الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ النهي عن اللعب بالحيوان
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب¤حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7880
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ مَرَّ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى أُنَاسٍ قَدْ وَضَعُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَّخَذَ ذُو الرُّوحِ غَرَضًا
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماکچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ ایک کبوتری کو سامنے باندھ کر اس کو تیر مار رہے تھے،سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے کہا کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذی روح اور جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7880]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3187، والترمذي: 1475، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2474»
وضاحت: فوائد: … یہ جانور کے ساتھ ظلم ہے، ذبح اور شکار کے طریقے پچھلے ابواب میں گزر چکے ہے، جس شکاری جانور یا پرندے کو ذبح کرنا ممکن ہو جائے، اس کو ذبح ہی کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7881
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً فَقَالَ شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ کبوتری کے پیچھے دوڑ رہا تھا، آپ نے فرمایا: شیطان شیطاننی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7881]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4940، وابن ماجه: 3765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8524»
وضاحت: فوائد: … کبوتر بازی، بٹیر بازی اور مرغ لڑانا وغیرہ سب ناجائز مشاغل ہیں، ہاں اگر بطورِ تجارت یہ پرندے رکھے جائیں اور کھانے کے لیے ان کی خرید فروخت کی جائے اور شکار کر کے ایسے پرندوں کو پکڑا جائے تو پھر جائز ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7882
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا فِتْيَةٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا لَهُمْ كُلُّ خَاطِئَةٍ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالَ فَتَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُمَثِّلُ بِالْحَيَوَانِ
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ کے ایک راستے سے گزر رہا تھا، کچھ نوجوان مرغی کو باندھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے اور انھوں نے مرغی کے مالک کو ہر وہ تیر دینا تھا، جو نشانے پر نہیں لگتا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمایہ منظر دیکھ کر غصے ہوئے اور کہا: کس نے ایسے کیا ہے؟ پس وہ تتر بتر ہو گئے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو حیوان کا مثلہ کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7882]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1957، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3133»
وضاحت: فوائد: … اس موقع پر حیوان کا مثلہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس جانور کو ذبح کرنا ممکن ہو، اس پر تیر چلائے جائیں، جن کی وجہ سے اس کا چہرہ زخمی ہو جائے اور اس کی صورت بدل جائے اور تیر لگنے سے اس کے گوشت کے ٹکڑنے گرنے لگیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7883
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ مَنْزِلِهِ فَمَرَرْنَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ نَصَبُوا طَيْرًا يَرْمُونَهُ وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ قَالَ فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنہوں نے پرندہ گاڑ رکھا تھا اور اس پر نشانہ بازی کررہے تھے، انہوں نے پرندے کے مالک کو نشانے پر نہ لگنے والا ہر تیر دینے کا تقرر کر رکھا تھا، جب انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکو دیکھا تو وہ بھاگ گئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمانے دریافت کیا: یہ کس نے کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے، بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ذی روح اور جاندار چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7883]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6259»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7884
عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ
۔ ہشام بن زید بن انس بن مالک کہتے ہیں: ہم اپنے دادا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر داخل ہوا، کچھ لوگ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ زندہ جانور کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی کی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7884]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12776»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7885
عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَارَ الْإِمَارَةِ فَإِذَا دَجَاجَةٌ مَصْبُورَةٌ تُرْمَى فَكُلَّمَا أَصَابَهَا سَهْمٌ صَاحَتْ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ
۔ (دوسری سند) ہشام بن زید کہتے ہیں: میں اپنے دادا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ دارالامارت میں داخل ہوا، پس کیا دیکھا کہ زندہ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی ہے، جب اسے تیر لگتا تو وہ چلاتی تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7885]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13013»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7886
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ لَوْ كَانَتْ لِي دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر میرے پاس مرغی ہوتی تو میں اسے نہ باندھتا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7886]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 1974، والطبراني: 4001، والبيھقي: 9/ 71، وابن حبان: 5609، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23987»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا تمام احادیث میں جانوروں کے ساتھ ظلم کی جو مثالیں پیش کی گئی ہیں، یہ ناعاقبت اندیش لوگوں کے کھیل ہیں، جبکہ ان کھیلوں میں جانوروں کے ساتھ بڑا ظلم کیا جا رہا ہے، شریعت تو ذبح کے وقت بھی جانور کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیتی ہے، یعنی ذبح کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس سے جانور کو کم از کم تکلیف کا احساس ہو۔ایسے تمام کھیل ناجائز ہیں، جانوروں کو لڑانابھی اسی میں داخل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
5. بَابُ تَحْرِيمِ الْقَمَارِ وَاللَّعْبِ بِالنَّرْدِ وَمَا فِى ذلك
جوا اور نرد (چوسر) جیسے کھیل کھیلنے کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 7887
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلْفِهِ وَاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم اٹھائے اور اپنی قسم میں کہے: مجھے لات کی قسم! تو وہ (اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے) کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ ہم جوا کھیلیں وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7887]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6107، 6301، ومسلم: 1647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8087)(7887) أخرجه البخاري: 6107، 6301، ومسلم: 1647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8073»
وضاحت: فوائد: … عربوں کی زبانوں پر کچھ کلمات بلا قصد جاری ہو جاتے تھے، ابتدائے اسلام میں بھی ایسے ہو جاتا تھا کہ ممنوعہ کلمات ان کی زبان پر آ جاتے تھے، لات و عزی کی قسموں کاتعلق بھی ان ہی کلمات سے ہے، یا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہالت یا بھول کر لات و عزی کی قسم کھالے، وگرنہ جو آدمی جان بوجھ کر تعظیماً لات وغیرہ کی قسم کھاتا ہے، وہ کافر ہے، اس کے کفر میں کسی کو اختلاف نہیں، وہ خارج از اسلام ہو گا،دیکھیں حدیث نمبر (۵۲۹۲) والے باب کی احادیث اور ان کے فوائد۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7888
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ وَفِي رِوَايَةٍ بِالْكِعَابِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جونرد شیر کے ساتھ کھیلا، ایک روایت میں ہے: جو نرد کھیل کے نگینوں کے ساتھ کھیلا، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7888]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 737، والحاكم: 1/ 50، وابويعلي: 7289، والبيھقي: 10/ 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19750»
وضاحت: فوائد: … نَرْد کا ترجمہ لُعْبَۃ الطَّاوِلَۃ کیا گیا ہے، یعنی لکڑی کے تختے پر کھیل، جس سے چوسر، کیرم بورڈ اور لڈو وغیرہ کی قسم کے کھیل مراد لیے جا سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7889
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ إِلَّا عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد کھیل کے نگینوں کو پلٹتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7889]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19883»
الحكم على الحديث: صحیح