الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ مَا كَانَ مِنْ الْجَابِ الْحَدْ عَلَى مَنْ قَدَّفَ زَوْجَتَهُ إِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَبْلَ نُزُولِ آيَاتِ اللعان
لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
حدیث نمبر: 7194
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ نَعَمْ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھ لوں، تو کیا اس کو اس وقت تک مہلت دے دوں، جب تک چار گواہ پیش نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7194]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10008»
وضاحت: فوائد: … یہ چارگواہوں کا سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو بیوی کے پاس کسی غیر مرد کو دیکھ کر برداشت نہ کروں گا، گواہ لانا تو بعد کی بات ہے، میں تو اس سے پہلے پہلے تلوار مار کر اس آدمی کی گردن اڑا دوں گا، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سنو، تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے، یہ بڑا غیرت مند ہے اور میں اس سے بڑھ کر غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہیں۔ (صحیح مسلم)
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1498
حدیث نمبر: 7195
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (جب ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پرزنا کی تہمت لگائی تو ان سے کسی نے کہا تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقینا اسی کوڑے لگائیں گے جو کہ تہمت کی حد ہے) تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے کہ وہ مجھے اسی کوڑے لگنے دے، کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ میں نے ایسے ہوتے ہوئے دیکھا ہے اور مجھے یقین ہے، اور میں نے ایسی باتیں سنی ہیں کہ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ (میری بیوی سے برائی ہوئی ہے)، اللہ کی قسم! مجھے وہ کبھی بھی کوڑے نہیں لگنے دے گا، پس لعان والی آیت نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7195]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه الحاكم: 2/ 202، والبيھقي: 7/ 395، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2468»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
حدیث نمبر: 7196
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَشِيَّةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ صَالِحًا لَأَسْأَلَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ اللَّهُمَّ احْكُمْ قَالَ فَأُنْزِلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ قَالَ فَكَانَ ذَاكَ الرَّجُلُ أَوَّلَ مَنِ ابْتُلِيَ بِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم جمعہ کی شام کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا:بتاؤ اگر ہم میں سے ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، اب اگر وہ اسے قتل کرے تو تم اسے قتل کردو گے، اگر وہ بات کرے تو تم اس پر تہمت کی حد لگاؤ گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو بہت زیادہ غصہ اس کی خاموشی میں دبا ہو گا، اللہ کی قسم! اگر میں صبح تک صحیح سلامت رہا تو میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لیتا ہے، اب اگر وہ اس کو قتل کر دے تو تم لوگ اس کو قتل کر دو گے، اگر وہ یہ بات کرے تو تم اس کو تہمت کی حد لگا دو گے، اور اگر وہ خاموش رہتاہے تو اس کی خاموشی کے نیچے غضب دبا ہوا ہو گا، اے میرے اللہ! اس چیز کا فیصلہ کر دے، پس لعان کی آیات نازل ہوئیں۔ سیدنا عبد اللہ کہتے ہیں: سب سے پہلے وہی آدمی، جو یہ سوال کر رہا تھا، لعان کی آزمائش سے گزرا، اسی سے آغاز ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7196]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1495، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4001 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4001»
وضاحت: فوائد: … یہ آدمی سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1495
2. بَابُ سَبَهِ وَتَفْسِيرِ آيَاتِ الْقَذَفِ وَالدُّعَانِ وَقِصَّةِ هلال بن أُمَيَّةَ فِي ذلِكَ
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا بیان
حدیث نمبر: 7197
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا [النور: 4] قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ وَأَنَّهَا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنِّي لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ وَلَا أُحَرِّكَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ قَالَ فَمَا لَبِثُوا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عِشَاءً فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهَا رَجُلًا فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَاجْتَمَعَتِ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا قَدِ ابْتُلِينَا بِمَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْآنَ يَضْرِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ وَيُبْطِلُ شَهَادَتَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ هِلَالٌ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِي مِنْهَا مَخْرَجًا فَقَالَ هِلَالٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَى مَا اشْتَدَّ عَلَيْكَ مِمَّا جِئْتُ بِهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ وَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَأْمُرَ بِضَرْبِهِ إِذْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ عَرَفُوا ذَلِكَ فِي تَرَبُّدِ جِلْدِهِ يَعْنِي فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْوَحْيِ فَنَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ [النور: 6] الْآيَةَ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا هِلَالُ فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا فَقَالَ هِلَالٌ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَاكَ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلُوا إِلَيْهَا فَأَرْسَلُوا إِلَيْهَا فَجَاءَتْ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا فَقَالَ هِلَالٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ كَذَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا فَقِيلَ لِهِلَالٍ اشْهَدْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ فَلَمَّا كَانَ فِي الْخَامِسَةِ قِيلَ يَا هِلَالُ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا فَشَهِدَ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ قِيلَ لَهَا اشْهَدِي فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهَا اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتْ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَضَى أَنَّهُ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى هِيَ بِهِ وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا وَقَالَ إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْسِحَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالٍ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ قَالَ عِكْرِمَةُ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرَ وَكَانَ يُدْعَى لِأُمِّهِ وَمَا يُدْعَى لِأَبِيهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوْا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا} … جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور چار گواہ پیش نہیں کرتے تو انہیں اسی کوڑے مارو، اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کریں۔ تو انصار کے سردار سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے، (جیسے آپ نے تلاوت کی ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! جو کچھ تمہارے سردار نے کہا ہے، کیا تم نے سن لیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس سردار کو ملامت نہ کریں، کیونکہ یہ بہت غیرت مند آدمی ہے، ان کی غیرت کا یہ حال ہے کہ انہوں نے صرف دوشیزہ عورتوں سے شادی کی ہے اور ان کی غیرت کے جوش کی ہی وجہ ہے کہ جس عورت کو انہوں نے طلاق دی ہو، ہم میں سے کوئی بھی یہ جرأت نہیں کرتا کہ ان کی مطلقہ سے شادی کر لے۔سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ معلوم ہے کہ آیت سچ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، مجھے تعجب یہ ہے کہ اگر بالفرض میں اپنی بیوی کو اس کمینگی تک پہنچے ہوئے دیکھوں کہ کوئی مرد اس سے زنا کا ارتکاب کرتا ہے، میرے لیے اجازت نہ ہو گی کہ میں نہ تو اس کو حرکت کرنے دوں اور نہ ہی بھڑکاؤ ں، تاوقتیکہ چار گواہ نہ لے آؤں، اللہ کی قسم! اس طرح تو کام نہیں چلے گا، میرے چار گواہ لانے تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے ہوں گے، یہ تو بطور فرض ہی بات ہو رہی تھی، حقیقت میں ایسا ہوا کہ کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ آ گئے، یہ صحابی ان تینوں میں سے ایک ہیں، جن کی غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے توبہ قبول ہوئی تھی۔ ہوا یوں کہ یہ رات کے وقت اپنی زمین سے فارغ ہو کر گھر آئے تو بیوی کے پاس ایک اجنبی مرد کو پایا، انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور کانوں سے آوازیں سن لیں، ان کی طبیعت میں اطمینان رہا، ہیجان پیدا نہ ہوا تھا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں رات کے وقت گھر آیا تو میری بیوی کے پاس ایک غیر مرد موجود تھا، جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اور میں نے کانوں سے ان کی آواز سنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات کو پسند نہ فرمایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ واقعہ ناخوشگوار گزرا، انصار جمع ہو کر کہنے لگے کہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جسے فرضی طور پر پیش کر رہے تھے وہ تو ہماری حقیقی آزمائش بن گیا ہے۔اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کو کوڑے بھی ماریں گے اور مسلمانوں میں اس کی گواہی کو ناقابل قبول قرار دیں گے۔جبکہ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے پختہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میرے لیے نجات کا رستہ نکالے گا۔ ہلال نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہا ہوں جو کچھ میں نے آپ کے سامنے واقعہ دلخراش پیش کیا ہے یہ آپ کے مزاج پر گراں گزرا ہے، مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں میں نے سچ کہا ہے۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں حد قذف کے اسی کوڑے لگانے کا حکم دینے ہی والے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزول وحی کا آغازہونے لگا۔ جب وحی کے نزول کا آغاز ہوتا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت کی تبدیلی سے پہچان جاتے تھے۔ آپ پر وحی کے نازل ہونے تک کے وقفہ میں لوگ آپ سے ہٹ کر رہتے تھے تو یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں: {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ وَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شُہَدَائُ إِلَّا أَنْفُسُہُمْ فَشَہَادَۃُ أَحَدِہِمْ} … جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے اپنے سوا کوئی گواہ ان کے پاس موجود نہیں تو ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے نام کی چار گواہیاں ادا کرے، …۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ وحی کی کیفیت دور ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ہلال، آپ کے لیے پیغام مسرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے کشادگی اور بچاؤ کی تدبیر پیدا کر دی ہے۔ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے اپنے رب سے مکمل امید تھی کہ وہ ضرور کوئی نجات کی صورت پیدا فرمائیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کی طرف پیغام بھیجو، اس کی طرف پیغام پہنچایا گیا، پس وہ آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے سامنے ان آیات کی تلاوت فرمائی اور ان کے سامنے ذکر کیا کہ آخرت کا عذاب، دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے، سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! میں نے اس کے بارے میں سچ بات کہی ہے۔ عورت کہنے لگی: اس نے جھوٹ بولا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میاں بیوی کے مابین لعان کرو، سیدنا ہلال سے کہا گیا کہ گواہی دو، اس نے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کے نام کی گواہیاں دیں کہ میں سچا ہوں، جب پانچویں مرتبہ گواہی دینے ہی والا تھا تو ہلال سے کہا گیا اللہ سے ڈرو! دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کی بہ نسبت ہلکا ہے اور یہ پانچویں مرتبہ والی گواہی تجھ پر عذاب واجب کرنے کا باعث ہو گی۔ سیدنا ہلال کہنے لگا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے جس طرح مجھے کوڑے نہیں لگنے دیئے، وہ مجھے عذاب اور سزا سے بھی محفوظ فرمائے گا، سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے پانچویں مرتبہ کہا: اگر میں جھوٹ بولنے والا ہوں گا تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔پھر اس عورت سے کہا گیا تو بھی اللہ تعالیٰ کی شہادت کی چار گواہیاں ادا کرنے کے بعد کہے کہ یہ ہلال جھوٹ بول رہا ہے، جب یہ عورت پانچویں مرتبہ گواہی دینے لگی تو اس سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کی بہ نسبت آسان تر ہے اور اب کی مرتبہ تیری گواہی جھوٹی ہونے کی صورت میں سزا واجب کر دے گی، وہ لمحہ بھر رکی پھر یہ کہتی ہوئی کہ اللہ کی قسم! میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی آگے بڑھی اور پانچویں گواہی دی کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر وہ سچ بولتا ہے۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی اور فیصلہ فرمایا کہ اسی لعان کے بعد والے بچے کو باپ کے نام سے نہ پکارا جائے اور اس کے بعد نہ تو اس عورت پر تہمت و طعنہ زنی کی جائے اور نہ ہی اس کے بچے پر تہمت و طعنہ زنی کی جائے، جو اس عورت یا اس کے بچے پر طعنہ زنی کرے گا، اسے تہمت کی حد لگائی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے لیے اس کے خاوند کے ذمہ نہ تو رہائش ہے اور نہ ہی خوراک ہے، کیونکہ یہ بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور بغیر فوتدگی کے علیحدہ ہوئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ عورت اس حلیہ کا بچہ جنم دے جو کہ سرخ و سفید رنگ کا ہو، پنڈلیاں اور سرین پر گوشت نہ ہو اور باریک پنڈلیوں والا ہو تو وہ ہلال بن امیہ کا ہو گا،اور اگر گندمی رنگ کا، گھنگھریالے بالوں والا ہو پر جوڑ اور مضبوط اعضاء اور موٹی پنڈلیوں اور موٹی سرین والا ہو تو یہ بچہ اس کا ہو گا جس کے ساتھ اس عورت پر تہمت لگائی گئی ہے۔ جب اس عورت نے بچہ جنم دیا تو وہ گندم گوں، گھنگھریالے بالوں والا اور مضبوط جوڑ اور اعضاء والا تھا، پنڈلیاں اور سرین پرگوشت تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ لعان کی قسموں والا معاملہ درمیان میں حائل نہ ہوتا تو میرے اور اس عورت کے درمیان کوئی اورصورت ہوتی۔ عکرمہ کہتے ہیں: وہی بچہ بعد میں مصر پر امیر مقرر ہوا تھا، اسے ماں کے نام سے پکارا جاتا تھا، باپ کے نام سے نہیں پکارا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7197]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2256، وأخرجه بنحوه مختصرا البخاري: 4747، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2131 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2131»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے درج ذیل الفاظ سے ثابت ہوا کہ لعان سے میاں بیوی میں ازخود جدائی ہو جاتی ہے، طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی: اس عورت کے لیے اس کے خاوند کے ذمہ نہ تو رہائش ہے اور نہ ہی خوراک ہے، کیونکہ یہ بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور بغیر فوتدگی کے علیحدہ ہوئے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 7198
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَقُمْتُ مِنْ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَرَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ فَإِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ أَتَاهُ فَقَالَ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ حَتَّى بَلَغَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ [النور: 6-9] فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُكَ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ قَالَ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا
۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں سوال ہوا کہ ان میں تفریق ڈال دی جائے گی یا کہ نہیں، یہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور امارت کی بات ہے، مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں، پس میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکے گھر کی جانب روانہ ہوا، میں نے ان سے مل کر عرض کی: اے ابو عبد الرحمن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروا دی جائے گی؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! تعجب ہے یہ بات سب سے پہلے فلاں کے بیٹے فلاں نے پوچھی تھی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بتائیں ایک آدمی اپنی بیوی کو بے حیائی پر دیکھتا ہے، اگر بات کرے تو بات بہت ہی بڑی اور ناگوار ہے، اگر خاموش رہے تو بھی معاملہ بڑا سنگین ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، جب کچھ دیر گزری تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: جو سوال میں نے بطور فرض پوچھا تھا، وہ میرے اوپر ہی پرت گیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائیں: {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ … … أَنَّ غَضَبَ اللّٰہِ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنْ الصَّادِقِینَ۔} … جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں … اگر یہ سچا ہے تو اس عورت پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کا آغاز مرد سے کیا اور اسے وعظ و نصیحت اور یاد دہانی کی اور اسے خبر دی کہ دنیا کی سزا، آخرت کی سزا کی بہ نسبت بہت ہلکی ہے، اس آدمی نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں نے آپ سے جھوٹ نہیں کہا، اس کے بعد عورت سے وعظ و نصیحت اور یاد دہانی فرمائی اور اسے خبردار کیا کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزا کی بہ نسبت ہلکی ہے۔ اس عورت نے بھی کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دیا ہے، یہ جھوٹا ہے، آدمی سے آغاز کیا، اس نے چار گواہیاں دیں کہ میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ کہا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو مجھ پر اگر میں جھوٹ بولوں تو، پھر اس کے بعد عورت نے دوسرے نمبر پر اللہ تعالیٰ کے نام کی چار گواہیاں دیں کہ وہ جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں مرتبہ کہا کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر یہ سچا ہے،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7198]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4693»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1493
3. بَابُ قِصَّةِ عُوَيْمَرَ الْعَجَلَانِي مَعَ زَوْجَتِهِ فِي اللعان
عویمر عجلان اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کے واقعہ کی وضاحت
حدیث نمبر: 7199
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ سَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مِمَّا يَسْمَعُ قَالَ إِسْحَاقُ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْصُرُوا هَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم! مجھے بتاؤ کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو زنا کرتے پاتا ہے، کیا وہ اسے قتل کرے؟ اگر قتل کرتا ہے تو تم اسے قتل کرو گے، وہ کیاکرے، اس بارے میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ کر بتاؤ، عاصم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے مسائل پوچھنے کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا، حتیٰ کہ عاصم نے اس بارے میں جو جواب سنا وہ ان پر گراں گزرا (یہ اسحاق راوی کے الفاظ ہیں)۔جب عاصم اپنے گھر لوٹا اور اس کے پاس عویمر آیا اور کہا: عاصم! بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ عاصم نے عویمر سے کہا: تونے مجھ تک کوئی بھلائی نہیں پہنچائی، جس مسئلہ کے متعلق تو نے دریافت کیا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے۔ عویمر کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو آپ سے اس کے متعلق پوچھے بغیر باز نہ آؤں گا، پھر عویمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب متوجہ ہوئے حتیٰ کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور لوگوں کے درمیان میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ بتائیں کہ ایک آدمی کسی کواپنی بیوی کے پاس پاتاہے، کیاوہ اسے قتل کر دے، اگر قتل کر دے توآپ اسے قتل کر و گے یا وہ کیا کرے؟ تو اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم اتاراہے، اسے میرے پاس لاؤ۔ سہل کہتے ہیں: وہ آئی اور دونوں میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا، میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو لعان کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے، جب دونوں فارغ ہو گئے تو عویمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب اگر میں اسے رکھوں تو پھر تو میں نے اس پر جھوٹ بولا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس نے بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ لعان کرنے والوں کے لیے طریقہ بن چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس نے سیاہ رنگ کا، سیاہ آنکھوں والا اور بڑی سرین والا بچہ جنم دیا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے سچ کہا ہے اور اگر یہ سرخ رنگت والا، جیساکہ چھوٹے جسم کا جانور ہوتا ہے، بچہ جنا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے جھوٹ بولا ہے۔ جب اس نے بچہ جنم دیا تو وہ ناپسندیدہ صورت والا یعنی پہلی صفت والا تھا، جو تہمت زدہ آدمی کی شکل تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7199]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 423، 4745، 4746، 5309، 7166، 7304، ومسلم: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23218، 23239»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 423
حدیث نمبر: 7200
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فَقَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيِ الْعَجَلَانِ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ثَلَاثًا
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کوئی شخص اپنی بیوی سے لعان کرلے تو کیا دونوں میں علیحدگی ہوجائے گی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ عجلان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے مابین علیحدگی کروا دی تھی اورساتھ ہی تین مرتبہ ان سے یہ بھی دریافت فرمایا تھا: تم میں سے ایک توجھوٹا ہے، توکیا تم دونوں میں کوئی ایک توبہ کرے گا؟ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7200]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5312، ومسلم: 1493، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4945»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5312
حدیث نمبر: 7201
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا لَاعَنَ عُوَيْمِرٌ أَخُو بَنِي الْعَجَلَانِ امْرَأَتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا هِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ وَهِيَ الطَّلَاقُ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب عویمر عجلانی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر ظلم کرتا ہوں، لہٰذا اسے طلاق ہے، اسے طلاق ہے،اسے طلاق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7201]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 5689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23219»
وضاحت: فوائد: … لعان کی وجہ سے میاں بیوی میں خود بخود جدائی ہو جاتی ہے، طلاق کی ضرورت نہیں ہوتی، دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۹۷) اور (۷۲۰۹)۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
4. بَابُ اللعان عَلَى الْحَمَل وَمَنْ قَذَفَ امْرَأَتُهُ بِرَجُلٍ سَمَّاه
حمل کی وجہ سے لعان کرنے کا مسئلہ اور اس شخص کا بیان¤جو مرد کا نام لے کر اپنی بیوی پر تہمت لگاتا ہے
حدیث نمبر: 7202
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بِالْحَمْلِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حمل مشکوک ہونے کے باعث لعان کروایا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7202]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3339»
وضاحت: فوائد: … یہ ہلال بن امیہ کے واقعہ کی جانب اشارہ ہے، جب ان کی بیوی نے لعان کیا وہ حاملہ تھیں تو حمل کے ذریعہ لعان کا مطلب ہے کہ اگر خاوند کو بیوی کے پیٹ میں موجود حمل مشکوک نظر آئے تو بھی لعان ہو سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7203
عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ قَالَ وَكَانَتْ حُبْلَى فَقَالَ وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا وَالْعَفْرُ أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنَ السَّقْيِ بَعْدَ الْإِبَارِ بِشَهْرَيْنِ قَالَ وَكَانَ زَوْجُهَا حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ أَصْهَبَ الشَّعَرَةِ وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ أَجْلَى جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا قَالَ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ قَدْ أَعْلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عجلان قبیلہ کے عویمر اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس کی بیوی حاملہ تھی، عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے میں نے پہلی بار کھجوروں کو سیراب کیا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک اس کے قریب نہیں گیا (تو پھر یہ حاملہ کیسے ہو گئی) اور میں نے کھجوروں کو پیوندکاری کے دو ماہ بعد پانی پلایا ہے۔ یہ عویمر جو اس عورت کا خاوند تھا باریک پنڈلیوں اورباریک بازؤں والا تھا، اس کے بالوں میں سرخی پن نمایاں تھا اور اس عورت کو جس آدمی کے ساتھ تہمت لگائی گئی وہ شریک بن سحماء تھا، اس عورت نے سیاہ رنگت والا، گھنگھریالے بالوں والا، موٹے بازؤں والا، اور مضبوط پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔ ابن شداد بن ہا دنے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے کہا: کیا یہ وہی عورت تھی، جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر میں نے کسی کو بغیر گواہوں کے رجم کرنا ہوتا تو میں اس عورت کورجم کرتا۔؟ انہوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں تھی، یہ کوئی اور عورت تھی،یہ اسلام میں ہونے کے باوجود بے حیائی کا اظہار کرتی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللعان/حدیث: 7203]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا وبنحوه البخاري: 5310، 5316، 6855، 6856، 7238، ومسلم: 1497، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3106»
الحكم على الحديث:
أخرجه مطولا ومختصرا وبنحوه البخاري: 5310