الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَهَانَةِ وَأَصْلٍ مَأْخَذِهَا وَكَيْفَ يُصَدُّقُ الْكَاهِنُ فِي بَعْضِ الْأُمُورِ
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
حدیث نمبر: 6813
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْجِنُّ يَسْمَعُونَ الْوَحْيَ فَيَسْتَمِعُونَ الْكَلِمَةَ فَيَزِيدُونَ فِيهَا عَشْرًا فَيَكُونَ مَا سَمِعُوا حَقًّا وَمَا زَادُوهُ بَاطِلًا وَكَانَتِ النُّجُومُ لَا يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَدُهُمْ لَا يَأْتِي مَقْعَدَهُ إِلَّا رُمِيَ بِشِهَابٍ يُحْرِقُ مَا أَصَابَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ فَقَالَ: مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ، فَبَثَّ جُنُودَهُ، فَإِذَا هُمْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ، فَأَتَوْهُ، فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جن وحی سن لیا کرتے تھے اور ایک بات سن کر اس کے ساتھ دس باتوں کا ضافہ کرتے تھے، جو کچھ سنا ہوتا تھا وہ سچ ہوتا تھا اور جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے تھے، وہ باطل ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے شہاب ثاقب نہیں گرتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنوں میں سے جو بھی اپنے ٹھکانے پر آتا تھا،شہاب ثاقب جس کو لگتا اسے جلا دیتا تھا، انہوں نے ابلیس سے اس کی شکایت کی، اس نے کہا: ضرورکوئی نئی صورت پیدا ہو گئی ہے، تب ہی ایسے ہو رہا ہے، اس نے تحقیق کے لیے اپنے لشکر پھیلا دئیے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو پہاڑوں کے درمیان نخلہ وادی میں نماز ادا کر رہے ہیں، وہ ابلیس کے پاس آئے اور اسے اس کی اطلاع دی، اس نے کہا: یہی وہ واقعہ ہے جو زمین میں نیا رونما ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6813]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3324، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2482»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6814
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سَأَلَ نَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَيْسُوا بِشَيْءٍ) ) فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِشَيْءٍ يَكُونُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (تِلْكَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ يَخْطِفُهَا الْجِنِّيُّ فَيُقِرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُونَ فِيهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ) )
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کبھی کبھی یہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں، جو سچ ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حق بات ہوتی ہے، جس کو جن اچک لیتا ہے، پھر وہ اپنے دوست کے کان میں اس طرح کڑ کڑاتے ہیں، جیسے مرغی کرتی ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6814]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5762، ومسلم: 2228، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25077»
وضاحت: فوائد: … اس مسئلہ کی مزید وضاحت درج ذیل ہے:
یہ اللہ تعالی کی حکمت و دانائی کے مطابق اس کا نظم و نسق ہے کہ جب وہ وحی پر مشتمل کلام کرتا ہے تو فرشتوں پر بیہوشی طاری ہو جاتی ہے، پھر ان کو حاملین عرش اور جبریل امین وحی کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں، جب یہی فرشتے آسمان دنیا پر وحی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو شیطان ان کی باتیں سن لیتے ہیں، اس چیز کی مزید وضاحت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں کی گئی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَنْزِلُ فِی الْعَنَانِ۔ وَہُوَ السَّحَابُ۔ فَتَذْکُرُ الْاَمْرَ قُضِیَ فِی السَّمَائِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّیَاطِیْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُہُ فَتُوْحِیْہِ اِلَی الْکُہَّانِ، فَیَکْذِبُوْنَ مَعَہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ۔)) (بخاری: ۳۲۱۰) … ”جب فرشتے آسمانِ دنیا میں اترتے ہیں اور آسمان میں کیے جانے والے فیصلے کا ذکر کرتے ہیں تو شیطان ان کی بات کو چوری کرتے ہیں، پھر اس کو کاہنوں (اور نجومیوں) تک پہنچا دیتے اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ “
اللہ تعالی کے انتظام و انصرام کے بعض امور انسانوں کے لیے آزمائش ہوتے ہیں، ان میں سے ایکیہ ہے۔ جہاں اللہ تعالی نے وحی کی حفاظت کے لیے شہابِ ثاقب کا انتظام کیا ہے، وہاں ممکن تھا کہ ان جنوں کو سرے سے آسمانوں کی طرف چڑھنے ہی نہ دیتا، لیکنیہ اللہ تعالی کی حکمت ہے اور بنو آدم کے لیے آزمائش ہے، بالخصوص ان لوگوں
کے لیے جو نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جا کر اپنے عقائد کو دیمک لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے واضح کر دیا ہے کہ نجومیوں کے پاس ایک سو ایک دعووں میں سے ایک سچا ہو سکتا ہے، جس کی بنا پر ان کے مریدوں کے یقین میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
قارئین کرام! اگر نجومی اور کاہن لوگوں مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کا دعوی کرتے ہیں تو یہ لوگ ایئر پورٹ، اسٹیشن اور لاری اڈے جیسے مقامات پر بیٹھ کر ان جہازوں، ریل گاڑیوں اور بسوں کو کیوں نہیں روک لیتے، جن کا حادثہ ہونے والا ہوتا ہے۔ جو نجومی بزعم خود یہ حساب و کتاب لگا سکتا ہے کہ فلاں آدمی کا بیٹا گم ہونے کے بعد کہاں ہے، وہ اس جہاز اور ٹرین کے بارے میں کیوں غافل ہو جاتا ہے، جو تھوڑے وقت کے بعد سینکڑوں لوگوں کو موت کے کنویں میں پھینکنے والے ہوتے ہیں۔ بسا اوقات بارشیں نہ ہونے یا کثرت سے ہونے کی وجہ سے زمینداروں کی اربوں کی فصلوں کا نقصان ہو جاتا ہے، یہ لوگ زمینداروں کو فصل کاشت ہی کیوں کرنے دیتے ہیں۔
دو بچوں کا باپ ہمارا ایک دوست ایک نجومی کی آزمائش کے لیے اس کے پاس گیا اور کہا: حضور! میری شادی نہیں ہو رہی، مختلف حربے استعمال کیے، لیکن ناکام رہا، اب آپ ہی ہیں، جو حساب و کتاب لگا کر میرا معاملہ مجھ پر واضح کر سکتے ہیں اور شادی میںمیرا تعاون کر سکتے ہیں۔ وہ نجومی مختلف حربوں، وظیفوں اور تعویذوں کے ذریعے قسمت آزمائی کرنے لگا اور اس مقصد میں کامیابی کے لیے مختلف مشورے دینے لگا۔ اتنے میں میرے دوست نے چھلانگ لگائی، اس کے کمرے سے باہر آگیا اور اسے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے تو اللہ تعالی نے ایک بیوی سے دو بچے بھی دے رکھے ہیں، تجھے تو میرے ماضی کی خبر نہیں، تو میرے مستقبل کے بارے میں خاک فیصلہ کرے گا۔
اسی طرح ایک نجومی پولیس والوں کے پاس اپنے مال کی چوری کی شکایت لے کر گیا اور تعاون کی درخواست کی، اللہ کا کرنا کہ پولیس والے صحیح عقائد کے مالک تھے، انھوں نے کہا: حضور! لوگوں کی چوریوں کے بارے میں تو آپ بڑی چھان بین کر کے مجرم تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اپنی چوری میں کچھ نہیں کر سکتے؟
مزید کیا حقائق ہیں، اس مقام پر ان کو قلمبند نہیں کیا جا سکتا، زبانی وضاحت ضرور کی جا سکتی ہے، لیکن کاہنوں پر یقین رکھنے والے لوگوں سے التماس ہے کہ وہ فرضی کہانی بتا کر ان کو ایک دو دفعہ آزمائیں، وہ ان شاء اللہ تیسری دفعہ جانے کی جرأت ہی نہیں کریں گے، کیونکہ سارے کے سارے معاملات ان پر واضح ہو جائیں گے۔
یہ اللہ تعالی کی حکمت و دانائی کے مطابق اس کا نظم و نسق ہے کہ جب وہ وحی پر مشتمل کلام کرتا ہے تو فرشتوں پر بیہوشی طاری ہو جاتی ہے، پھر ان کو حاملین عرش اور جبریل امین وحی کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں، جب یہی فرشتے آسمان دنیا پر وحی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو شیطان ان کی باتیں سن لیتے ہیں، اس چیز کی مزید وضاحت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں کی گئی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَنْزِلُ فِی الْعَنَانِ۔ وَہُوَ السَّحَابُ۔ فَتَذْکُرُ الْاَمْرَ قُضِیَ فِی السَّمَائِ، فَتَسْتَرِقُ الشَّیَاطِیْنُ السَّمْعَ فَتَسْمَعُہُ فَتُوْحِیْہِ اِلَی الْکُہَّانِ، فَیَکْذِبُوْنَ مَعَہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِہِمْ۔)) (بخاری: ۳۲۱۰) … ”جب فرشتے آسمانِ دنیا میں اترتے ہیں اور آسمان میں کیے جانے والے فیصلے کا ذکر کرتے ہیں تو شیطان ان کی بات کو چوری کرتے ہیں، پھر اس کو کاہنوں (اور نجومیوں) تک پہنچا دیتے اور اس کے ساتھ اپنی طرف سے سو سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ “
اللہ تعالی کے انتظام و انصرام کے بعض امور انسانوں کے لیے آزمائش ہوتے ہیں، ان میں سے ایکیہ ہے۔ جہاں اللہ تعالی نے وحی کی حفاظت کے لیے شہابِ ثاقب کا انتظام کیا ہے، وہاں ممکن تھا کہ ان جنوں کو سرے سے آسمانوں کی طرف چڑھنے ہی نہ دیتا، لیکنیہ اللہ تعالی کی حکمت ہے اور بنو آدم کے لیے آزمائش ہے، بالخصوص ان لوگوں
کے لیے جو نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جا کر اپنے عقائد کو دیمک لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی نے واضح کر دیا ہے کہ نجومیوں کے پاس ایک سو ایک دعووں میں سے ایک سچا ہو سکتا ہے، جس کی بنا پر ان کے مریدوں کے یقین میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
قارئین کرام! اگر نجومی اور کاہن لوگوں مستقبل کی پیشین گوئی کرنے کا دعوی کرتے ہیں تو یہ لوگ ایئر پورٹ، اسٹیشن اور لاری اڈے جیسے مقامات پر بیٹھ کر ان جہازوں، ریل گاڑیوں اور بسوں کو کیوں نہیں روک لیتے، جن کا حادثہ ہونے والا ہوتا ہے۔ جو نجومی بزعم خود یہ حساب و کتاب لگا سکتا ہے کہ فلاں آدمی کا بیٹا گم ہونے کے بعد کہاں ہے، وہ اس جہاز اور ٹرین کے بارے میں کیوں غافل ہو جاتا ہے، جو تھوڑے وقت کے بعد سینکڑوں لوگوں کو موت کے کنویں میں پھینکنے والے ہوتے ہیں۔ بسا اوقات بارشیں نہ ہونے یا کثرت سے ہونے کی وجہ سے زمینداروں کی اربوں کی فصلوں کا نقصان ہو جاتا ہے، یہ لوگ زمینداروں کو فصل کاشت ہی کیوں کرنے دیتے ہیں۔
دو بچوں کا باپ ہمارا ایک دوست ایک نجومی کی آزمائش کے لیے اس کے پاس گیا اور کہا: حضور! میری شادی نہیں ہو رہی، مختلف حربے استعمال کیے، لیکن ناکام رہا، اب آپ ہی ہیں، جو حساب و کتاب لگا کر میرا معاملہ مجھ پر واضح کر سکتے ہیں اور شادی میںمیرا تعاون کر سکتے ہیں۔ وہ نجومی مختلف حربوں، وظیفوں اور تعویذوں کے ذریعے قسمت آزمائی کرنے لگا اور اس مقصد میں کامیابی کے لیے مختلف مشورے دینے لگا۔ اتنے میں میرے دوست نے چھلانگ لگائی، اس کے کمرے سے باہر آگیا اور اسے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے تو اللہ تعالی نے ایک بیوی سے دو بچے بھی دے رکھے ہیں، تجھے تو میرے ماضی کی خبر نہیں، تو میرے مستقبل کے بارے میں خاک فیصلہ کرے گا۔
اسی طرح ایک نجومی پولیس والوں کے پاس اپنے مال کی چوری کی شکایت لے کر گیا اور تعاون کی درخواست کی، اللہ کا کرنا کہ پولیس والے صحیح عقائد کے مالک تھے، انھوں نے کہا: حضور! لوگوں کی چوریوں کے بارے میں تو آپ بڑی چھان بین کر کے مجرم تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اپنی چوری میں کچھ نہیں کر سکتے؟
مزید کیا حقائق ہیں، اس مقام پر ان کو قلمبند نہیں کیا جا سکتا، زبانی وضاحت ضرور کی جا سکتی ہے، لیکن کاہنوں پر یقین رکھنے والے لوگوں سے التماس ہے کہ وہ فرضی کہانی بتا کر ان کو ایک دو دفعہ آزمائیں، وہ ان شاء اللہ تیسری دفعہ جانے کی جرأت ہی نہیں کریں گے، کیونکہ سارے کے سارے معاملات ان پر واضح ہو جائیں گے۔
الحكم على الحديث: صحیح
4. بَابُ النَّهْي عَنْ اِثْيَانِ الْكَاهِنِ أَوِ الْعَرَّافِ وَوَعِيدِ مَنْ أَنَاهُ وَصَدَّقَهُ
کاہن اور عرّاف کے پاس جانے کی ممانعت اور جا کر اس کی تصدیق کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6815
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کاہن یا عَرَّاف کے پاس آیا اور اس نے اس کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا کفر کر دیا، جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کی گئی۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6815]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الحاكم: 1/8، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9532»
وضاحت: فوائد: … کاہن اور عَرَّاف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ ہوتا ہے، جو مستقبل کے حوادث و واقعات کی معرفت کے درپے ہوتا ہے اور عَرَّاف وہ ہوتا ہے جو چوری کی ہوئی چیز اور گم شدہ چیز کے موقع کی خبر دیتا ہے اور مختلف اسباب کے ذریعے مختلف امور کی معرفت کا دعوی کرتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6816
عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا) ) .
۔ سیدنا صفیہ رضی اللہ عنہا کسی ایک زوجۂ رسول سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عَرّاف کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6816]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16755»
وضاحت: فوائد: … جو آدمی کاہن کے دعوی کی تصدیق کرے گا اور اس کے بارے میںیہ اعتقاد رکھے گا کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہے تو وہ واقعی کافر ہو جائے گا، جیسا کہ گزشتہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن جو آدمی کاہن کے پاس گیا اور اس کے اس دعوی کی تصدیق کی، جس کی معرفت انسان کے بس کی بات ہوتی ہے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔
امام نووی نے کہا: نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا، البتہ اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور اس کو اعادہ یعنی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
کاہن کے دعویٰ کی تصدیق کرنا یقینا کفریہ کام ہے۔ لیکن اگر ایسا آدمی دین کی دوسری چیزوں (توحید و رسالت، جزا و سزا وغیرہ) کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا یہ کفریہ کام مخلد فی النار (ہمیشہ جہنمی) ہونے کا سبب نہیں بنے گا۔ بلکہ یہ کفر دون کفر کی صورت ہوگی جیسے مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کو کفر کہا گیا ہے (قتالہ کفر) یہ بھی آدمی کو ہمیشہ جہنمی بنانے کا سبب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
امام نووی نے کہا: نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا، البتہ اس کا فرض ادا ہو جائے گا اور اس کو اعادہ یعنی نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
کاہن کے دعویٰ کی تصدیق کرنا یقینا کفریہ کام ہے۔ لیکن اگر ایسا آدمی دین کی دوسری چیزوں (توحید و رسالت، جزا و سزا وغیرہ) کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا یہ کفریہ کام مخلد فی النار (ہمیشہ جہنمی) ہونے کا سبب نہیں بنے گا۔ بلکہ یہ کفر دون کفر کی صورت ہوگی جیسے مومن کے ساتھ لڑائی کرنے کو کفر کہا گیا ہے (قتالہ کفر) یہ بھی آدمی کو ہمیشہ جہنمی بنانے کا سبب نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6817
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ أَشْيَاءَ كُنَّا نَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُنَّا نَتَطَيَّرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ذَلِكَ شَيْءٌ تَجِدُهُ فِي نَفْسِكَ فَلَا يَصُدَّنَّكَ) ) . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنَّا نَأْتِي الْكُهَّانَ، قَالَ: ( (فَلَا تَأْتِ الْكُهَّانَ) ) .
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہم دورِ جاہلیت میں کرتے تھے، مثلا ہم بد شگونی لیتے تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی چیز ہے، جس کو تو اپنے دل میں محسوس تو کرے گا، لیکن یہ تجھے تیرے کام سے نہ روکنے پائے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کاہنوں کے پاس بھی جاتے تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں کے پاس نہیں جانا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6817]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15748»
وضاحت: فوائد: … کسی چیز کی کراہت انسان کے دل میں آ سکتی ہے، لیکن اس سے اس کے عزم میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے، مثلا ایک آدمی نے صبح صبح سفر کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اسی وقت اس کے سامنے اُلّو یا کوّا آ گیا،یا اس کا کوئی نقصان ہو گیا، تو اس سے اس کو یہ خیال تو آ سکتا ہے کہ اس کو سفر نہیں کرنا چاہیے، لیکن عملی طور پر اس کو اس خیال پر عمل نہ کرتے ہوئے اللہ تعالی پر توکل کر کے سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَاب مَا جَاءَ فِي حُلْوَانِ الْكَاهِنِ وَأَخْبَارٍ عَنِ الْكُهَانِ
کاہن کی شیرینی اور کاہنوں کی بعض باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 6818
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.
۔ سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کے مہر اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6818]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2237، 2282، ومسلم: 1567، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17198»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6819
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلُوا رُفَقَاءَ، رُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ وَرُفْقَةٌ مَعَ فُلَانٍ، فَنَزَلْتُ فِي رُفْقَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ مَعَنَا أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَنَزَلْنَا بِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْأَعْرَابِ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ حَامِلٌ، فَقَالَ لَهَا الْأَعْرَابِيُّ: أَيَسُرُّكِ أَنْ تَلِدِي غُلَامًا، إِنْ أَعْطَيْتِنِي شَاةً، فَوَلَدْتِ غُلَامًا، فَأَعْطَتْهُ شَاةً وَسَجَعَ لَهَا أَسَاجِيعَ، قَالَ: فَذَبَحَ الشَّاةَ فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ، قَالَ رَجُلٌ: أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ الشَّاةُ؟ فَأَخْبَرَهُمْ، قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ مُتَبَرِّئًا مُسْتَنْبِلًا مُتَقَيِّئًا.
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے، لوگ ٹولیوں کی صورت میں بٹ گئے اور ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، ایک ٹولی فلاں کے ساتھ، میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ٹولی میں تھا، ہمارے ساتھ ایک دیہاتی بھی تھا، ہم نے دیہاتیوں کے ایک گھر کے قریب پڑاً ڈالا، ان میں ایک عورت حاملہ تھی، دیہاتی نے اس عورت سے کہا: کیا تجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تو لڑکا جنم دے، اگر تو مجھے ایک بکری دے گی تو تیرے گھر لڑکا پیدا ہو گا، پس اس عورت نے اسے بکری دے دی اور اس دیہاتی نے اس عورت کے لئے قافیہ بندی میں باتیں کی اور بکری ذبح کر دی، جب لوگ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے تو ایک آدمی نے کہا: کیا تم جانتے ہو یہ بکری کیسی ہے؟ پھر اس نے ان کو اس کی اصل حقیقت بتلائی، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کھانے سے بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے تکلف کے ساتھ قے کر رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6819]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11502»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کھاتے وقت تو پتہ نہ چلا، لیکن جب ان کو معلوم ہوا تو انھوں نے چاہا کہ ان کے پیٹ میں اس حرام چیز کا کوئی جزو باقی نہ رہے، اس لیے تکلّف کے ساتھ قے کرنا شروع کر دی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6820
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ فَجَرُّوا ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ، فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریشی ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہا: ہمیں یہ بتا دے کہ ہم میں سے اس مقام نبوت کے زیادہ لائق اور حقدار کون ہے؟ اس نے کہا: اگر تم اس نرم زمین پر چادرتان کر اس کے اوپر چلو گے تو میں تمہیں بتاؤں گی، انہوں نے چادر تان لی، پھر لوگ اس پر چلے اوراس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و نشانات دیکھے اور کہا:یہ تم میں سب سے زیادہ مقام نبوت کے لائق ہے،ابھی تک اس واقعہ کو بیس سال یا اس کے قریب قریب ہی گزرے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6820]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فان رواية سماك عن عكرمة فيھا اضطراب، أخرجه ابن ماجه: 2350، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3072»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6821
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الظَّفَرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يَخْرُجُ مِنَ الْكَاهِنِينَ رَجُلٌ يَدْرُسُ الْقُرْآنَ دِرَاسَةً لَا يَدْرُسُهَا أَحَدٌ يَكُونُ بَعْدَهُ) ) .
۔ سیدنا ابو بردہ ظفری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاہنوں میں سے ایک آدمی ظاہر ہوگا، وہ قرآن مجید کو اس انداز میں پڑھے گا کہ اس کے بعد اس جیسا اور کوئی نہیں پڑھے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6821]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن معتب و أبيه، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 794، والبيھقي في ’’دلائل النبوة‘‘: 6/ 498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24377»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ کہانت کی کمائی حرام ہے، اس کے حرام ہونے پر اہل علم کا اتفاق و اجماع ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعِيَافَةِ وَالطَّرِيقِ يَعْنِي الْخَطَّ فِي الْأَرْضِ وَالطَّيِّرَةِ
فال پکڑنے، زمیں میں خط لگانے اور بدشگونی کا بیان
حدیث نمبر: 6822
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَهُ فَهُوَ عِلْمُهُ) ) .
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی لکیریں لگاتا تھا، پس جس شخص کا علم اس کے موافق ہو جائے، وہ علم درست ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب السحر والكهانة والتنجيم/حدیث: 6822]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9106»
وضاحت: فوائد: … گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زجر و توبیخ کر رہے ہیں، کیونکہ اس نبی سے موافقت ہو جانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔
دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی۔
دورِ جاہلیت میں خط لگانے کی صورت یہ تھی کہ محتاج مٹھائی وغیرہ لے کر کاہن اور پیشین گوئی کرنے والے کے پاس آتا، وہ اس کو کہتا: تو بیٹھ جا، میں تیرے لیے لکیریں لگاتا ہوں، اُدھر کاہن کے سامنے ایک لڑکا ہوتا، اس کے پاس سرمہ کی سلائی ہوتی، پھر وہ نرم زمین کی طرف آتا اور اتنی جلدی سے لکیریں لگاتا کہ ان کو گن نہیں سکتا تھا، پھر دو دو لکیریں مٹانا شروع کر دیتا، اب اگر آخر میں دو لکیریں بچ جاتیں تو ان کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا اور اگر ایک بچ جاتی تو وہ ناکامی کی علامت ہوتی تھی۔
الحكم على الحديث: صحیح