الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. أَبْوَبُ مَا يَجُوزُ مِنْ ذَلِكَ ¤بَاب لَهُوَ الرَّجُلِ مَعَ زَوْجَتِهِ
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب¤خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
حدیث نمبر: 7871
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیلتا ہے۔ وہ باطل ہے، ما سوائے اس کے کہ آدمی کمان سے تیر پھینکے، اپنے گھوڑے کو آداب جنگ سکھائے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرنے کے لیے کھیلے، یہ تینوں کھیل درست ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی سیکھنے کے بعد جو اسے بھلادے، اس نے اس نعمت کی ناشکری کی، جو اس کو عطا کی گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7871]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بمجموع طرقه وشواھده، أخرجه ابوداود: 2513 وأخرج القطعة الاخيرة بنحوه مسلم: 1919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17433»
وضاحت: فوائد: … تیر اندازی اور گھوڑے کی تربیت کا تعلق جہاد سے ہے، اس لیے یہ بڑے عظیم اعمال ہیں، البتہ عورت کے ساتھ کھیلنا، اس سے میاں بیوی کے مابین بڑی محبت پیدا ہوتی ہے، اس لیے جائز کھیل کا اہتمام کرنا چاہیے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوڑ کا مقابلہ کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7871M
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ رَمْيَةُ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ
۔ (دوسری روایت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (آدمی کا ہر کھیل باطل ہے) ما سوائے تین چیزوں کے: آدمی کا اپنے کمان سے تیر پھینکنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امورِ حق ہیں، اور جو آدمی تیراندازی سیکھنے کے بعد اس کو بھلا دیتا ہے، وہ اس چیز کا کفر کرتا ہے جو اس نے سیکھی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7871M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17433»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7872
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ فَلَبِثْنَا حَتَّى إِذَا أَرْهَقَنِي اللَّحْمُ سَابَقَنِي فَسَبَقَنِي فَقَالَ هَذِهِ بِتِلْكَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، میں آگے نکل گئی، پھر ہم کچھ عرصہ ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میرا وجود بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے نکل گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اُس کے مقابلے میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7872]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 2578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26277 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26807»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7873
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ جَارِيَةٌ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ تَقَدَّمُوا فَتَقَدَّمُوا ثُمَّ قَالَ لَهَا تَعَالَيْ أُسَابِقْكِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی، میں ابھی لڑکی ہی تھی، اس لیے آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم آگے نکل جاؤ۔ پس وہ آگے چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: آؤ میں تم سے دوڑ کا مقابلہ کرتا ہوں۔ پھر مذکورہ بالا روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7873]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24620»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7874
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ قَالَتْ فَاطَّلَعْتُ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ فَطَأْطَأَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْكِبَيْهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ عَاتِقِهِ حَتَّى شَبِعْتُ ثُمَّ انْصَرَفْتُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حبشہ کے لوگ عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے اوپر سے کھیل کی طرف دیکھ رہی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دئیے تھے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر سے ان کے کھیل کو دیکھتی رہی حتیٰ کہ میں خود اپنی مرضی کے مطابق پیچھے ہٹی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7874]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:5190، ومسلم: 892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24800»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کا دل بہلانے کی کوشش کرتے تھے، یہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا ایک طریقہ ہے، اس موضوع سے متعلقہ روایات کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۲۵) کا باب۔
الحكم على الحديث: صحیح
2. بَاب جَوَازِ الضَّرْبِ بِالدُّفْ فِي الْعِيدَيْنِ وَنَحْوِهِمَا
عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 7875
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَمَةً سَوْدَاءَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ صَالِحًا أَنْ أَضْرِبَ عِنْدَكَ بِالدُّفِّ قَالَ إِنْ كُنْتِ فَعَلْتِ فَافْعَلِي وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَفْعَلِي فَلَا تَفْعَلِي فَضَرَبَتْ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهِيَ تَضْرِبُ وَدَخَلَ غَيْرُهُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَعَلَتْ دُفَّهَا خَلْفَهَا وَهِيَ مُقَنَّعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَفْرَقُ مِنْكَ يَا عُمَرُ أَنَا جَالِسٌ هَاهُنَا وَدَخَلَ هَؤُلَاءِ فَلَمَّا أَنْ دَخَلْتَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام لونڈی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ سے واپس لوٹے تھے، اس نے آکر کہا: میں نے نذرمان رکھی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ واپس لوٹائے گا تو میں دف بجاؤں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تونے یہ نذر مانی ہے تو اسے پورا کرلے اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو اس طرح نہ کر۔ پس اس نے دف بجایا، اتنے میں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ بجاتی رہی، اور بھی لوگ آتے رہے اور وہ بجاتی رہی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو اس نے دف اپنے پیچھے رکھ دی اور کپڑا اوڑھ لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تجھ سے شیطان بھی ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا، یہ دف بجارہی تھی، یہ یہ افراد بھی آئے، لیکن یہ دف بجاتی رہی، جب تو داخل ہوا تو اس نے ایسے ایسے کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7875]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الترمذي: 3690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23377»
وضاحت: فوائد: … عربوں کادف گول اور چھلنی کی شکل کا ہوتا ہے، اس کے چمڑے میں سوراخ نہیں ہوتے اور اس میں گھنٹیاں اور گھنگرو لگے ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7876
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تَضْرِبَانِ بِدُفَّيْنِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو لونڈیاں دو دف بجارہی تھیں، انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، بیشک ہر قوم کی عید ہوتی ہے (جس پر وہ خوشی کرتی ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7876]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 987، 988، ومسلم: 892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25465»
وضاحت: فوائد: … ثابت ہوا کہ بچیاں دُف (ڈھولکی) بجا کر جائز کلام، وہ نظم ہو یا نثر، پڑھ سکتی ہیں، ہمیں بھی شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر ایسا ہی اندازِ خوشی اپنانا چاہئے، نہ کہ بے پردگی اور بے حیائی پر مشتمل باطل رسومات۔
الحكم على الحديث: صحیح
3. بَاب مَا جَاءَ فِي لَعْبِ الْحَبَشَةِ وَرَقْصِهِمْ
حبشیوں کے کھیل اور رقص کا بیان
حدیث نمبر: 7877
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتِ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُونَ قَالُوا يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حبشہ کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھیلتے اور خوشی سے اچھلتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صالح بندے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ لوگ کیاکہہ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صالح اور نیک بندے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7877]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 5870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12568»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7878
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا بِذَلِكَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کی آمد کی خوشی میں حبشہ کے لوگوں نے اپنے جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل پیش کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7878]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 4923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12677»
وضاحت: فوائد: … اس مفہوم کی ایک اور حدیث درج ذیل ہے:
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7879
عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَالَ جَابِرٌ هُوَ اللَّعِبُ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر چیز دیکھی ہے، صرف اس دور کی ایک چیز نہیں دیکھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عید الفطر کے دن کھیل پیش کیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7879]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه ابن ماجه: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15558»
وضاحت: فوائد: … ان تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز طریقہ سے صحابہ کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں مسرت کا اظہار کرتے تھے، یہ خوشی کے وقت اور عید اور شادی وغیرہ کے موقع پر جائز ہے، لیکن وہ آلات استعمال نہ کئے جائیں جو ناجائز ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف