🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ اللعان عَلَى الْحَمَل وَمَنْ قَذَفَ امْرَأَتُهُ بِرَجُلٍ سَمَّاه
حمل کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ اور اس شخص کا بیان¤جو مرد کا نام لے کر اپنی بیوی پر تہمت لگاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7204
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اقْبِضْهَا إِلَيْكَ حَتَّى تَلِدَ عِنْدَكَ فَإِنْ تَلِدْهُ أَحْمَرَ فَهُوَ لِأَبِيهِ الَّذِي انْتَفَى مِنْهُ لِعُوَيْمِرٍ وَإِنْ وَلَدَتْهُ قَطَطَ الشَّعْرِ أَسْوَدَ اللِّسَانِ فَهُوَ لِابْنِ السَّحْمَاءِ قَالَ عَاصِمٌ فَلَمَّا وَقَعَ أَخَذْتُهُ إِلَيَّ فَإِذَا رَأْسُهُ مِثْلُ فَرْوَةِ الْحَمَلِ الصَّغِيرِ ثُمَّ أَخَذْتُ قَالَ يَعْقُوبُ بِفُقْمَيْهِ فَإِذَا هُوَ أُحَيْمِرٌ مِثْلُ النَّبْقَةِ وَاسْتَقْبَلَنِي لِسَانُهُ أَسْوَدُ مِثْلُ التَّمْرَةِ قَالَ فَقُلْتُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصم بن عدی سے فرمایا: اس عورت کو بچہ جننے تک اپنے قبضہ میں رکھو، اگر اس نے گھنگھریالے بالوں والا، سیاہ زبان والا بچہ جنم دیا تو یہ ابن سحماء کا ہے۔ جب بچے نے جنم لیا تو عاصم کہتے ہیں کہ میں نے اسے پکڑا تو اس کے سر کے بال بکری کے چھوٹے بچے کی مانند گھنے تھے، پھر میں نے اس کے جبڑے کو پکڑا تو وہ بیر کی مانند سرخ تھا اور اس کی زبان سامنے سے میں نے دیکھی تو کھجور کی مانند سیاہ تھی، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7204]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن،أخرجه بنحوه ابوداود: 2246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22837 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23225»
وضاحت: فوائد: … اس سے اس پر استدلال درست ہے کہ وضع حمل سے پہلے بھی لعان جائز ہے جبکہ خاوند اس پیٹ کے بچے کی نفی کر دے ضروری نہیں کہ لعان بچہ جنم لے تو بعد میں ہی ہو سکتا ہے پہلے نہیں ہو سکتا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب اللعان عَلَى الْعُدْرَةِ وَهِي بِضَمُ الْعَيْنِ الْمُهْمَلَةِ وَسَكُون الدَّالِ الْمُعْجَمَةِ مَا لِلْبِكْرِ مِنَ الانْتِحَامِ قَبْلَ الْاقْتِضَاض
کنواری لڑکی کی بکارت زائل ہو جانے کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7205
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي عَجْلَانَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ قَالَ فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ بَلَى قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ ایک شخص نے بنوعجلان کی ایک انصاری خاتون سے شادی کی، وہ اس کے پاس گیا اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اس عورت کو کنوارا نہیں پایا، جب ان دونوں کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکی کو بلا کر اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا، اس لڑکی نے جواباً کہا: میں تو کنواری ہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو حق مہر بھی دلوایا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7205]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لتدليس محمد بن اسحاق، أخرجه ابن ماجه: 2070، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2367 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2367»
وضاحت: فوائد: … پردۂ بکارت کے پھٹ جانے کی بنا پر نہ لعان درست ہے اور نہ اس وجہ سے برائی کی تہمت لگائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ پردہ بدکاری کے علاوہ کسی اور چیز سے بھی متأثر ہو سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لتدليس محمد بن اسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ سُقوطِ نَفَقَةِ الْمُلَا عَنَةِ وَعَدْمٍ قَدَفِهَا وَإِنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لَابِ
یہ اس بات کا بیان ہے کہ شوہر لعان والی عورت کے اخراجات کا ذمہ دار نہیںاور اس عورت پر تہمت بھی نہیں لگائی جائے گی، اگرچہ اس کی اولاد کو باپ کی نسبت سے نہیں پکارا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7206
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا وَلَا سُكْنَى مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا کہ اس کو اس کے باپ کی نسبت سے نہ پکارا جائے، نیز جو شخص بھی اس خاتون یا اس کی اولاد پر الزام تراشی کرے اس پر تہمت کی حد قائم کی جائے، علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا کہ اس عورت کے شوہر کے ذمہ نہ تواس کا نان ونفقہ ہے اور نہ ہی رہائش کا بندوبست، کیونکہ ان کے مابین علیحدگی کی وجہ طلاق یا شوہر کی وفات نہیں ہے، بلکہ کچھ اور ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7206]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه عباد بن منصور تُكلم فيه، وفي سماعه عن عكرمة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2199»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ لعان کے بعد خاوند اس بیوی کے نان نفقہ کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7207
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کی اولاد سے اپنی نسبت کا بھی انکار کردیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مابین علیحدگی کروا دی اور بچے کی نسبت خاتون کے ساتھ کردی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7207]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5315، ومسلم: 1494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6098»
وضاحت: فوائد: … لعان کے بعد پیدا ہونے والا بچہ صرف ماں کی طرف منسوب ہو گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5315
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7208
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ إِنَّهُ يَرِثُ مِيرَاثَ أُمِّهِ وَتَرِثُهُ وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ دیا کہ ایسی اولاد اپنی ماں کی وارث بنے گی اور ماں اولاد کی وارث ہوگی۔ جو شخص لعان کے بعد عورت اور اس کی اولاد پر تہمت لگائے گا اسے اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7208]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7028»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں بھی جو مسئلے بیان کیے گئے ہیں، وہ دوسری روایات کی بنا پر صحیح ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ لَا يَجْتَمِعُ الْمُتَلاعِنَانَ آبَدًا وَلَهَا مَهْرُهَا
لعان کرنے والے میاں بیوی ہمیشہ کے لیے جداہو جاتے ہیں اور مہر عورت کو دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ لَا مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے فرمایا: تمہارا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاوند سے فرمایا: تیرا اب اس عورت پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ادا کئے ہوئے حق مہر کاکیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس عورت کے مقابلے میں سچا ہے تو یہ حق مہر اس کے عوض ہو جائے گا جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھے رکھا، اور اگر تم نے جھوٹا الزام لگایا ہے تو پھر تو وہ تجھ سے بہت دور ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7209]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5312، ومسلم: 1493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4587»
وضاحت: فوائد: لعان، طلاق نہیں ہے، بلکہ ایسا فسخ نکاح ہے کہ اس کے بعد میاں بیوی کے لیے رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الْمُتَلَاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقاً لَایَجْتَمِعَانِ أَبَداً۔)) … جب لعان کرنے والے (میاں بیوی) جدا ہو جائیں، تو کبھی (نکاح میں) جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ حدیث عبد اللہ بن عمر، سہل بن سعد، عبداللہ بن مسعود اور علی بن ابو طالب سے مروی ہے۔ (دیکھیں: بیہقی:۷/۴۰۹، ابوداود: ۱/۳۵۱ـ ۳۵۲، عبدالرزاق:۷/ ۱۱۲/ ۱۲۴۳۴، ۱۲۴۳۶، معجم کبیر طبرانی:۹/۳۹۰/۹۶۶۱، صحیحہ: ۲۴۶۵)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5312
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ تَحْدِيدِ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ اللعَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم
لعان کے بارے میں زمان و مکان کی حد بندی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7210
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَتَلَاعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا ق
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں پیش آنے والے واقعہ لعان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھے، جب دو میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا تھا، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی۔لعان کرنے والا شوہر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر میں نے جھوٹا الزام لگایا ہے، لہذا میں اسے ساتھ نہیں رکھوں گا۔سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: لعان کرنے والی عورت نے ناپسندیدہ صفت میں بچہ جنم دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7210]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6854، 7165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22803 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے لعان مسجد میں کیا تھا اور میں حاضر تھا اور عصر کے بعد کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6854
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ مَنْ عَرَضَ بِقَدْفِ زَوْجَتِهِ لِلشَّكُ فِي الْوَلَدِ
اولاد میں شک کا اشارہ کرنے سے لعان نہیں کیاجائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7211
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتَهُ وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَكَأَنَّهُ يُعَرِّضُ أَنْ يَنْتَفِيَ مِنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ إِبِلٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ نَعَمْ فِيهَا ذَوْدٌ أَوْرَقُ قَالَ وَمِمَّا ذَاكَ قَالَ لَعَلَّهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اورکہا: اے اللہ کے نبی! میری بیوی نے سیاہ رنگ کا بچہ جنم دیا ہے، (چونکہ وہ خود سفید رنگت کا تھا) اس لیے وہ دراصل بچے کی نفی کا اشارہ دے رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تونے اونٹ رکھے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں؟ اس نے کہا: سرخ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ ہے؟ اس نے کہا: جی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں سے آگیا؟ اس نے کہا: شاید اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو شاید اس کو بھی رگ نے ہی کھینچ لیا ہو۔ آپ نے اسے بچے کی نفی کی اجازت نہ دی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7211]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7314، ومسلم: 1500، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7189»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ پیدا ہونے والے بچے کی رنگت اور شکل و صورت کی بنا پر اس کی ماں پر تہمت نہیںلگائی جا سکتی، بلکہ ایسا بچہ جس کے گھر پیدا ہو گا، اسی کا سمجھا جائے گا، ایسی صورت میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7314
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بابُ أَنَّ الْوَلَد لِلْفِرَاشِ دُونَ الزَّانِي وَمَا جَاءَ فِي الْحَاقِ الْوَلَدِ وَدَعْوَى النَّسَبِ
اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7212
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد اسی شخص سے منسوب ہوگی، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7212]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 173»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7213
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: بچہ بستر والے کا ہو گا، جبکہ زانی کے لئے پتھر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7213]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6750، 6818، ومسلم: 1458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9291»
وضاحت: فوائد: … شادہ شدہ عورت سے جو بچہ پیدا ہو، وہ خاوند ہی سے متصور ہو گا، اسی طرح لونڈی سے جو بچہ پیدا ہو، وہ اس کے مالک ہی کا متصور ہو گا، جب تک خاوند یا مالک کسی دلیل کی بنا پر نفی نہ کرے، کیونکہ بچے کے جائز یا ناجائز ہونے کا مسئلہ مخفی ہوتا ہے اور اس کی تہہ تک پہنچنا مشکل امر ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6750
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں