الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَنِ اعْتَصَبَ أَوْ سَرَقَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ وَلَوْ قِيْدَ شير أو ذراع
زمین کو غصب کرنے یا اس کو چوری کرنے والے کا بیان، اگرچہ وہ ایک بالشت¤یا ایک ہاتھ کے برابر ہو
حدیث نمبر: 6196
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ قَالَ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَيْسَتْ حَصَاةٌ مِنَ الْأَرْضِ أَخَذَهَا إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا الَّذِي خَلَقَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جسے آدمی اپنے بھائی کے حق سے چھین لیتا ہے،جو آدمی اس طرح کی ایک کنکری کے بقدر زمین ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن اسے زمین کی گہرائی تک طوق پہنایا جائے گااور زمین کی گہرائی کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6196]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة ولانقطاعه، فابو عبد الرحمن الحبلي لم يُذكر انه روي عن ابن مسعود، وروايته عن صغار الصحابة۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 10516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3767»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة ولانقطاعه
حدیث نمبر: 6197
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے، اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6197]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2454، 3196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5740»
وضاحت: فوائد: … دھنسایا جانا یا طوق پہنایا جانا معلوم ہوتا ہے۔ مختلف غاصب افراد کو مختلف سزائیں ملیں گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2454
حدیث نمبر: 6198
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِغَيْرِ حَقِّهَا كُلِّفَ أَنْ يَحْمِلَ تُرَابَهَا إِلَى الْمَحْشَرِ
۔ سیدنایعلیٰ بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کر لیا، اسے قیامت کے دن یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس جگہ کی مٹی کو اٹھا کر محشر میں لائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6198]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17712»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 690
حدیث نمبر: 6199
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ كَلَّفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْفِرَهُ حَتَّى يَبْلُغَ آخِرَ سَبْعِ أَرَضِينَ ثُمَّ يُطَوَّقُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ
۔ (دوسری سند) سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جوشخص ظلم کرتے ہوئے کسی کی ایک بالشت زمین ہتھیا لے گا، اللہ تعالی اسے یہ تکلیف دے گا کہ وہ اس زمین کو سات زمینوں تک کھودے اور پھر اسے قیامت کے دن لوگوں کے مابین فیصلہ ہونے تک (اس مٹی) کا طوق پہنا دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6199]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الربيع بن عبد الله۔ أخرجه ابن حبان: 5164، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17714»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الربيع بن عبد الله۔ أخرجه ابن حبان: 5164
حدیث نمبر: 6200
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي اغْتَصَبَهَا هَذَا وَأَبُوهُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَحْلِفْهُ أَنَّهُ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي وَأَرْضُ وَالِدِي وَالَّذِي اغْتَصَبَهَا أَبُوهُ فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ عَبْدٌ أَوْ رَجُلٌ بِيَمِينِهِ مَالًا إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ فَقَالَ الْكِنْدِيُّ هِيَ أَرْضُهُ وَأَرْضُ وَالِدِهِ
۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کندہ کے ایک شخص اور حضرموت کے ایک آدمی کے مابین یمن میں واقع ایک زمین کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، اس نے اور اس کے باپ نے اس پر ناجائز قبضہ کر لیاہے، کندہ کے باشندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ زمین میری ہے، مجھے اپنے باپ کے ورثے میں ملی ہے، حضرمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے یہ قسم لے لیں کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے اور غصب کرنے والا اس کا باپ ہے۔اُدھر کندی قسم اٹھانے کے لئے تیارہو گیا، لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کس کا مال ہتھیا لے گا تو روز قیامت جب اس کی ملاقات اللہ تعالیٰ سے ہوگی تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ یہ فرمان سن کر کندی نے کہا: یہ زمین اس کی اور اس کے باپ کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6200]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة۔ أخرجه ابوداود: 3244، 3622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22192»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة۔ أخرجه ابوداود: 3244
حدیث نمبر: 6201
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي أَرْضٍ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبِ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہ زمین کے معاملے میں کسی سے جھگڑ رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین کے معاملے میں احتیاط برتنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایک بالشت کے بقدر نا حق زمین ہتھیا لیتا ہے، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6201]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2453، ومسلم: 1612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24857»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا مضمون ہے کہ کسی کی معمولی مقدار میں زمین ہتھیا لینا بہت بڑا جرم ہے اور یہ گناہ بندے کی آخرت کو خسارے میں ڈال دینے والا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2453
فصل: ارویٰ بنت اویس اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا واقعہ
حدیث نمبر: 6202
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَتْنِي أَرْوَى بِنْتُ أُوَيْسٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ فَقَالَتْ إِنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَدِ انْتَقَصَ مِنْ أَرْضِي إِلَى أَرْضِهِ مَا لَيْسَ لَهُ وَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ تَأْتُوهُ فَتُكَلِّمُوهُ قَالَ فَرَكِبْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ فِي أَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَلَمَّا رَآنَا قَالَ قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي جَاءَ بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ مَا لَيْسَ لَهُ طُوِّقَهُ إِلَى السَّابِعَةِ مِنَ الْأَرْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَفِي لَفْظٍ وَمَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَفِي لَفْظٍ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ
۔ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: قریش کے ایک وفد کے ساتھ ارویٰ بنت اویس میرے پاس آئی، اس وفد میں عبد الرحمن بن سہل بھی تھا، وہ خاتون کہنے لگی: سیدنا سعیدبن زید رضی اللہ عنہ نے میری زمین کا کچھ حصہ اپنی زمین میں ملا لیا ہے، دراصل وہ اس کا نہیں تھا، اب میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کے پاس جائیں اور اس بارے میں اس سے بات کریں۔ طلحہ کہتے ہیں: ہم سوار ہو کر ا س کے پاس عقیق مقام پر گئے، اسی مقام پر ان کی زمین تھی،انہوں نے ہمیں دیکھ کر کہا: میں جانتا ہوں کہ تمہاری آمد کا مقصد کیاہے، میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی کی وہ زمین ہتھیا لے گا، جو اس کی نہیں ہو گی تو اللہ تعالیٰ اسے روز قیامت ساتوں زمینوں تک کا طوق ڈالے گا اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو گیا وہ شہید ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6202]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 115، وابن ماجه: 2580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1642»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه النسائي: 7/ 115
حدیث نمبر: 6203
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا مَرْوَانُ انْطَلِقُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَتَرَوْنَ أَنِّي قَدِ اسْتَنْقَصْتُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ وَفِي لَفْظٍ مَنْ سَرَقَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ بِيَمِينِهِ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ
۔ ابو سلمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مروان نے ہم سے کہا کہ جائیں اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور ارویٰ بنت اویس کے درمیان صلح کروائیں۔ جب ہم سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمیں کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے ارویٰ کی زمین کا حصہ مار لیا ہے؟ میں نے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو کوئی بغیر حق کے ایک بالشت کے بقدر کسی کی زمین ہتھیا لے گا یا چرا لے گا، اس کو سات زمینوں سے طوق پہنایا جائے گا اور جس نے اجازت کے بغیر کسی قوم کو اپنا والی بنایا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوگی اور جس نے قسم کے ذریعے اپنے بھائی کا مال چھین لیا، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہیں کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6203]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1649»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا حدیث بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اروی اپنے بیان میں سچی نہیں ہے، انھوں نے نہ اس کی زمین ہتھیائی ہے اور نہ چرائی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا: اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَاَعْمِ بَصَرَھَا وَاجْعَلْ قَبَرَھَا فِیْ دَارِھَا۔ … اے اللہ! اگر یہ اروی جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر کے اندر بنا دے۔ راوی کہتا ہے: پھر میں نے اس خاتون کو دیکھا کہ وہ اندھی ہو گئی اور دیوار کو چھو کر چلتی تھی اور کہتی تھی: سعید بن زید کی بد دعا مجھے لگ گئی ہے، ایک دن وہ اپنے گھر میں چل رہی تھی کہ گھر میں موجود کنویں میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر ٹھہرا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1649
4. بَاب مَنْ أَخَذَ شَاءً فَذَبَحَهَا وَشَوَاهَا أَوْ طَبَخَهَا بِغَيْرِإذن أَهْلِهَا
اس شخص کا بیان جس نے مالک کی اجازت کے بغیر بکری پکڑ کر اس کو ذبح کیا اور اس کو بھونا یا پکایا
حدیث نمبر: 6204
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَلَمَّا رَجَعْنَا لَقِينَا دَاعِيَ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةً تَدْعُوكَ وَمَنْ مَعَكَ إِلَى طَعَامٍ فَانْصَرَفَ فَانْصَرَفْنَا مَعَهُ فَجَلَسْنَا مَجَالِسَ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جِيءَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَوَضَعَ الْقَوْمُ أَيْدِيَهُمْ فَفَطِنَ لَهُ الْقَوْمُ وَهُوَ يَلُوكُ لُقْمَةً لَا يُجِيزُهَا فَرَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَغَفَلُوا عَنَّا ثُمَّ ذَكَرُوا فَأَخَذُوا بِأَيْدِينَا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ اللُّقْمَةَ بِيَدِهِ حَتَّى تَسْقُطَ ثُمَّ أَمْسَكُوا بِأَيْدِينَا يَنْظُرُونَ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَفَظَهَا فَأَلْقَاهَا فَقَالَ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَامَتِ الْمَرْأَةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ فِي نَفْسِي أَنْ أَجْمَعَكَ وَمَنْ مَعَكَ عَلَى طَعَامٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ فَلَمْ أَجِدْ شَاةً تُبَاعُ وَكَانَ عَامِرُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ابْتَاعَ شَاةً أَمْسِ مِنَ الْبَقِيعِ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ أَنِ ابْتَغِ لِي شَاةً فِي الْبَقِيعِ فَلَمْ تُوجَدْ فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ شَاةً فَأَرْسِلْ بِهَا إِلَيَّ فَلَمْ يَجِدْهُ الرَّسُولُ وَوَجَدَ أَهْلَهُ فَدَفَعُوهَا إِلَى رَسُولِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَطْعِمُوهَا الْأُسَارَى
۔ ایک انصاری صحابی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنازہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب واپس پلٹے تو ایک قریشی عورت کا داعی ہمیں ملا اور کہا: (اے اللہ کے رسول!) فلاں عورت آپ کو آپ کے ساتھیوں سمیت کھانے کے لیے بلا رہی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو لیے اور (گھر میں جا کر) اس طرح بیٹھ گئے، جیسے بچے اپنے باپوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں، پھر کھانا لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھانے پر رکھا اور لوگوں نے بھی ایسے ہی کیا، لیکن لوگ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لقمے کو چبانا چاہتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے نہیں کر پا رہے، پس انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھا لیے،اور ہم سے غافل ہو گئے، پھر جب ان کو یاد آیا تو ہمارے ہاتھوں کو پکڑ لیا، پھر ہرآدمی نے اپنے لقمے پر ہاتھ مارا اور وہ زمین پر گر پڑا، پھر انھوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا اور دیکھنے لگ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لقمے کو پھینک دیا اور فرمایا: مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایسی بکری کا گوشت ہے، جو مالک کی اجازت کے بغیر لی گئی ہے۔ اب کی بار داعی عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تھا کہ میں آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو کھانے پر جمع کروں، پس میں نے بقیع کی طرف آدمی کو بھیجا، لیکن وہاں فروخت کے لیے کوئی بکری نہ مل سکی، اُدھر عامر بن ابی وقاص کل بقیع سے ایک بکری خرید کر لائے تھے، میں نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ میرے لیے بھی بقیع سے کوئی بکری خرید لی جائے، لیکن کوئی بکری نہ ملی، پھر میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ تو نے جو بکری خریدی ہے، وہی میری طرف بھیج دو، لیکن وہ میرے قاصد کو نہ مل سکے، لیکن اس کے گھر والوں نے وہ بکری میرے قاصد کو دے دی،یہ تفصیل سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6204]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 3332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22876»
وضاحت: فوائد: … سنن ابو داود میں پوری روایتیوں ہے: ایک انصاری کہتا ہے: ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے پر بیٹھے تھے اور کھودنے والے کو فرما رہے تھے: پاؤں کی طرف سے کھلا کرو، سر والی جانب کو کھلا کرو۔“جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس پلٹے تو ایک عورت کا داعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، (اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت قبول کی اور اس کے گھر) تشریف لے گئے، کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں نے کھانا کھانا شروع کیا،ہمارے بڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لقمہ چبایا اور پھر فرمایا: ”میں محسوس کرتا ہوں کہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر لے کر ذبح کر دی گئی ہے۔“ اس عورت نے (وضاحت کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بکری خریدنے کے لیے (غلام کو) بقیع کی طرف بھیجا، لیکن وہاں سے کوئی بکری نہ ملی، پھر میںنے اپنی پڑوسی کی طرف بھیجا، اس نے ایک بکریخریدی تھی، میں نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ وہی بکری مجھے فروخت کردے، لیکن وہ موجود نہیں تھا، پھر میں نے اس کی بیوی کو پیغام بھیجا، اس نے یہ بکری میری طرف بھیج دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو۔“
(ابوداود: ۳۳۳۲)
علامہ عظیم آبادیk نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس بکری کا سودا صحیح نہیں تھا، کیونکہ عورت کے خاوند کی رضامندی شامل نہیں تھی، جو کہ اصل مالک تھا۔ یہ بیع فضولی سے ملتی جلتی ہے، جو مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، بہرحال شبہ قوی ہے اور خود ایسا کھانا کھانا پسندیدہ نہیں ہے۔ (عون المعبود۲/ ۱۵۲۳)
یہ گوشت واضح طور پر حرام نہ تھا، کیونکہ مالک کو راضی کرناممکن تھا، اس لیے اسے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا گیا۔ ہمیںیہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مشکوک اورناجائز ماکولات و مشروبات سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چبایا ہوا لقمہ بھی پھینک دیا، کیونکہ اس چیز کا بھی امکان تھا کہ اصل مالک راضی ہی نہ ہو۔
(ابوداود: ۳۳۳۲)
علامہ عظیم آبادیk نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس بکری کا سودا صحیح نہیں تھا، کیونکہ عورت کے خاوند کی رضامندی شامل نہیں تھی، جو کہ اصل مالک تھا۔ یہ بیع فضولی سے ملتی جلتی ہے، جو مالک کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، بہرحال شبہ قوی ہے اور خود ایسا کھانا کھانا پسندیدہ نہیں ہے۔ (عون المعبود۲/ ۱۵۲۳)
یہ گوشت واضح طور پر حرام نہ تھا، کیونکہ مالک کو راضی کرناممکن تھا، اس لیے اسے قیدیوں کو کھلانے کا حکم دے دیا گیا۔ ہمیںیہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مشکوک اورناجائز ماکولات و مشروبات سے اجتناب کرنا چاہیے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چبایا ہوا لقمہ بھی پھینک دیا، کیونکہ اس چیز کا بھی امکان تھا کہ اصل مالک راضی ہی نہ ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 3332
حدیث نمبر: 6205
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ وَمَرُّوا بِامْرَأَةٍ فَذَبَحَتْ لَهُمْ شَاةً وَاتَّخَذَتْ لَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا اتَّخَذْنَا لَكُمْ طَعَامًا فَادْخُلُوا فَكُلُوا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَانُوا لَا يَبْدَءُونَ حَتَّى يَبْتَدِئَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لُقْمَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُسِيغَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ شَاةٌ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَحْتَشِمُ مِنْ آلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَلَا يَحْتَشِمُونَ مِنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَّا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایک عورت کے پاس سے گزرے، اس نے ان کے لئے بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹے تو اس عورت نے کہا: ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا ہے، لہٰذا آپ اندر تشریف لائیں اور کھانا کھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اندر تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس وقت تک کھانا شروع نہ کرتے تھے، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے کا آغاز نہ کرتے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لقمہ لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نگل نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بکری مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔ اس عورت نے کہا! اے اللہ کے نبی!ہم اورآل بنی سعد ایک دوسرے سے بے تکلفانہ مراسم رکھتے ہیں (اور ایک دوسرے سے ناگواری محسوس نہیں کرتے)، اس لیے ہم ان سے لیتے رہتے ہیں اور وہ ہم سے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6205]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الحاكم: 4/234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14845»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ ایسے جانور کے حلال ہونے کی گنجائش موجود ہے، تبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کو کھلا دینے کا حکم دیا تھا، لیکن عظیم المرتبت لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی چیز کھائیں، کیونکہ کسی مالک کی ملکیت سے کوئی چیز نکالنے کے لیے بے تکلفانہ مراسم کافی نہیںہے، بلکہ واضح طور پر رضامندی کا اظہار ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الحاكم: 4/234