الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَاب جَوَازِ تَبَرُّعَاتِ الْمَرِيضِ مِنَ التَّلْثِ فَأَقَلَّ وَمَنْعِهِ مِنَ الرِّيَادَةِ عَلَيْهِ
بیمار آدمی کا ایک تہائی مال یا اس سے کم سے صدقات و خیرات کرنے کے جواز اور¤اس سے زیادہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6328
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا بِالرَّقِيقِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دئیے، جبکہ ان کے علاوہ اس کا کوئی اور مال بھی نہیں تھا، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نمازِ جنازہ ہی نہ پڑھاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان غلاموں کو بلایا اور ان کے تین حصے کر کے (قرعہ کے ذریعے) دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6328]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين بشواهده۔ أخرجه البزار: 1382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20106»
وضاحت: فوائد: … قرعہ کا ذکر اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين بشواهده۔ أخرجه البزار: 1382
حدیث نمبر: 6329
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَقَبَةٍ لَهُ فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَمَّا صَنَعَ قَالَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ قَالَ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ مِنْهُمُ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ
۔ (دوسری سند) ایک آدمی نے موت کے وقت چھ غلام آزاد کئے، اس کے وارث بدو لوگوں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے کیے سے آگاہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا تو میں نے ان شاء اللہ اس کی نماز جنازہ ہی نہیں پڑھنی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلاموں کے درمیان قرعہ ڈالا اور ان میں سے دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6329]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20253»
وضاحت: فوائد: … مرنے والے کی جو وصیت اور شرط شرعی احکام کے مخالف ہو گی، اس کو مردود اور بے اثر سمجھا جائے گا، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میت کے فیصلے کو ردّ کردیا اور ایک تہائی کی گنجائش کے مطابق دو غلاموں کو آزاد کر دیا اور چار کو ورثاء میں تقسیم کر دیا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20253
حدیث نمبر: 6330
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6330]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 409، والطحاوي في ’’شرح المشكل‘‘: 740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23280»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ بات بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اس کے دفن سے پہلے پتہ چلتا تو میں اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیتا۔“
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه سعيد بن منصور في ’’سننه‘‘: 409
حدیث نمبر: 6331
عَنْ ذَيَّالِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ بْنَ حِذْيَمٍ جَدِّي أَنَّ جَدَّهُ حَنِيفَةَ قَالَ لِحِذْيَمٍ اجْمَعْ لِي بَنِيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ الَّتِي كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَقَالَ حِذْيَمٌ يَا أَبَتِ إِنِّي سَمِعْتُ بَنِيكَ يَقُولُونَ إِنَّمَا نُقِرُّ بِهَذَا عِنْدَ أَبِينَا فَإِذَا مَاتَ رَجَعْنَا فِيهِ قَالَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ حِذْيَمٌ رَضِينَا فَارْتَفَعَ حِذْيَمٌ وَحَنِيفَةُ وَحَنْظَلَةُ مَعَهُمْ غُلَامٌ وَهُوَ رَدِيفٌ لِحِذْيَمٍ فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَّمُوا عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا رَفَعَكَ يَا أَبَا حِذْيَمٍ فَقَالَ هَذَا وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ حِذْيَمٍ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَفْجَأَنِي الْمَوْتُ فَأَرَدْتُ أَنْ أُوصِيَ وَإِنِّي قُلْتُ إِنَّ أَوَّلَ مَا أُوصِي أَنَّ لِيَتِيمِي هَذَا الَّذِي فِي حِجْرِي مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ كُنَّا نُسَمِّيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ الْمُطَيَّبَةَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَكَانَ قَاعِدًا فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَقَالَ لَا لَا لَا الصَّدَقَةُ خَمْسٌ وَإِلَّا فَعَشْرٌ وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ وَإِلَّا فَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ وَإِلَّا فَثَلَاثُونَ وَإِلَّا فَخَمْسٌ وَثَلَاثُونَ فَإِنْ كَثُرَتْ فَأَرْبَعُونَ قَالَ فَوَدَّعُوهُ وَمَعَ الْيَتِيمِ عَصًا وَهُوَ يَضْرِبُ جَمَلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَظُمَتْ هَذِهِ هِرَاوَةُ يَتِيمٍ قَالَ حَنْظَلَةُ فَدَنَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ وَأَنَّ ذَا أَصْغَرَهُمْ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيهِ قَالَ ذَيَّالٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوِ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعُ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ ذَيَّالٌ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ
۔ حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہماکہتے ہیں میرے دادا سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے بیٹے! میرے تمام بیٹوں کو ایک جگہ جمع کرو، میں انہیں وصیت کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے انہیں اکٹھا کیا، پس سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سب سے پہلی وصیت یہ کرتا ہوں کہ جو یتیم میری کفالت میں ہے، میں اسے سو اونٹ دیتا ہوں، ہم جاہلیت میں اس عطیہ کو مطیبہ کہتے تھے۔ سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابا جان! میرے بھائی کہہ رہے ہیں کہ جب تک ہمارا باپ زندہ ہے ہم اس چیز پر برقار رہیں گے، لیکن جب وہ فوت ہو جائے گا تو ہم یہ عطیہ واپس لے لیں گے۔ سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تو پھر میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس پر راضی ہو گئے، پس سیدنا حذیم، سیدنا حنیفہ، سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہم اور سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھنے والا ایک غلام روانہ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے ابو حذیم! کس لئے آئے ہو؟ سیدنا حنیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیم رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: یہ حذیم آنے کا سبب بنا ہے، تفصیل یہ ہے کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اب موت اچانک بھی آ سکتی ہے، اس لئے میں نے وصیت کرنے کا ارادہ کیا اور کہا: میری پہلی وصیت یہ ہے کہ میں اپنے زیر کفالت بچے کو سو اونٹ دیتا ہوں، ہم دورِ جاہلیت میں اس عطیے کو مطیَّبہ کہتے تھے۔ یہ بات سنتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہو گئے اور غصے کے آثار چہرے پر دکھائے دینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو بیٹھے ہوئے تھے، لیکن اب گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، پانچ اونٹ صدقہ کر دے یا دس، نہیں تو پندرہ یا پھر بیس، وگرنہ پچیس، اگر مزید گنجائش نکالنی ہو تو تیس، وگرنہ پینتیس اور اگر بہت زیادہ کرنا ہو تو چالیس۔ پھر انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع کہا، یتیم بچے کے پاس ایک لاٹھی تھی، وہ اس کے ذریعے اونٹ کو ضرب لگاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یتیم کی لاٹھی کتنی بڑی ہو گئی ہے۔ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بٹھایا اور کہا: میرے بعض بیٹے داڑھی والے ہیں اور اس کے بغیر ہیں اور یہ سب سے چھوٹا ہے، اس کے لئے دعا تو فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ میں برکت دے یا تجھ میں برکت کی جائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے خود دیکھا کہ سیدنا حنظلہ کے پاس ایسے انسان لائے جاتے، جن کے چہر پر ورم ہوتا، اس طرح ایسے حیوان لائے جاتے، جن کے تھن سوجے ہوئے ہوتے تھے، لیکن جب وہ اپنے ہاتھ پر تھوکتے اور بسم اللہ کہتے اوراپنا ہاتھ اپنے سر کے اس مقام پر رکھتے، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا تھا اور پھر وہ ہاتھ اس ورم والی جگہ پر پھیر دیتے۔ ذیال کہتے ہیں: پس وہ ورم ختم ہو جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6331]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3477، 3500، وفي ’’الاوسط‘‘: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20941»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقی ورثاء کے حق کو مقدم رکھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3477
3. بَابُ لا وَصِيَّة لِوارِث
وارث کے لیے وصیت کے نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6332
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَأَنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ فَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری جگالی کر رہی تھی اوراس کا لعاب میرے کندھوں پر بہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے میراث سے ہر انسان کا حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6332]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2712، والنسائي: 2/274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18086 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18254»
وضاحت: فوائد: … ایک تہائی مال کی وصیت کا تعلق اس آدمی سے ہے، جو وارث نہ بن رہا ہو، مرنے والے کو کسی وارث کے حق میں اس کے شرعی حصے سے زیادہ وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کی وصیت کو ردّ کر دیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2712
حدیث نمبر: 6333
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے حجۃ الوداع والے سال خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ہرحقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے۔ … الحدیث [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6333]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2870، 3565، وابن ماجه: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22650»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2870
4. بَابُ حُكْمِ الْوَصِي فِي اليتيم
یتیم کے بارے میں وصیت کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 6334
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ لَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! توہرگز یتیم کے مال کی سرپرستی قبول نہ کرنا اور نہ ہی دو شخصوں کے درمیان قاضی بننا۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6334]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21896»
وضاحت: فوائد: … یتیم کی کفالت اور قضا کا شعبہ بہترین اعمال ہیں،لیکن ان کے کمال زہد و تقوی اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے، ان بڑی ذمہ داریوں کو سامنے رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو ان اعمال سے دور رہنے کا مشورہ دیا، اس چیز کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت قاضی کا رجحان کسی ایک فریق کی طرف ہو جائے اور یتیم کی کفالت کرتے کرتے اس کا مال استعمال کر لیا جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1826
حدیث نمبر: 6335
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لِي مَالٌ وَلِي يَتِيمٌ فَقَالَ كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ وَلَا مُبَذِّرٍ وَلَا مُتَأَثِّلٍ مَالًا وَمِنْ غَيْرِ أَنْ تَقِيَ مَالَكَ أَوْ قَالَ تَفْدِيَ مَالَكَ بِمَالِهِ شَكَّ حُسَيْنٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: میرے پاس کوئی مال نہیں ہے، البتہ ایک یتیم میری سرپرستی میں ہے تو کیا میں اس کا مال لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے یتیم کے مال سے کھاسکتے ہو، لیکن نہ اس میں اسراف ہو، نہ فضول خرچی، نہ مال کو جمع کرنے والے ہو اور اپنے مال کو بچانے والے ہو۔ یا فرمایا: نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچانے والے ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6335]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2872، والنسائي: 6/ 256، وابن ماجه: 2718، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7022»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سرپرست اپنے یتیم کے مال کے اضافے اور اصلاح کے لیے جو محنت کر رہا ہو، وہ اس مال سے اس کا عوض لے سکتا ہے، لیکنیہ اجرت معروف طریقے کے مطابق ہونی چاہیے، بہتر یہ ہے کہ ایسا سرپرست معاشرے یا خاندان کے عدل و انصاف اور فہم و فراست والے دو افراد سے اپنی اجرت کا تعین کروا لے، تاکہ اس کا نفس مختلف حیل و حجت کرنے سے محفوظ ہو جائے، باقی ہدایات حدیث میں ہی بیان کر دی گئی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2872
حدیث نمبر: 6336
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ قَالَ فَخَالَطُوهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اچھے طریقے کے ساتھ۔ تو لوگوں نے یتیموں کے مال اپنے مالوں سے علیحدہ کر دئیے، (لیکن اس وجہ سے یہ خرابی پیدا ہو گئی کہ) یتیم کا کھانا خراب ہو جاتا اور گوشت میں بدبو پیداہوجاتی اور اس طرح اس کا مال ضائع ہو جاتا، پس جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو یہ حکم نازل ہوا کہ اگر تم ان یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی تو ہیں اور اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والے میں سے فساد کرنے والے کو جانتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الوصايا/حدیث: 6336]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب كان قد اختلط۔ أخرجه ابوداود: 2871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3000»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن کثیر نے کہا: مجاہد، عطائ، شعبی، ابن ابی لیلی، قتادہ اور کئی سلف و خلف نے ان دو آیتوں کا یہی شان نزول بیان کیا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر: ۱/ ۳۷۵)
حدیث میں مذکورہ پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے، اس کو وراثت سے جو مال ملا ہے، اس وقت تک پورے خلوص سے اس کی حفاظت کی جائے، جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے، یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر اس کی عمرِ شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جائیداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جب صحابہ کرام نے یہ ہدایات سنیں تو انھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی وعید اور تہمت سے بچانے کے لیےیتیم کا مال و متاع ہی سرے سے الگ الگ کر دیا، لیکن اس سے یتیم کے مال کا نقصان ہونے لگ گیا، پھر اللہ تعالی نے دوسری آیت نازل کر کے وضاحت کی کہ بغرض اصلاح و بہتری ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔
حدیث میں مذکورہ پہلی آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے، اس کو وراثت سے جو مال ملا ہے، اس وقت تک پورے خلوص سے اس کی حفاظت کی جائے، جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے، یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر اس کی عمرِ شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جائیداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔ جب صحابہ کرام نے یہ ہدایات سنیں تو انھوں نے اپنے آپ کو ہر قسم کی وعید اور تہمت سے بچانے کے لیےیتیم کا مال و متاع ہی سرے سے الگ الگ کر دیا، لیکن اس سے یتیم کے مال کا نقصان ہونے لگ گیا، پھر اللہ تعالی نے دوسری آیت نازل کر کے وضاحت کی کہ بغرض اصلاح و بہتری ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف