🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الثَّلَاثِ مُجْتَمِعًا وَ مُتَفَرِقًا
اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7157
عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟) ) قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا، قَالَ: فَقَالَ: ( (فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟) ) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ) ) قَالَ: فَرَجَعَهَا، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو مطلب والے سیدنا رکانہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں اور پھر بہت سخت غمگین ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کس طرح طلاق دی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی مجلس میں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو ایک ہی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتے ہوتو کر لو۔ پس انھوں نے رجوع کر لیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکی رائے تھی کہ طلاق ہر طہر میں دی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7157]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: فلا أقل من أن يكون الحديث حسنا بمجموع الطريقين عن عكرمة ومال ابن القيم إلي تصحيحه (ارواء الغليل: 7/ 139)، أخرجه ابوداود: 2196، 2206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2387»

الحكم على الحديث:
قال الالباني: فلا أقل من أن يكون الحديث حسنا بمجموع الطريقين عن عكرمة ومال ابن القيم إلي تصحيحه (ارواء الغليل: 7/ 139)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7158
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زمانۂ خلافت کے شروع کے دو برسوں میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس کام میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں انہیں نہایت سوچ بچار سے قدم رکھنا چاہیے تھا، لہٰذا اگر ہم تینوں طلاقیں جاری ہونے کا فیصلہ کر دیں، پھر انھوں نے یہ فیصلہ جاری کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7158]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2875»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ تعزیر اور سزا کے طور پر تھا، یہ ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ تھا، شرعی حکم اپنی جگہ پر برقرار ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اختیار کیا جاتا تھا، حنفی علماء نے بھی اس کو تعزیری اور سیاسی فیصلہ تسلیم کیا ہے جو کہ ایک حاکم وقت بعض اوقات جاری کر دیتا ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فقہ حنفی کی معروف کتاب جامع الرموز کتاب الطلاق اور حاشیہ طحطاوی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1472
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7159
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: لَمَّا لَاعَنَ عُوَيْمِرٌ أَخُو بَنِي الْعَجْلَانِ امْرَأَتَهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، هِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بنو عجلان کے آدمی سیدنا عویمر نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! اب اگر میں لعان کے بعد بھی اس کو اپنے گھر رکھوں تو یہ تو میرا اس پر ظلم ہو گا، لہٰذا اسے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔ ایک روایت میں ہے: انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ ایک روایت میں ہے: یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7159]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 423، 4745، 4746، 5309، 7166، 7304، ومسلم: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23219»
وضاحت: فوائد: … اس روایت میں تین طلاقوں کا بیک وقت اثر انداز ہو جانا، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ لعان سے نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، طلاق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، آگے چل کر لعان کی وضاحت ہو گی، جبکہ مذکورہ بالا روایت سے ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ طلاقٰن تین دی تو جاتی تھیں، لیکن اثر ایک طلاق کا ہوتا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 423
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب مَا جَاءَ فِي الطَّلَاقِ بِالْكِتَايَةِ
اشارہ کنایہ سے طلاق کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7160
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ فَتَخْتَارُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ) ) فَقُلْتُ: وَمَا هٰذَا الْأَمْرُ؟ قَالَ: فَتَلَا عَلَيَّ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: 28] قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
۔ جعفر بن برقان کہتے ہیں: میں نے امام زہری رحمہ اللہ علیہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کورہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیتا ہے، وہ اپنے خاوند کو اختیار کر لیتی ہے، اس کے متعلق کیا رائے ہیں؟ زہری نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میں تجھ پر ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں،تو نے جواب دینے میں جلدی نہیں کرنا، بلکہ اپنے ماں باپ سے مشورہ کرنا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا معاملہ ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ اِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَاُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا۔ وَاِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْکُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا۔} … اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: بھلا یہ کونسی چیز ہے کہ میں اپنے ماں باپ سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت خوش ہوئے اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! جوبات میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے، یہی میں تمہاری دیگر سوکنوں پر پیش کرنے والا ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لیکن میں نے جو چیز پسند کی ہے، اس کے بارے میں آپ نے میری سوکنوں کو نہیں بتانا۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری بیویوں پر یہی بات پیش کی اور سیدہ عائشہ نے جس کو اختیار کیا تھا، وہ بھی ان کو بتایا کہ عائشہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور آخرت کو چن لیا ہے۔ تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا اورہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار کر لیا،لیکن اس کو طلاق شمار نہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7160]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4785، ومسلم: 1475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26033»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4785
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7161
عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم خَيَّرَ نِسَاءَهُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) وَلَمْ يُخَيِّرْهُنَّ الطَّلَاقَ۔
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو دنیا و آخرت میں سے ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا تھا، اور ان کو طلاق کا اختیار تو نہیں دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7161]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن عبيد الله، قال البخاري: منكر الحديث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 588»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7162
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم لَمَّا أُوتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ وَدَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: ( (هَبِي لِي نَفْسَكِ۔) ) قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَتْ: إِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: ( (لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ۔) ) ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: ( (يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسِهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا۔) )
۔ سیدنا ابو اسیدساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جون قبیلہ کی عورت پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا: اپنے نفس کو میرے لئے ہبہ کر دو۔ وہ کہنے لگی: کیا ایک ملکہ کسی عام آدمی کے لئے اپنے آپ کو ہبہ کر سکتی ہے؟ پھر اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے تو واقعی اس ذات کی پناہ طلب کی، جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پا س آئے اور فرمانے لگے: ابو اسید! اس عورت کو کتان کے دو سفید کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر والوں کے ہاں پہنچا دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7162]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5255، 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16158»
وضاحت: فوائد: … اصل واقعہ یوں ہے کہ نعمان بن جون کندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں آپ کی شادی امیمہ بنت نعمان بن شراحیل سے نہ کرا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ کو بطور نمائندہ نکاح بھیجا، وہ اس خاتون کو لے آئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس گئے، آپ کا کسی کو قبول کر لینا ہی شادی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا نمائندہ بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہبہ کرنے کی بات دلجوئی کے لیے کی تھی، وگرنہ وہ شرعاً آپ کی بیوی بن چکی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کو ترجیح دی اور اس کو واپس بھیج دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5255
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7163
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه فِي حَدِيثِ تَخَلُّفِهِ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَدْ هَجَرَهُ وَصَاحِبَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم وَالصَّحَابَةُ قَبْلَ نُزُولِ تَوْبَتِهِمْ، قَالَ: حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا بِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ اِمْرَأَتَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: بَلِ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبْهَا، قَالَ: وَأَرْسَلَ إِلَى أَصْحَابِي بِمِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هٰذَا الْأَمْرِ، الْحَدِيثَ۔
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں، جب وہ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گئے تھے، ان کی توبہ قبول ہونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ نے ان کو اور ان کے دو ساتھیوں کو چھوڑ دیا تھا، جب یہ بول چال چھوڑے ہوئے چالیس دن گزر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد میرے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے بھی الگ ہو جاؤ، میں نے کہا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: بس الگ ہو جاؤ اور اس کے قریب نہ جاؤ، میرے باقی دو ساتھیوں کی طرف بھی یہی پیغام بھیجا، پس میں نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم اپنے گھر والوں کے ہاں چلی جاؤ اوران کے پاس رہو،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر دے۔ الخ۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7163]
تخریج الحدیث: «ھذا حديث طويل و أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 3889، 4676، 4677، 6690، ومسلم: 2769، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15789»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کے لیے لفظ الْحَقِیْ بِاَھْلِکِ (تو اپنے گھر والوں کی طرف چلی جا) استعمال کیے، لیکن اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ ان کی نیت طلاق کی نہیں تھی۔

الحكم على الحديث:
ھذا حديث طويل و أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 3889
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7164
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ قَالَ: كَتَبَ إِلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عُمَرَ رضي الله عنه كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، قَالَ هِشَامٌ: وَكَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}۔
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ خاوند کا اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا، یہ ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا، اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمابھی یہی کہتے تھے کہ بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا ایک قسم ہے، جس کا وہ کفارہ ادا کرے گا۔ نیز سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے یہ آیت پڑھی:{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} … تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7164]
تخریج الحدیث: «حديث عكرمة عن عمر منقطع، وحديث ابن عباس صحيح علي شرط البخاري، أخرجه البخاري: 4911، 5266، ومسلم: 1473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1976»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد درج ذیل آیت ہے:

الحكم على الحديث:
حديث عكرمة عن عمر منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلاقِ الْمُكْرَهِ وَمَنْ عَلَّقَ الطَّلاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ
زبردستی لی گئی طلاق کا حکم اور جس نے نکاح سے پہلے طلاق معلق دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7165
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: ( (لَا طَلَاقَ وَلَا عِتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ) ) ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زبردستی میں نہ تو طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی کسی غلام کی آزادی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7165]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيد المكي، أخرجه ابوداود: 2193، وابن ماجه: 2046، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26892»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی زور آور کسی کمزور پر رعب جماتے ہوئے یا اسلحہ کے زور پر یا کسی بھی زبردستی کے انداز میں مجبور کرتے ہوئے کہے کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دے یا اپنے لونڈی یا غلام کو آزاد کر تو یہ دونوں چیزیں واقع نہیں ہوں گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبيد المكي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7166
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ( (لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ۔) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کو خاوند بننے سے پہلے خاتون کو طلاق دینے کا، ملکیت سے پہلے غلام کو آزاد کرنے کا اور مالک بننے سے پہلے کوئی چیز بیچنے کا کوئی اختیار نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7166]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2190، والنسائي: 7/ 288، والترمذي: 1181، وابن ماجه: 2047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6769»
وضاحت: فوائد: … اگر ایک آدمی کہتا ہے کہ اگر فلاں عورت سے میرا نکاح ہوا تو اسے میں طلاق دے دوں گا، یا اسے طلاق ہو جائے گی، تو اس سے طلاق واقع نہیں ہو گی، کیونکہ جب وہ یہ بات کہہ رہا ہوتا ہے، اس وقت وہ خاوند اور مالک نہیں ہوتا، امام شافعی اور امام احمد کا یہی مؤقف ہے کہ نکاح سے پہلے کسی قسم کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں