الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْحَقِّ عَلَى الْوَصِيَّةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْحَيْفِ فِيهَا وَفَضِيلَةِ التَّنْجِيرِ حَالَ الْحَيَاةِ
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا¤اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6318
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس مال ہو اور وہ اس کے بارے میں کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں گزرنے دے، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6318]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2738، ومسلم: 1627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5118»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2738
حدیث نمبر: 6319
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثًا إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَمَا بِتُّ لَيْلَةً مُنْذُ سَمِعْتُهَا إِلَّا وَوَصِيَّتِي عِنْدِي مَكْتُوبَةٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ تین راتیں گزرنے پائیں، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نےیہ حدیث سنی تو میں نے ایک رات بھی نہ گزرنے دی، مگر میری وصیت میرے پاس لکھی ہوئی موجود رہی۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6319]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6100»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6100
حدیث نمبر: 6320
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور تجھے خبر دی جاتی ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جب تو صدقہ کرے تو تو صحت مند ہو، لالچی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر و فاقے کا ڈر ہو، اور اس کام میں اتنی تاخیر نہ کر کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہنا شروع کر دے کہ فلاں کو اتنا دے دو، فلاں کو اتنا دے دو، خبردار، وہ مال تو فلاں فلاں کا ہو چکا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6320]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1419،و مسلم: 1032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7401»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کا غرغرہ طاری ہونے سے پہلے پہل صدقہ کر لینا چاہیے، اسی طرح خیر و بھلائی والی وصیت اس وقت سے پہلے تیار کر لینی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1419
حدیث نمبر: 6321
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ ٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نساء: ۱۳، ۱۴) [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6321]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف۔ أخرجه مختصرا ابوداود: 2867، والترمذي: 2117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7728»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال وصیت کا شرعی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے، وگرنہ وہ ظلم ہو گی اور لواحقین پر فرض ہو گا کہ وہ اس پر عمل نہ کریں، مثلا: کسی ایک وارث کے حق میں وصیت کرنا، ایک تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا، قطع رحمی کی وصیت کرنا، یہ سب ظلم کی قسمیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف۔ أخرجه مختصرا ابوداود: 2867
حدیث نمبر: 6322
عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَى إِلَيَّ أَخِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَقُلْتُ إِنَّ أَخِي أَوْصَانِي بِطَائِفَةٍ مِنْ مَالِهِ فَأَيْنَ أَضَعُهُ أَفِي الْفُقَرَاءِ أَوْ فِي الْمُجَاهِدِينَ أَوْ فِي الْمَسَاكِينِ قَالَ أَمَّا أَنَا فَلَوْ كُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاهِدِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَفِي لَفْظٍ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ أَوْ يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ مَثَلُ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ أَبُو حَبِيبَةَ فَأَصَابَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ
۔ ابو حبیبہ طائی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بھائی نے کچھ مال صدقہ کرنے کی وصیت کی، میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کچھ مال کا صدقہ کرنے کی وصیت کی تھی، اب میں وہ کس کو دوں، فقیروں کو یا مجاہدوں پر یا مسکینوں کو؟ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ مال میرا ہوتا تو میں کسی کو مجاہدوں کے برابر نہ قرار دیتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص موت کے قریب جا کر غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو پہلے خود سیر ہو تا ہے اور پھر دوسروں کو دیتا ہے۔ ابو حبیبہ نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے کچھ ملا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6322]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي حبيبة الطائي۔ أخرجه ابوداود: 3968، والترمذي: 2123، والنسائي: 6/238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22062»
وضاحت: فوائد: … موت کے قریبیعنی موت کی علامتیں ظاہر ہونے سے قبل بھی صدقہ کرنا درست ہے، البتہ پسندیدہ قانون وہی ہے جو حدیث نمبر (۶۳۲۰)میں گزر چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي حبيبة الطائي۔ أخرجه ابوداود: 3968
حدیث نمبر: 6323
عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَوْصَى وَلَدَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ فَإِنَّ الْقَوْمَ إِذَا سَوَّدُوا أَكْبَرَهُمْ خَلَفُوا أَبَاهُمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَإِذَا مُتُّ فَلَا تَنُوحُوا عَلَيَّ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ
۔ سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے موت کے قریب اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ: اللہ تعالی سے ڈرتے رہنااور اپنے میں سے سب سے بڑے آدمی کو سردار مقرر کرنا، بیشک لوگ جب بڑے کو سردار مقرر کرتے ہیں، تو وہ اپنے باپ کا جانشین بنا لیتے ہیں اور جب مجھے موت آ جائے تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6323]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه النسائي: 4/ 16، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20888»
وضاحت: فوائد: … سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ موت کے بعد سے متعلقہ امور کے بارے میں وصیت کر رہے ہیں، خاندان کے بڑے لوگ یقینا بارعب ہوتے ہیں، ان کی باتیں تسلیم کی جاتی ہیں، لیکن بڑے لوگوں کو کبھی بھی درج ذیل حدیث سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔)) … ”بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں۔“ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲)
اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلْخَیْرِ،مَغَالِیْقَ لِلشَّرِّ، وَاِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِیْحَ لِلشَّرِّ،مَغَالِیْقَ لِلْخَیْرِ، فَطُوْبٰي لِمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الْخَیْرِ عَلٰییَدَیْہِ، وَوَیْلٌ لِّمَنْ جَعَلَ اللّٰہُ مَفَاتِیْحَ الشَّرِّ عَلٰییَدَیْہِ۔)) … ”بیشک بعض لوگ ایسے ہیں جو نیکی کا سرچشمہ اور برائی کی راہ روکنے والے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں جو شرّ کا منبع اور نیکی کی راہ بند کرنے والے ہیں۔ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے ہاتھ پر خیر کی راہیں کھول دیں اور ہلاکت ہے اس آدمی کے لیے جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے شر کی راہیں کھول دیں۔“ (ابن ماجہ: ۲۳۷، صحیحہ:۱۳۳۲)
اللہ تعالیٰ بعض افراد کو ان کے خاندانوں میں خاص مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے، خاندان کے افراد ان کو اپنے قبیلے کا سربراہ اورچاہتے نہ چاہتے ہوئے اپنے آپ کو ان کے فیصلوں کا پابند سمجھتے ہیں۔ ایسے معزز لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے خاندانوں میں اچھے امور کو رواج دیں، شریعت کے مخالف امور کا خاتمہ کریں۔ اس میں تو سربراہ کا کوئی کمال نہیں ہے کہ اس کے ماتحت افراد اپنی من مانیاں کرتے رہیں اور اس کی حیثیت تماشائی کے سوا کچھ نہ ہو۔
اس حدیث میں ایسے سربراہوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جن کی قیادت میں شادی بیاہ جیسے موقعوں پر شریعت کے مخالف امور کو بھرپور انداز میں ترجیح دی جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه النسائي: 4/ 16
2. بَاب جَوَازِ تَبَرُّعَاتِ الْمَرِيضِ مِنَ التَّلْثِ فَأَقَلَّ وَمَنْعِهِ مِنَ الرِّيَادَةِ عَلَيْهِ
بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور¤اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6324
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَيْتُ عَلَى الْمَوْتِ فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ بِشَطْرِ مَالِي قَالَ لَا قُلْتُ بِثُلُثِ مَالِي قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ إِنَّكَ يَا سَعْدُ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِي امْرَأَتِكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَتَخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ تُخَلَّفُ حَتَّى يَنْفَعَ اللَّهُ بِكَ أَقْوَامًا وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مَاتَ بِمَكَّةَ
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہوا یوں کہ میں بیمار ہو گیا اور ایسے لگا کہ موت قریب آ گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری تیمار داری کرنے کے لیے تشریف لائے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں بہت زیادہ مال والا ہوں اور صرف میری ایک بیٹی میری وارث بننے والی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت نہ کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تیسرے حصے کی ٹھیک ہے اور یہ بھی زیادہ ہے، اے سعد! اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں ایسی فقیری کی حالت میں چھوڑے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں، اے سعد! اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کرو گے، اس کا اجر پاؤ گے، حتیٰ کہ وہ لقمہ جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو، اس میں بھی اجر پاؤ گے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں (اس بیماری کی وجہ سے) اپنے ساتھیوں کے بعد مکہ میں رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو باقی رہ بھی جائے اور اللہ تعالی کی رضامندی تلاش کرنے کے لیے جو عمل بھی کرے گا تو اس کے ذریعے تیرے درجے بلند ہوں گے، ممکن ہے کہ تو زندہ رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے بعض لوگوں کو فائدہ پہنچائے اور بعض کو نقصان۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت مکمل فرما دے اور ان کو ان کی ایڑیوں کے بل نہ لوٹا، لیکن بیچارہ سعد بن خولہ۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر اس لیے ترس آتا تھا کہ وہ مکہ میں فوت ہو گئے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6324]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 56، 3936، 5668، ومسلم: 1628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1524»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس بیماری سے شفایاب ہوکر اتنی طویل زندگی پائی کہ وہ عراق وغیرہ کی فتح میں شریک ہوئے، ان کی وجہ سے کئی مسلمانوں کو دین و دنیا میں فائدہ ہوا اور کئی کافروں کو اسی قسم کا نقصان ہوا، اس وقت تو ان کیصرف ایک بیٹی تھی، لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کثیر اولاد سے نوازا حافظ ابن حجرk نے ان کے نو بیٹوں اور بارہ بیٹیوں کا تذکرہ کیا ہے۔
بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئلہ یہ سمجھ آیا کہ آدمی کو ایک تہائی مال سے زائد وصیت کرنے کا اختیار نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تہائی کی مقدار بھی زیادہ ہے، اس سے بھی کم وصیت کرنی چاہیے۔
بہرحال اس حدیث ِ مبارکہ سے مسئلہ یہ سمجھ آیا کہ آدمی کو ایک تہائی مال سے زائد وصیت کرنے کا اختیار نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تہائی کی مقدار بھی زیادہ ہے، اس سے بھی کم وصیت کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 56
حدیث نمبر: 6325
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سَعْدٌ فِيَّ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثَ أَتَانِي يَعُودُنِي قَالَ فَقَالَ لِي أَوْصَيْتَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ جَعَلْتُ مَالِي كُلَّهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ قَالَ لَا تَفْعَلْ قُلْتُ إِنَّ وَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ قُلْتُ الثُّلُثَيْنِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قُلْتُ الثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکن یہ بھی زیادہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6325]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1501»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1501
حدیث نمبر: 6326
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثُّلُثُ كَثِيرٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کاش کہ لوگ ایک تہائی کی بجائے ایک چوتھائی مال کی وصیت کرنا اختیار کر لیتے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نے فرمایا تھا: تیسرے حصے کی وصیت کرنا بھی زیادہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6326]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1629، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2034 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2034»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے رشتہ داروں کے حقوق کا اندازہ کر لینا چاہیے، بعض بے اولاد سرمایہ دار لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے سرمائے کے بارے میں اس وجہ سے بھی پریشان رہتے ہیں کہ ان کے بعد اس سرمائے کو فلاں فلاں آدمیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا، ایسے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ مقدار اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دیں، کچھ مقدار کے بارے میں وصیت کر دیں اور باقی ترکہ کو اللہ تعالی کے حکم پر راضی ہو کر وارثوں میں تقسیم ہونے دیں، اس مقام پر ان کے دل میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے، وگرنہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ آدمی اللہ تعالی کے احکام کو ناپسند کر رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1629
حدیث نمبر: 6327
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں وفات کے وقت اپنے مالوں میں سے ایک تہائی کا صدقہ کر دینے کی اجازت دے دی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6327]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين بشواهده۔ أخرجه البزار: 1382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28030»
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين بشواهده۔ أخرجه البزار: 1382