🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَاب دَفْعِ الصَّائِلِ وَإِنْ أَذًى إِلَى قَتْلِهِ وَأَنَّ الْمَصُولَ عَلَيْهِ يُقْتَلُ شَهِيدًا
حملہ کرنے والے کو روکنا، اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور اس لڑائی میں اگر وہ¤قتل ہو جائے جس پر حملہ کیا گیا تو وہ شہید ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6216
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي قَالَ فَانْشُدِ اللَّهَ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ قَالَ انْشُدِ اللَّهَ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ قَالَ فَانْشُدِ اللَّهَ قَالَ فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ قَالَ فَقَاتِلْ فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی آدمی ظلم کرتے ہوئے میرا مال لینا چاہے تو میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ نہ مانے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھرنہ مانے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیسری بار اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر وہ پھر بھی نہ مانے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کی بار اس سے لڑائی کر، اور اگر اس لڑائی میں تو قتل ہو گیا توتو جنت میں جائے گا اور اگر وہ مارا گیا تو وہ دوزخ میں جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6216]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مسلم: 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8456»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه مسلم: 140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6217
عَنْ قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ أَتَانِي رَجُلٌ يَأْخُذُ مَالِي قَالَ تُذَكِّرُهُ بِاللَّهِ تَعَالَى قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ذَكَّرْتُهُ بِاللَّهِ فَلَمْ يَنْتَهِ قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ مِنِّي نَائِيًا قَالَ تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالْمُسْلِمِينَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَحْضُرْنِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَعَجِلَ عَلَيَّ قَالَ فَقَاتِلْ حَتَّى تَحُوزَ مَالَكَ أَوْ تُقْتَلَ فَتَكُونَ فِي شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ
۔ سیدنا مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا،اس نے کہا: ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اورمیرا مال لینا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے اللہ کا واسطہ دے۔ اس نے کہا: اگر میں اسے اللہ کا واسطہ دوں لیکن وہ باز نہ آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف حکمران سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حکمران دور ہو (اور اس تک رسائی ممکن نہ ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے خلاف دوسرے مسلمانوں سے فریاد رسی کر۔ اس نے کہا: اگر وہاں کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھراس سے لڑ، یہاں تک کہ تو اپنے مال کی حفاظت کر لے یا آخرت کے شہداء میں سے ہو جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6217]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 113، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22881»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں بڑی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں کہ جو آدمی کسی کا مال چھیننا چاہے یا اس کو قتل کرنا چاہے تو اس کو اللہ تعالی کا واسطہ دیا جائے اور وعظ و نصیحت کی جائے، ممکن ہے کہ اس سے اس پر اثر ہو جائے اور وہ اپنے ناپاک ارادے سے باز آ جائے، اگر یہ طریقہ بے فائدہ ثابت ہو تو کسی طریقے سے حکمران کو اطلاع دی جائے، بصورت ِ دیگر عام مسلمانوں کو مدد کے لیے پکارا جائے، اگر تینوں صورتیں کارگر ثابت نہ ہوں تو پھر لڑائی کے ذریعے اپنا دفاع کیا جائے، اگر مظلوم قتل ہو گیا تو وہ حکماً شہید ہو گا، یعنی آخرت میں اس کو شہید سمجھا جائے گا، لیکن دنیا میں اس کو عام میت کی طرح غسل دے کر کفن دیا جائے گا اور نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 113
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6218
عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6218]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 590»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6219
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَةٍ فَهُوَ شَهِيدٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظلم کے خلاف مارا جائے، وہ شہید ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6219]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2779 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2779»
وضاحت: فوائد: … بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ اگر مال کی مقدار کم ہو تو دفاعی مقابلہ کرنے سے بچنا چاہیے، اگرچہ نصوص عام ہیں اور ان میں کم یا زیادہ مقدار کا تعین نہیں کیا گیا، لیکن اگر خفیف مفسدت کو اختیار کر لیے جانے والا قانون دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ کم مقدار مال کے چھن جانے پر صبر کیا جائے اور جان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
اسی طرح اگر مال کو چھیننے کا ظلم حکمران کی طرف سے ہو تو پھر بھی صبر کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں