الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ إِنَّ عِدَّةَ الْحَامِلِ بِوَضْعِ الْحَمَلِ سَوَاءٌ كَانَتْ مُطَلَّقَةٌ أَوْ مُتَوَفَّى عَنْهَا لِقَوْلِ اللهِ: «وَالاتُ الاحمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمَلَهُنَّ»
حاملہ خاتون کی عدت وضع حمل ہے، خواہ وہ طلاق یافتہ ہو یا بیوہ، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور حاملہ خواتین کی عدت کی مدت یہ ہے کہ وہ حمل وضع کر دیں
حدیث نمبر: 7232
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَلٰى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذٰلِكَ فَقَالَتْ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالْآخَرُ كَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلٰى الشَّابِّ فَقَالَ الْكَهْلُ لَمْ تَحِلَّ وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا وَرَجَا إِذَا جَائَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ فَجَائَتْ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ۔
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس عورت کی عدت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو اوروہ حاملہ ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا: دو عدتوں میں سے دور والی عدت ہو گی، جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب وہ بچے کوجنم دے گی تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: جب سیدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے نصف ماہ بعد بچے کو جنم دیا تو اسے دو آدمیوں نے پیغام نکاح بھیجا، ان میں سے ایک نوجوان تھا اور دوسرا ذرا ادھیڑ عمر تھا، اس خاتون کا میلان یہ تھا کہ وہ نوجوان سے نکاح کرے، یہ صورت حال دیکھ کر ادھیڑعمر کہنے لگا کہ یہ تو ابھی عدت سے ہی باہر نہیں ہوئی، دراصل اس عورت کے گھروالے وہاں موجود نہ تھے اور اس بوڑھے کو امید تھی کہ جب اس کے گھروالے آ جائیں گے تو وہ اس ادھیڑ عمر کو ترجیح دیں گے، اس کی بات سن کر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور فتویٰ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری عدت ختم ہو چکی ہے،تو جس سے چاہتی ہے، نکاح کر سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7232]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 6/ 191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27251»
وضاحت: فوائد: … دو عدتوں میں سے دور کی عدت کا مطلب یہ ہے کہ بیوہ حاملہ کی عدت دو قسم کی ہے: وضع حمل اور چار ماہ دس دن، اب اگر چار ماہ دس دن سے پہلے بچہ جنم دے تو وہ چار ماہ دس دن مکمل کرے اور اگر چار ماہ دس دن کے بعد تک حمل جائے تو پھر عدت وضع حمل ہی ہو گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 7233
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِهَا بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ: كَأَنَّكِ تُحَدِّثِينَ نَفْسَكِ بِالْبَائَةِ مَا لَكِ ذٰلِكَ حَتّٰى يَنْقَضِيَ أَبْعَدُ الْأَجَلَيْنِ، فَانْطَلَقَتْ إِلٰى رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ إِذَا أَتَاكِ أَحَدٌ تَرْضَيْنَهُ فَأْتِينِي بِهِ أَوْ قَالَ فَأَنْبِئِينِي۔) ) فَأَخْبَرَهَا أَنَّ عِدَّتَهَا قَدِ انْقَضَتْ۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے پندرہ دن بعد بچے کوجنم دیا، ان کے پاس سیدنا ابو سنابل آئے اور کہا: معلوم ہوتا ہے تمہارے دل میں نکاح کرنے کا خیال گردش کر رہا ہے، تمہیں اس کی اجازت نہیں ہو گی حتیٰ کہ دو عدتوں میں سے دور والی عدت نہ گزار لو، یہ سن کر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور ابوسنابل کی بات کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبتایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو سنابل غلط کہہ رہا ہے، تمہاری عدت پوری ہو چکی ہے، جب تمہارے لیے مناسب یا تمہاری پسند کا رشتہ آئے تو میرے پاس آنا اور مجھے اس کی اطلاع دینا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو خبر دی کہ اس کی عدت پوری ہو چکی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7233]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن جعفر سمع من سعيد بن ابي عروبة بعد اختلاطه، وقد اعله احمد بالارسال، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4273»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7234
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ بْنِ بَعْكَكٍ قَالَ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بَعْدَ وَفَاۃِ زَوْجِهَا بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّفَتْ لِلنِّكَاحِ فَاُنْكِرَ ذٰلِكَ عَلَيْهَا وَذُكِرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ حَلَّ أَجَلُهَا قَالَ عَفَّانُ فَقَدْ خَلٰى أَجَلُهَا۔) )
۔ سیدنا ابو سنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ سبیعہ بنت حارث نے اپنے شوہر کی وفات سے تئیس یا پچیس دن بعد بچے کو جنم دیا، جب مدت نفاس گزر چکی تو اس نے نئی شادی میں رغبت کا اظہار کیا، لیکن اس پر اعتراض کیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اس چیز کا تذکرہ کیا گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ عورت ایسا کرنا چاہے تو وہ کر سکتی ہے کیونکہ اس کی عدت وضع حمل کی وجہ سے پوری ہو چکی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7234]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، لايعرف للاسود سماع من ابي السنابل، أخرجه الترمذي: 1193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18921»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 7235
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰى سُبَيْعَةَ بِنْتِ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ فَسَأَلْتُهَا عَنْ أَمْرِهَا فَقَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ فَتُوُفِّيَ عَنِّي فَلَمْ أَمْكُثْ إِلَّا شَهْرَيْنِ حَتّٰى وَضَعْتُ قَالَتْ فَخَطَبَنِي أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ أَخُو بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَتَهَيَّأْتُ لِلنِّكَاحِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ حَمَوَايَّ وَقَدْ اخْتَضَبْتُ وَتَهَيَّأْتُ فَقَالَ: مَاذَا تُرِيدِينَ؟ يَا سُبَيْعَةُ! قَالَتْ فَقُلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ، قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا لَكِ مِنْ زَوْجٍ حَتّٰى تَعْتَدِّيْنَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَجِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لَهُ فَقَالَ صلى الله عليه وآله وسلم: ( (قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي۔) )
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ سبیعہ بنت ابی برزہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے ان کے معاملہ کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: میں سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی، وہ فوت ہو گئے اوران کی وفات کے صرف دو ماہ بعد میں نے بچہ جنم دیا، اُدھر بنو عبددار والے ابو سنابل بن بعکک نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نکاح کرنے کے لیے تیار تھی کہ میرا دیور میرے پاس آیا، میں نے مہندی بھی لگا لی اور مکمل تیاری کر لی، اس نے کہا: اے سبیعہ کیا کرنا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: میں شادی کرنا چاہتی ہوں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! تو ابھی شادی نہیں کر سکتی، جب تک کہ چار ماہ دس دن عدت نہ گزار لے، سبیعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو حلال ہو چکی ہے اور شادی کر سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7235]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 746، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27438 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27984»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7236
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَوْ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا؟ قَالَ: ( (هِيَ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا وَلِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا) )
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: قرآن مجید کی آیت {وَاُلاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ} میں مذکور عدت ان عورتوں کی ہے جن کو تین طلاقیں دی جا چکی ہوں یا یہ بیوہ عورت کی عد ت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: دونوں کے لئے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7236]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل المثني بن الصباح، فھو ضعيف، أخرجه الدارقطني: 4/ 39، والدارقطني: 3/ 302، وعبد الرزاق: 11717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21425»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے، ان کو طلاق ہوئی ہو یا ان کا خاوند فوت ہوا ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل المثني بن الصباح
2. بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا إِذَا كَانَتْ غَيْرُ حَامِل أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ رْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
جب غیر حاملہ خاتون کا خاوند فوت ہو گا تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی، کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا: اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں تو وہ چار ماہ دس دن انتظار کیا کرے۔
حدیث نمبر: 7237
عَنْ قَبِیصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لَا تَلْبَسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا صلى الله عليه وآله وسلم عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ۔
۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو ہم پر خلط ملط نہ کرو، جب ام ولد کا خاوند فوت ہو جائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7237]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، قبيصة لم يسمع من عمرو، أخرجه ابوداود: 2308، وابن ماجه: 2083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17956»
وضاحت: فوائد: … جس لونڈی سے اس کے آزاد مالک کا بچہ ہو جائے، اس کو ام ولد کہتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِحْدَادِ مُعْتَدَّةِ الْوَفَاةِ وَ مَا تَجْتَنِبُهُ
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
حدیث نمبر: 7238
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا إِنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم وَذَكَرُوا الْكُحْلَ، قَالُوا: نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، قَالَ صلى الله عليه وآله وسلم: ( (قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ بِهَا كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوا اور اس کی آنکھ خراب ہو گئی، اس کے گھر والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا اور سرمہ ڈالنے کی اجازت چاہی، انہوں نے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی آنکھوں کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک عورت اپنے گھر میں بدترین لباس میں بدترین مقام پر ایک سال تک ٹھہرا کرتی تھی اور جب اس کے پاس سے کتا گزرتا تھا تو لید پھینکا کرتی تھی، کیا اب وہ چار ماہ دس دن بھی صبر نہیں کر سکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5338، ومسلم: 1488، وابوداود: 2299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27034»
وضاحت: فوائد: … جاہلیت میں سوگ والی عورت ایک علیحدہ چھوٹا سا کمرہ تیار کر لیتی اور سب سے نکمے کپڑے پہن لیتی تھی اورخوشبو کو ہاتھ نہ لگاتی تھی، ایک سال تک اسی حالت میں عدت گزارتی تھی اور جب فارغ ہوتی تو سال کے آخر میں شرم گاہ پر لید لگا کر باہر پھینکتی کہ آج میں عدت سے فارغ ہو گئی ہوں، اللہ تعالیٰ نے سال کی عدت ختم کرکے چار ماہ دس دن کر دی ہے اور اس میں بھی جاہلیت کی کئی پابندیاں اٹھا دیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5338
حدیث نمبر: 7239
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ: ( (الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ۔) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند فوت ہوجائے حکم دیا کہ وہ کسنبے سے رنگا ہوا زرد کپڑا اور مشق (گیرو) سے رنگا ہوا کپڑا اور زیورات نہ پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ سرمہ ڈالے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7239]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2304، والنسائي: 6/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27116»
وضاحت: فوائد: … سرخ مٹی کو گیرو کہتے ہیں، جس سے کپڑا رنگا جاتا تھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7240
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا عَصْبًا وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا قَالَ يَزِيدُ أَوْ فِي طُهْرِهَا فَإِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ۔) )
۔ سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ نہ منائے، ما سوائے خاوند کے کہ اس کی وفات پر بیوی چار ماہ دس دن سوگ منائے گی، اس دوران وہ رنگا ہوا لباس نہیں پہنے گی، البتہ رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، وہ نہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو استعمال کرے، البتہ حیض سے طہارت کے وقت عود ہندی یامشک استعمال کر سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7240]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5341، ومسلم: 938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27847»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی کی روایت میں وَلَاتَمْشِطُ کے الفاظ بھی ہے، یعنی ایسی عورت کنگھی بھی نہ کرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5341
حدیث نمبر: 7241
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِشَيْءٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ حَجَّاجٌ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ عَنْ أُمِّهَا وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ایک نہایت قریبی رشتہ دار فوت ہو، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اسے اپنے بازؤں پر ملا اور کہا: میں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان عورت اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دنوں یا تین راتوں سے اوپر سوگ منائے، ما سوائے اس خاتون کے، جس کا شوہر فوت ہو جائے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ یہ روایت زینب نے اپنی ماں سیدہ ام سلمہ سے اور انہوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے یا امہات المومنین میں سے کسی ام المومنین سے بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7241]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5339، ومسلم: 1486، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27302»
وضاحت: فوائد: … ان روایات میں خواتین کے لیے سوگ کے احکام و آداب بیان کیے گئے ہیں، یاد رہے کہ مرد کا ان احکام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسی خاتون کو شوخ، بھڑکیلے اور پھول دار لباس سے بچنا چاہیے، سادہ کپڑے پہننے چاہئیں، جن میں عموما زیب و زینت کا اظہار نہیںہوتا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5339