الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ رَبِّ الْمَعْصُوبِ بِعَيْنِهِ إِنْ كَانَ بَاقِيًا، وَقِيمَتِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الْقِيمِ أَوْ رَدِ مِثْلِهِ إِنْ كَانَ مِنْ ذَوَاتِ الأَمْثَالِ إِذَا أَتْلَفَهُ الْغَاصِبُ أَوْ تَلَفَ فِي يَدِهِ
غصب شدہ چیز ہی واپس کرنا، اگر وہ اسی حالت میں باقی ہو، یا اس کی قیمت ادا کرنا، اگر وہ قیمت والی ہو یا اس کے متبادل اس کی مثل واپس کرنا، اگر وہ مثل والی ہو، جب غاصب نے اس کو تلف کر دیا ہو یا وہ اس کے ہاتھ میں تلف ہو گئی ہو
حدیث نمبر: 6206
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ ثُمَّ نَسِيَ الْحَسَنُ قَالَ لَا يَضْمَنُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ جوکچھ لیتا ہے، وہ اس وقت تک اس کے ذمہ رہتا ہے، جب تک اس کو ادا نہیں کر دیتا۔ پھر حسن بصری بھول گئے تھے کہنے لگے کہ وہ ضامن نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6206]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3561، وابن ماجه: 2400، والترمذي: 1266، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20418»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جو آدمی کسی کا مال عاریہ، امانت یا غصب کے طور پر لے لیتا ہے، وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، یہ مضمون دوسری احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ حسن بصری اپنی بیان کردہ حدیث کو بھول جانے کی وجہ سے یہ کہا کرتے تھے کہ عاریہ لینے والا ضامن نہیں ہوتا، لیکن ان کی بیان کردہ حدیث ان کے اس خیال کی تائید نہیں کرتی۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 3561
حدیث نمبر: 6207
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ صَانِعَةَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِيَّةَ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَاءً فِيهِ طَعَامٌ وَهُوَ عِنْدِي فَمَا مَلَكْتُ نَفْسِي أَنْ كَسَرْتُهُ قَالَتْ فَنَظَرَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ أَنْ يَلْعَنَنِي الْيَوْمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَتُهُ فَقَالَ إِنَاءٌ بِإِنَاءٍ وَطَعَامٌ بِطَعَامٍ
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی مانند کھانا تیار کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، ایک دفعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن میں کھانا دے کر بھیجا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تھے، میں خود پر ضبط نہ رکھ سکی اور میں نے (غیرت میں آ کر) وہ برتن توڑ دیا، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصب کے آثار نظر آنے لگے، میں نے کہا: میں اس بات سے پناہ مانگتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج مجھے لعنت کریں۔ پھر میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: برتن کے عوض برتن اورکھانے کے عوض کھانا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6207]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3568، والنسائي: 7/ 71، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25155 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25670»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے غیرت میں آ کر برتن تو توڑ دیا اور کھانا بھی ضائع کر دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مسلمان کا مال دوسرے کے لیے حرام ہے، اس لیے اس معاملے انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3568
6. بَابُ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَمَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الثَّمَرِ أَوِ الزَّرْعِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهِ
دوسروں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کھیتی کاشت کرنے والے اور مالکوں¤کی اجازت کے بغیر پھل یا کھیتی میں سے کچھ لینے والے کا بیان
حدیث نمبر: 6208
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی کھیتی میں اس کی اجازت کے بغیر کاشت کرتا ہے، تو اسے کھیتی کی پیداوار میں سے کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ اسے واپس کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6208]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه۔ أخرجه ابوداود: 3404، والترمذي: 1366، وابن ماجه: 2466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17401»
وضاحت: فوائد: … اسلام کے عدل اور انصاف پر غور کریں کہ جو آدمی ظلم کرتے ہوئے دوسرے کی زمین میں کوئی فصل کاشت کر دیتا ہے تو اس کو کاشت کے اخراجات واپس کیے جائیں گے، تاکہ اس کے ظلم کے عوض اس پر ظلم نہ ہو جائے، یہ اسلام کا ظالم کے ساتھ سلوک ہے، مظلوم کے بارے میں خود اندازہ کر لیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه۔ أخرجه ابوداود: 3404
حدیث نمبر: 6209
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم جڑ کا کوئی حق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6209]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی نے غیر مملوکہ زمین آباد کی،یہ اس کی ملکیت ہو گی، اب کوئی دوسرا آدمی آ کراس کی اس زمین میں درخت لگا دیتا ہے، تاکہ اس کا قبضہ ہو جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہ ظالم جڑ ہے اور اس کا کوئی حق نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد
حدیث نمبر: 6210
عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى أَنْ دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ فَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ وَخَلَّفُونِي فِي ظَهْرِهِمْ قَالَ فَأَصَابَنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالُوا لِي لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ فَأَصَبْتَ مِنْ ثَمَرِ حَوَائِطِهَا فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَهُ خَبَرِي وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ لِي أَيُّهُمَا أَفْضَلُ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ خُذْهُ وَأَعْطَى صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ وَخَلَّى سَبِيلِي
۔ سیدنا عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے آقاؤ ں کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ رہا تھا، جب ہم لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو میرے آقا ؤں نے مجھے پیچھے چھوڑ دیا اورخود مدینہ میں داخل ہوگئے، اب مجھے بڑی سخت بھوک لگی، مدینہ کی طرف جانے والے بعض لوگوں کا میرے پاس سے گزر ہوا، انھوں نے مجھے کہا: (تیری بھوک کا حل یہی ہے کہ) تو مدینہ میں داخل ہو جا اور کسی باغ کا پھل کھا لے، پس میں ایک باغ میں داخل ہوا اور دو گچھے کھجوروں کے توڑے ہی تھے کہ باغ کا مالک آ گیا اور مجھے پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرے ساری بات بتلا دی، اس وقت میں نے دو کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ان دو کپڑوں میں سے کون سا کپڑا زیادہ اچھا ہے؟ میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہ تو لے لے۔ اور دوسرا باغ کے مالک کو دے دیا اور مجھے جانے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6210]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 132، والطبراني في ’’الكبير‘‘17/ 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22288»
وضاحت: فوائد: … ہم حدیث نمبر (۶۱۹۳) کے فوائد میںیہ وضاحت کر چکے ہے کہ محتاج آدمی مالک کی اجازت کے بغیر باغ سے کھا سکتا ہے، البتہ ساتھ اٹھا کر نہیں لے جا سکتا، لیکن اس حدیث کے مطابق تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے والے کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کو ایک کپڑا دینے کا جرمانہ کیا، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس آدمی اپنی ضرورت سے زیادہ کھجوریں توڑ لی تھیں، ایک گچھا اس کی حاجت کے لیے تھا اور دوسرے گچھے کے عوض آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کپڑا مالک کو دے دیا۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه الحاكم: 4/ 132
حدیث نمبر: 6211
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ إِنَّ هَا هُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا فَأُتِيَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ قَالَ قُلْتُ آكُلُ قَالَ فَلَا تَرْمِي النَّخْلَ وَكُلْ مَا سَقَطَ فِي أَسَافِلِهَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ
۔ سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک انصاری کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا، جبکہ میں ابھی تک ایک لڑکا تھا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ لڑکا کھجوروں پر پتھر مار رہا ہے، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے لڑکے! تو کھجوروں پر پتھر کیوں پھینک رہا تھا؟ میں نے کہا: جی میں کھانے کے لئے ایسا کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں کو پتھر نہ مارنا، البتہ جو کھجوریں نیچے گری پڑی ہوں، وہ کھا لیا کر۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6211]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2622، وابن ماجه: 2299، والترمذي: 1288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20609»
وضاحت: فوائد: … اگر اس حدیث کو پچھلی احادیث کی روشنی میں سمجھا جائے تو اس کا معنییہ ہو گا کہ اگر کوئی مجبور ہو اور باغ میں کھجوریں گری پڑی بھی ہوں اور درخت پر بھی لگی ہوں تو مجبور کو چاہیے کہ وہ گری پڑی ہوئی کھا لے، اگر گری ہوئی نہ ہوں تو پھر درخت سے اتار لے۔ نیز اس حدیث کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ عام طور پر گری پڑی چیز کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی، خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لیے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عادت کے مطابق بچے کو گری ہوئی کھجوریں کھا لینے کی اجازت دی۔
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2622
7. بَابُ مَا جَاءَ فِي جِنايَةِ البَهَائِمِ
حیوانوں کے نقصان کا بیان
حدیث نمبر: 6212
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءَ وَجُرْحَهَا جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ الْبَهِيمَةُ مِنَ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا وَالْجُبَارُ هُوَ الْهَدَرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ کان بھی رائیگاں ہے، کنواں بھی رائیگاں ہے، چوپائے کا زخم بھی رائیگاں ہے۔ عَجْمَاء سے مراد چوپایہ ہے اور جُبَار سے مراد ہدر ہو جانے والی وہ چیز ہے، جس کی چٹی نہیں بھری جاتی۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6212]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی کی کان یا کنویں میں کام کر رہا ہو اور وہ کان یا کنواں اس پر گر جائے اور وہ فوت ہو جائے، یا کوئی کسی کے کنویں میں گر کر مر جائے تو مالک ضامن نہیں ہو گا، اسی طرح اگر کسی کا چوپایہ کسی شخص کو مارتا ہے اور اس کا نقصان کر دیتا ہے تو چوپائے کا مالک ذمہ دار نہیں ہو گا۔ لیکنیہ مفہوم اس وقت تک ہے، جب تک مالک کا قصور نہ ہو، اگر وہ قصور وار ہو تو اس کی چٹی پڑے گی، مثلااگر مالک جان بوجھ کر جانور کو مارنے کے لیے چھوڑتا ہے، یا عام شاہراہ میں کنواں کھود دیتا ہے۔ علی ہذا القیاس
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد
حدیث نمبر: 6213
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ مَا أَصَابَتِ الْمَاشِيَةُ بِاللَّيْلِ فَهُوَ عَلَى أَهْلِهَا
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک اونٹنی لوگوں کی کھیتیوں میں چرنے کی عادی تھی، ایک دن وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اس کو خراب کیا، اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن میں باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی نگہداشت کرنا ان کے مالکوں کا کام ہے، اور جانوررات کو جو نقصان کریں گے، اس کے ذمہ داران کے مالک ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6213]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 3570، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18807»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 6214
عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظُهَا بِالنَّهَارِ وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظُهَا بِاللَّيْلِ
۔ حرام بن محیصہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک باغ میں داخل ہوئی اور اس کو خراب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن کے وقت (باغ وغیرہ جیسے) مال کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کریں اور رات کے وقت مویشیوں کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6214]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 3569، وابن ماجه: 2332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23697 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24097»
وضاحت: فوائد: … دن کو مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا یا چرایا جاتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ خیال رکھنے کے باوجود مویشی کسی دوسرے کے کھیت اور باغ میں گھس جائیں، لہٰذا کھیت اور باغ کے مالک کو حکم دیا گیا ہے کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت کرنا اس کی اپنی ذمہ داری ہے، لیکن رات کو باغ کے مالک کے لیے نا ممکن تھا کہ وہ اپنے کھیت کی حفاظت کرے، اس لیے مویشیوں کے مالکوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات کو اپنے جانوروں کو باندھ کر رکھیں، وگرنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
8. بَاب دَفْعِ الصَّائِلِ وَإِنْ أَذًى إِلَى قَتْلِهِ وَأَنَّ الْمَصُولَ عَلَيْهِ يُقْتَلُ شَهِيدًا
حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ¤قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
حدیث نمبر: 6215
عَنْ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ سَائِلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ عَدَا عَلَيَّ عَادٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكِّرْهُ وَأَمَرَهُ بِتَذْнамِيرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَفِي لَفْظٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَبَى فَقَاتِلْهُ فَإِنْ قَتَلَكَ فَإِنَّكَ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ فِي النَّارِ
۔ سیدنا قہید بن مطرف غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی ظالم مجھ پر حملہ کرتا ہے (تو میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نصیحت کر، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس کو تین دفعہ منع کرے، اگر وہ پھر بھی باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کر، اس لڑائی میں اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو تو جنت میں جائے گا اور اگر تونے اسے قتل کر دیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6215]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 1864، والبيھقي: 8/ 336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15487 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15568»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 1864