الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الْعَبْدِ
غلام کی طلاق کا بیان
حدیث نمبر: 7167
عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى أَبِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا هَلْ يَصْلَحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم۔
۔ ابو حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ ایک غلام ہے، اس کی بیوی بھی لونڈی ہے، وہ اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیتا ہے، پھر وہ دونوں آزاد ہو جاتے ہیں توکیا اب اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کو منگنی کا پیغام بھیجے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے جواب دیا:ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7167]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن معتب، قال احمد: لا اعرفه، وذكره النسائي في الضعفائ، وقال: ليس بالقوي، أخرجه ابوداود: 2187، والنسائي: 6/ 154، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2031 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2031»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7168
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ اِمْرَأَتَهُ بِطَلِقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا أَيَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ عَمَّنْ؟ قَالَ: أَفْتَى بِذٰلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ) قَالَ أَبِي: قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ! مَنْ أَبُو حَسَنٍ هٰذَا؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً۔
۔ (دوسری سند) ابو حسن سے ہی مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا، جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دی ہوں، پھر وہ دونوں آزاد ہو جائیں،تو کیاوہ اس لونڈی کے ساتھ دوبارہ شادی کر سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ کسی نے کہا: تم یہ کس سے بیان کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی چیز کا فتویٰ دیا تھا۔ عبد اللہ بن احمد کہتے ہیں:میرے باپ اما م احمد رحمہ اللہ علیہ نے کہا: معمر سے پوچھا گیا: یہ ابو حسن کون ہے؟ اس نے ایک بڑی بھاری چٹان اٹھائی ہے (یعنی بے بنیاد سی بات کی ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7168]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3088»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یَنْکِحُ الْعَبْدُ امْرَأَتَیْنِ وَیُطَلِّقُ تَطْلِیْقَتَیْنِ۔ … غلام دو عورتوں سے طلاق کر سکتا ہے اور دو طلاقیں دے سکتا ہے۔ (ارواء الغلیل: ۲۰۶۷، دارقطنی: ۲/ ۲۴۲، بیہقی: ۷/ ۴۲۵)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3088
7. بَابُ عدم وقوعِ الطَّلَاقِ مِنَ النَّائِمِ وَالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونَ وَبِحَدِيثِ النَّفْسِ
سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7169
عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ( (رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ، عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يَعْقِلَ) ) ۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد مرفوع القلم ہیں(یعنی گناہ کی سزا سے بری ہیں): ایک نابالغ بچہ، جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، دوسرا سویا ہوا شخص، جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے اور تیسرا پاگل شخص، جب تک اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7169]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد، أخرجه ابوداود: 4398، والنسائي: 6/ 156، وابن ماجه: 2041،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25201»
وضاحت: فوائد: … امام ابن حبان نے کہا: مرفوع القلم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے واقع ہونے والا شرّ نہیں لکھا جاتا، نہ کہ خیر (یعنی اگر بچہ اور پاگل نیکی کاکام کریں تو ان کے لیے ثواب لکھا جاتا ہے)۔
الحكم على الحديث:
اسناده جيد
حدیث نمبر: 7170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وآله وسلم: ( (تُجُوِّزَ (وَفِي لَفْظٍ: أَنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ) لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسُهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ) ) ۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت کے(افراد کے دل میں آنے والے فاسد) خیالات اور دلی وسوسوں سے تب تک در گزر فرمایا ہے، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یاانہیں زبان پر نہ لا یا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7170]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2528، 6664، و مسلم: 127، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7464»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر طلاق کا وسوسہ یا خیال پیدا ہو جائے، لیکن اس کا زبان سے اظہار نہ کیا جائے تو وہ واقع نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2528
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي طَلَاقِ الْفَارُ وَالْمَرِيضِ وَالْهَازِلِ
بیوی کو میراث سے محروم کرنے والے، مریض اور مذاق سے طلاق دینے والا کا بیان
حدیث نمبر: 7171
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي لَأَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ وَلَعَلَّكَ أَنْ لَا تَمْكُثَ إِلَّا قَلِيلًا وَأَيْمُ اللَّهِ لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكَ أَوْ لَأُوَرِّثُهُنَّ مِنْكَ وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویا ں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: تم ان میں سے کل چار بیویاں منتخب کر لو۔ عہد فاروقی میں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ نے تمام بیویوں کو طلاق دے دی اور سارا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے ان کو بلایا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شیطان نے فرشتوں سے تیری موت کی خبر سن کر تیرے دل میں ڈال دی ہے، اب شاید تیری تھوڑی زندگی باقی رہ گئی ہو۔اللہ کی قسم ہے! یا تو تو اپنی بیویوں سے رجوع کرکے ان کو مال واپس کرے گا، یا میں خود ان بیویوں کو تیرا وارث بناؤں گا اور تیری قبر کے بارے میں حکم دوں گا کہ اس کو ایسے رجم کیا جائے، جیسے ابو رِغال کی قبر کو کیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطلاق/حدیث: 7171]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مختصرا الترمذي: 1128، وابن ماجه: 1953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4631»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح