🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ نَفَقَةِ الْمُطَلَّقَةِ الْبَائِنِ وَسُكْنَاهَا وَخُرُوجِهَا لِلْحَاجَةِ
مطلقہ بائنہ (جس سے رجوع نہیں ہو سکتا) کے نان و نفقہ اور اس کی رہائش کا بیان اور ضرورت کے لیے اس کا باہر نکلنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7252
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ کو طلاق ہو گئی، وہ ابھی تک عدت میں تھیں، لیکن انہوں نے چاہا کہ وہ کھجوروں کا پھل اتار لائیں، ایک آدمی نے ان کو ایسا کرنے سے منع کر دیااور کہا کہ وہ باہر نہ جائیں، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل اتار سکتی ہو، ممکن ہے کہ تم اس سے صدقہ کرو یا نیکی کا کوئی کام سر انجام دو۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7252]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14498»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کا کام کرنے والا اور کوئی نہ ہو تو وہ دوران عدت باہر جا سکتی ہے، خصوصاً جب نیکی کے کام یا صدقہ و خیرات کرنا ہو تو پھر تو بہت بہتر ہے، بشرطیکہ مجبوری ہو، حتی الامکان باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1483
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ النَّفَقَةِ وَالسُّكْنَى لِلْمُعْتَدَّةِ الرَّجْعِيَّةِ وَالْمَبْتُونَةِ الْحَامِل
رجعی طلاق والی اور قطعی طلاق والی حاملہ کے خرچہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7253
عَنْ عَامِرٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ لِي أَخُوهُ اخْرُجِي مِنَ الدَّارِ فَقُلْتُ إِنَّ لِي نَفَقَةً وَسُكْنَى حَتَّى يَحِلَّ الْأَجَلُ قَالَ لَا قَالَتْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ فُلَانًا طَلَّقَنِي وَإِنَّ أَخَاهُ أَخْرَجَنِي وَمَنَعَنِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا لَكَ وَلِابْنَةِ آلِ قَيْسٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي طَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَمِيعًا قَالَتْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْظُرِي أَيْ بِنْتَ آلِ قَيْسٍ إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسُّكْنَى لِلْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا مَا كَانَتْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ فَلَا نَفَقَةَ وَلَا سُكْنَى اخْرُجِي فَانْزِلِي عَلَى فُلَانَةَ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ يُتَحَدَّثُ إِلَيْهَا انْزِلِي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى لَا يَرَاكِ ثُمَّ قَالَ لَا تَنْكِحِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُنْكِحُكِ قَالَتْ فَخَطَبَنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ فَقَالَ أَلَا تَنْكِحِينَ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَنْكِحْنِي مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَتْ فَأَنْكَحَنِي مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا هَذَا تَقَدَّمَ فِي الْبَابِ السَّابِقِ فِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْذَنْ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِالنَّفَقَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا
۔ عامر شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مدینہ منورہ میں آیا اورسیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے میرے خاوند نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں طلاق دے دی، میرے شوہر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فوجی دستے میں بھیج دیا، بعد میں میرے شوہر کے بھائی نے کہا: تو اب ہمارے گھر سے چلی جا۔ میں نے کہا: نہیں، عدت ختم ہونے تک تمہارے ذمہ میرے لیے خرچہ اور رہائش ہے۔ اس نے کہا: نہیں، ہمارے ذمہ اب کچھ نہیں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور میں نے اپنے شوہر کا نام لے کر کہا کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور اس کے بھائی نے مجھے باہر نکال دیا ہے اور نان و نفقہ اور رہائش سے روک دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ یہ بنت آل قیس یعنی فاطمہ کو کیوں نہیں رہنے دیتے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھائی نے اسے پوری تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے بنت آل قیس! اب دیکھ لو، خرچہ اور رہائش اس شوہر کے ذمہ اس عورت کے لیے ہے، جس کے لیے اسے رجوع کا حق ہو اورجب عورت پر اسے رجوع کا حق نہ ہو گا، تو پھر اس شوہر پر اس عورت کے لیے نہ تو خرچہ ہے اور نہ ہی رہائش ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ اب تم اس گھر سے نکل جاؤ اور فلاں عورت یعنی ام شریک کے گھر منتقل ہو جاؤ۔ لیکن پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس لوگ بیٹھتے اورباتیں کرتے ہیں، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھرمنتقل ہو جاؤ،وہ نابینا آدمی ہے، تمہیں دیکھ نہ سکے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نکاح نہ کرنا، میں خود تمہارا رفیق سفر منتخب کروں گا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے قریش کے ایک آدمی نے منگنی کا پیغام بھیجا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس کے بارے میں مشورہ کے لیے حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے نکاح کیوں نہیں کر لیتی، جو مجھے اس قریش سے بھی زیادہ پیارا ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ جس سے محبت رکھتے ہیں، میرا اسی سے نکاح کر دیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نکاح سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کر دیا۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے اسامہ سے نکاح کیا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بہت زیادہ بھلائیاں پیدا کر دیں۔عبید اللہ بن عبد اللہ والی حدیث میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے لیے خرچہ کی اجازت نہ دی تھی فرمایا تھا کہ اگر حاملہ ہوتی توپھر اس کے لیے خرچہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7253]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه دون قوله: انظري يا بنت آل قيس، انما النفقة والسكني للمرأة علي زوجھا ما كانت عليھا رجعة۔ ففيه وقفة، أخرجه مسلم: 14880 دون ھذه الزيادة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27100 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27640»
وضاحت: فوائد: … طلاق بائنہ والی عورت کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار خاوند نہیں ہے، الا یہ کہ اگر وہ حاملہ ہو تو خاوند کو اس کے نان و نفقہ اور رہائش کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، اللہ تعالی کے درج ذیل فرمان کا بھی یہی تقاضا ہے:

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه دون قوله: انظري يا بنت آل قيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بابُ إِسْتَبْرَاءِ الْامَةِ إِذَا مَلَكَتْ
لونڈی کے رحم کی برأت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7254
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي سَبْيِ أَوْطَاسٍ لَا يَقَعُ عَلَى حَامِلٍ حَتَّى تَضَعَ وَغَيْرِ حَامِلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ اوطاس میں گرفتارہونے والی لونڈیوں کے بارے میں حکم فرمایا: حاملہ سے جماع نہ کرنا، جب تک وضع حمل نہ ہو جائے اور جو حاملہ نہیں ہے، اس سے بھی اس وقت تک جماع نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایک حیض نہ گزار لے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7254]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11246»
وضاحت: فوائد: … اوطاس ظائف کے قریب ایک جگہ ہے، یہاں جنگ ہوئی تھی، وہاں سے لونڈیاں مال غنیمت میں حاصل ہوئیں،ان کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا تھا، تاکہ ان کے رحم کی برأت واضح ہو جائے اور پھر ان سے ملا جائے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7255
فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ يُبْغِضْهُ أَحَدٌ قَطُّ قَالَ وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا قَالَ فَبُعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى خَيْلٍ فَصَحِبْتُهُ مَا أَصْحَبُهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا قَالَ فَأَصَبْنَا سَبْيًا قَالَ فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ قَالَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا عَلِيًّا وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ مِنَ السَّبْيِ فَخَمَّسَ وَقَسَمَ فَخَرَجَ رَأْسُهُ مُغَطًّى فَقُلْنَا يَا أَبَا الْحَسَنِ مَا هَذَا قَالَ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ فَإِنِّي قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ فَصَارَتْ فِي الْخُمُسِ ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ وَوَقَعْتُ بِهَا قَالَ فَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْعَثْنِي فَبَعَثَنِي مُصَدِّقًا قَالَ فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ وَأَقُولُ صَدَقَ قَالَ فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ وَقَالَ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُبْغِضْهُ وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ قَالَ فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ أَبِي بُرَيْدَةَ
۔ عبد اللہ بن بریدہ بیان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے باپ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سخت بغض تھا، اتنا کسی بھی دوسرے سے نہ تھا حتیٰ کہ مجھے قریش کے ایک آدمی سے بہت زیادہ محبت صرف اس لیے تھی کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا، اس آدمی کو امیر لشکر بنا کر بھیجا گیا،میں صرف اس لیے اس کا ہمرکاب ہوا کہ اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض تھا، ہم نے لونڈیاں حاصل کیں، امیر لشکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس وہ آدمی بھیج دیں، جو مال غنیمت کے پانچ حصے کرے اور اسے تقسیم کرے، آپ نے ہمارے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، انہوں نے مال تقسیم کیا، قیدی عورتوں میں ایک ایسی لونڈی تھی، جو کہ سب قیدیوں میں سے بہتر تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت کے پانچ حصے کئے اور پھر اسے تقسیم کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب باہر آئے تھے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور سر ڈھانپا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: اے ابو حسن! یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ قیدیوں میں یہ لونڈی میرے حصہ میں آئی ہے، میں نے مال غنیمت کے پانچ حصے کرکے تقسیم کر دیا ہے، یہ پانچویں حصہ میں آئی ہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہے اور پھر اہل بیت میں سے ایک حصہ آل علی کا ہے اور یہ لونڈی اس میں سے میرے حصہ میں آئی ہے اور میں نے اس سے جماع کیا ہے، اس آدمی نے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب خط لکھا، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: یہ خط مجھے دے کر بھیجو، اس نے مجھے ہی بھیج دیا تاکہ اس خط کی تصدیق و تائید کروں، سیدنا بریدہ کہتے ہیں: میں نے وہ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑھنا شروع کر دیا اور میں نے کہا: اس میں جو بھی درج ہے وہ صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے خط پکڑ لیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی سے بغض نہ رکھو اور اگر تم اس سے محبت رکھتے ہو تو اس میں اور اضافہ کرو،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے؟ خمس میں آل علی رضی اللہ عنہ کا حصہ تو اس افضل لونڈی سے بھی زیادہ بہتر بنتا ہے۔ سیدنا بریدہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بعد لوگوں میں سے ان سے بڑھ کر مجھے کوئی اور محبوب نہ تھا۔عبد اللہ بن بریدہ کہتے ہیں: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! اس حدیث کے بیان کرنے میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان صرف میرے باپ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کا واسطہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العدد/حدیث: 7255]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3051م،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23355»
وضاحت: فوائد: … استبرائے رحم کے لیے حاملہ لونڈی کا وضع حمل تک اور غیر حاملہ لونڈی کا ایک حیض تک انتظار کیا جائے گا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جس لونڈی سے جماع کیا تھا، ممکن ہے کہ ان کے پہنچنے تک اس کو حیض آ چکا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کنواری یا چھوٹی ہو۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں