الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ ثَوَابِ مَنْ أَنْفَقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ وَوَعِيدِ مَنْ أَفْسَدَتْ
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب¤اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 7266
عَنْ أُمِّهِ عَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ قَالَتْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيهُ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ قَالَتْ فَبَايَعْنَاهُ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ ارْجِعِي فَاسْأَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا قَالَتْ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ تَأْخُذُ مَالَهُ فَتُحَابِي بِهِ غَيْرَهُ
۔ سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خالہ تھیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، یہ بنو عدی بن نجار کی ایک خاتون تھیں، ان سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور انصار کی عورتوں میں شامل ہو کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر یہ شرطیں عائد کیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں، نہ چوری کریں،نہ بدکاری کریں،نہ اپنی اولاد کو قتل کریں، نہ ہم بہتان باندھیں گی اور نہ ہی نیکی کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے یہ بھی فرمایا تھا کہ تم نے اپنے خاوندوں سے دغا نہیں کرنا۔ پس ہم نے ان امور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، جب ہم واپس ہوئیں تومیں نے ان میں سے ایک عورت سے کہا: تم لوٹ جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرو کہ خاوندوں کیساتھ دغا نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ جب وہ پوچھ کر آئی تو اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دغا یہ ہے کہ خاوند کامال لے کر عطیات دوسروں کو دیتی پھرو۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7266]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سلِيط بن ايوب بن الحكم، قال بن حجر: مقبول، وأمه لم نقف لھا علي ترجمة، ثم انه قد اختلف فيه علي ابن اسحاق، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27674»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں مذکورہ امور بیعت میں شامل تھے، بیوی کو خاوند کے مال سے
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
4. بَابُ إِثْبَاتِ الْفُرْقَةِ لِلْمَرْأَةِ إِذَا تَعَذَرَتِ التَّفْقَةُ عَلَى زَوْجِهَا بِاعْسَارِ وَنَحْوِهِ
اگر خاوند کے لیے نان و نفقہ مشکل ہو تو بیوی جدائی کا مطالبہ کر سکتی ہے
حدیث نمبر: 7267
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ مِنْهَا عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ فَقِيلَ مَنْ أَعُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرَأَتُكَ مِمَّنْ تَعُولُ تَقُولُ أَطْعِمْنِي وَإِلَّا فَارِقْنِي وَفِي لَفْظٍ أَوْ طَلِّقْنِي وَجَارِيَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي وَوَلَدُكَ يَقُولُ إِلَى مَنْ تَتْرُكْنِي
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے، کہ خرچ کرنے کے بعد پھر بھی مالداری رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اس سے شروع کرو جس کی تم کفالت کے ذمہ دار ہو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس کی کفالت کا ذمہ دار ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری بیوی اس میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلاؤ، وگرنہ مجھے طلاق دے دو، تمہاری لونڈی ان میں شامل ہے، وہ کہتی ہے: مجھے کھلاؤ اور کام مہیا کرو، اور تمہاری اولاد بھی اس میں شامل ہے، جو کہتی ہے: مجھے کس کے حوالے کرو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7267]
تخریج الحدیث: «القسم الاول منه صحيح، وأما القسم الثاني منه وھو قوله: امرأتك فالصحيح انه موقوف علي ابي ھريرة، أخرجه النسائي في الكبري: 9211، والدارقطني: 3/ 295، والبيھقي: 7/ 470، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10830»
الحكم على الحديث:
القسم الاول منه صحيح
5. بَابُ النَّفْقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَمَنْ يُقَدَّمُ مِنْهُم؟ وَعَلَى مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ
اعزہ و اقارب پر خرچ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے کس کو مقدم کیا جائے¤اور لونڈی اور غلام پر خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7268
عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ
۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے حسن سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ ٓپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ اور پھر جو جتنا زیادہ قریبی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7268]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 5139، والترمذي: 1897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20281»
وضاحت: فوائد: … شریعت میں ماں اور باپ دونوں کا مقام مسلم ہے، ماں کے حق کو مقدم کرنے کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ باپ کے حق کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7269
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى
۔ بنو یربوع کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیچ میں فرمایا: دینے والا ہاتھ بلند ہے، اپنی ماں سے نیکی کرو اور اپنے باپ سے اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے، پھر جو جتنا زیادہ قریب ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی جان دوسرے کے گناہ کے عوض نہیں پکڑی جائے گی (یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہو گا)۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7269]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرج القسم الاول منه النسائي: 8/ 54، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23589»
وضاحت: فوائد: … اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہاتھ ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 7270
وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلے مذکور روایت جیسی حدیث مروی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7270]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7105»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7271
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ دوسرے قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7271]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 3661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17319»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7272
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أَبُوكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میری اچھی ہم نشینی کا کون مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا: پھرکون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں ہے۔ اس نے کہا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارا باپ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7272]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5971، ومسلم: 2548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9070»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5971
حدیث نمبر: 7273
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ دِينَارٍ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ مِنْ قِبَلِهِ بِرًّا بِالْعِيَالِ قَالَ وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالِهِ صِغَارًا يُعَفِّهِمُ اللَّهُ بِهِ
۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جسے آدمی اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے۔ ابوقلابہ نے اپنی طرف سے وضاحت کرتے ہوئے کہا: جیسے وہ عیال کے ساتھ نیکی کرتے ہوئے خرچ کرتا ہے اور ابو قلابہ نے ہی کہا: اس آدمی سے بڑھ کر کون بڑے اجر والا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان بچوں کو اس کے ذریعے سوال کرنے سے بچاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7273]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22820»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 994
حدیث نمبر: 7274
وَعَنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ ثُمَّ عَلَى نَفْسِهِ ثُمَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَيَبْدَأُ بِالْعِيَالِ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ دِينَارًا نَفَقَةَ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، پھر وہ جو اپنے آپ پر خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرے اور پھر وہ جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اہل و عیال سے ابتدا کرے، سلیمان بن حرب کہتے ہیں: اسے ابوقلابہ نے ان الفاظ کو مرفوعاً بیان نہیں کیا: افضل وہ دینار ہےاورفضیلت والا بھی کہ جسے آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7274]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22739»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22739
حدیث نمبر: 7275
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَلَا يَلُومُ اللَّهُ عَلَى الْكَفَافِ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! اگر تو ضرورت سے زائد بچا ہوا مال اللہ کی راہ میں دے دے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا اور اگر تو اسے روک لے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا اور خرچ کرنے میں ابتدا اس سے کر جس کی تو کفالت کا ذمہ دار ہے اوراگر تیرے پاس پہلے ہی پورا پورا ہے، تو تجھے اللہ تعالیٰ خرچ نہ کرنے پر ملامت نہیں کریں گے اور اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7275]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8743 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8728»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث میں صدقہ و خیرات کی تلقین بھی کی گئی ہے اور قرابتداروں کی ترتیب بھی بیان کر دی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره