329
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6108
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَأْجَرَ الْأَرْضُ بِالدَّرَاهِمِ الْمَنْقُودَةِ أَوْ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درہموں کی نقدی کے عوض یا پیداوار کے تہائی اورچوتھائی حصے کےبدلے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6108]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد دون لفظة ’’بالدراھم المنقودة‘‘ وھذا اسناد ضعيف، فيه انقطاع، مجاھد لم يسمع من رافع بن خديج، وشريك النخعي سييء الحفظ۔ أخرجه الترمذي: 1384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17396»

الحكم على الحديث: صحيح بالشواهد دون لفظة ’’بالدراھم المنقودة‘‘ وھذا اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6109
عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقُلْتُ إِنَّ لِي أَرْضًا أُكْرِيهَا فَقَالَ رَافِعٌ لَا تُكْرِهَا بِشَيْءٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَدَعْهَا فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكْتُهَا وَأَرْضِي فَإِنْ زَرَعَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ مِنَ التِّبْنِ قَالَ لَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَا تِبْنًا قُلْتُ إِنِّي لَمْ أُشَارِطْهُ إِنَّمَا أَهْدَى إِلَيَّ شَيْئًا قَالَ لَا تَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا
۔ سیدنا رافع کے غلام ابونجاشی کہتے ہیں: میں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں سوال کیا اور کہا: میری زمین ہے، کیا میں اسے کرائے پر دے سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: اس کو کسی چیز کے عوض کرانے پر نہ دینا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے، اگر خود کاشت نہیں کرتا تو اپنے کسی بھائی کو کاشت کرنے کے لیے دے دے اور اگر وہ اس طرح بھی نہیں کرتا تو اس کو ویسے ہی چھوڑ دے۔ میں نے کہا: جی یہ بتائیں کہ اگر میں اپنی زمین کو کاشت کے بغیر چھوڑ دیتا ہوں، لیکن اگر میرا کوئی بھائی اس کو کاشت کرتا ہے اور میری طرف کچھ چارہ بھیج دیتا ہے (تو اس میں کیا حرج ہے)؟ انھوں نے کہا: تو اس سے کچھ بھی نہ لے اور نہ چارہ۔ میں نے کہا: جی میں اس سے کوئی شرط نہیں لگاتا، بس وہ میری طرف کوئی چیز بطورِ ہدیہ بھیج دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس سے کچھ بھی نہ لے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6109]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2339، ومسلم: 1548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17399»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2339
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6110
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ وَمِنْ كَذَا فَقَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُحْرِثْهَا أَخَاهُ وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں زمین بٹائی پر دیتے تھے اور بسا اوقات غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے وہ دانے ہمیں ملتے تھے،جو گاہنے سے الگ نہ ہو سکے ہوں،اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ اس کو خود کاشت کرےیاپھر کسی بھائی کو برائے کاشت دے دے، وگرنہ اس کو ویسے ہی چھوڑدے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6110]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: س 1177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14404»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: س 1177
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6111
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْفَقُ نَهَانَا أَنْ نَزْرَعَ أَرْضًا يَمْلِكُ أَحَدُنَا رَقَبَتَهَا أَوْ مِنْحَةَ رَجُلٍ
۔ رافع کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایاہے کہ وہ کام ہمارے لئے بہتری والاتھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری ہمارے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، تفصیل یہ ہے کہ اگر زمین کسی کی ملکیت ہے یا کسی کا عطیہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں بٹائی پر کام کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6111]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3397، والنسائي: 7/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15916»

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3397
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6112
عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرِ بْنِ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَى بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَال bookstoresنِّصْفِ وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا وَكَانَ يُعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ وَيُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ إِنَّ النَّبِيَّ نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ
۔ اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہم ضرورت سے زائد زمین پیداوار کے تہائی، چوتھائی اور نصف حصے پر بٹائی پر دے دیا کرتے تھے اور تین تین نالیوں، غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے دانوں اور چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی زمین کی شرط لگا لیتے تھے، جبکہ اس وقت گزران میں بڑی تنگی ہوتی تھی، پھر وہ لوگ لوہے کے آلات وغیرہ سے زراعت کرتے تھے اور ہمیں بھی نفع مل جاتا تھا لیکن ہوا یوں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اورکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں ایک ایسے کام سے روک دیا ہے، جو کہ تمہارے لئے نفع بخش تھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مندہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں بٹائی پر کھیتی باڑی کرنے سے منع کر دیا ہے اور فرمایاہے: جس کے پاس زائدزمین ہو، وہ اسے اپنے بھائی کو بلاعوض عاریۃ دے دے یا پھر اس کو خالی پڑا رہنے دے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں مزابنہ سے بھی منع کر دیا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس کھجورکے درختوں پر لگا ہوا بہت زیادہ مال ہو اور اس کے پاس دوسرا آدمی آئے اور کہے: میں تجھے کھجوروں کے اتنے وسق دے کر یہ کھجوریں خریدتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6112]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398، والنسائي: 7/ 33، وابن ماجه: 2460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15908»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6113
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ قَالَ الْحَكْمُ وَالْحَقْلُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت یعنی پیداوار کے تہائی اورچوتھائی حصہ پر زمین بٹائی پر دینے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6113]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 35، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15923»

الحكم على الحديث: صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 35
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں