🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّصْوِيْرِ وَ وَعِيْدِ فَاعِلِهِ
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان¤جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں¤تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8058
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ فِيهَا تَمَاثِيلُ طَيْرٍ وَوَحْشٍ فَقُلْتُ أَلَيْسَ يُكْرَهُ هَذَا قَالَ لَا إِنَّمَا يُكْرَهُ مَا نُصِبَ نَصْبًا حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَقَالَ حَفْصٌ مَرَّةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
۔ لیث کہتے ہیں: میں سالم بن عبداللہ کے پاس گیا، وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ اس تکیے میں پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصاویر تھیں، میں نے کہا: یہ تو مکروہ نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، مکروہ صورت وہ ہے، جس میں تصویریں سیدھی رکھی گئی ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصاویربنائیں، اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ ان میں روح پھونکے، جبکہ وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8058]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، واسناد ھذا الحديث ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرج المرفوع منه البزار: 2994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6326»

الحكم على الحديث: المرفوع منه صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8059
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تصاویر بنانے والے روز قیامت عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس میں روح ڈال کر اس کو زندہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8059]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7557، ومسلم: 1207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26394»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7557
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8060
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَخْلُقُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے بڑھ کراور کون ظالم ہوگا، جو میری مخلوق کی مانند مخلوق بناتا ہے، ان کو چاہیے کہ یہ مچھر پیدا کریں اور ذرہ پیدا کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8060]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7559، ومسلم: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10831»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7559
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8061
عَنْ عُمَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ وَهِيَ تُبْنَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً
۔ ابو زرعہ کہتے ہیں:میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان بن حکم کے گھر داخل ہوا، انہوں نے وہاں دیکھا کہ تصویریں بنائی جا رہی ہیں، پس سیدنا ابو ہریرہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے بڑا ظالم کون ہے، جو میری تخلیق کی طرح تخلیق کرنے لگا ہے، ان کو چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں، ایک دانہ پیدا کریں، ایک جو پیدا کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8061]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7559، ومسلم: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7166»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7559
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8062
عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَسًا مِنْ رِقَاعٍ فِي يَدِ جَارِيَةٍ فَقَالَ أَلَا تَرَى هَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَعْمَلُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک بچی کے ہاتھ میں کپڑوں کے ٹکڑوں کا بنا ہوا ایک گھوڑا دیکھا اور کہا: کیا تم یہ نہیں دیکھ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی یہ کام کرتا ہے، جس کا قیامت کے دن کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8062]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الذي من قريش و أبيه، ثم ھذا الخبر يخالف ما ثبت من حديث عائشة رضي الله عنها، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7867»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ذی روح چیز کی تصویر بنانا حرام ہے، وہ انسان ہو، جانور ہو، پرندہ ہو یا درندہ ہو، اس بارے میں شریعت نے بہت، بلکہ ہمارے اندازے اور سوچ سے بڑھ کر مذمت کی ہے، لیکن عصر حاضر کے مزاج کا کیا بنے گا، ہر آدمی اپنی مووی اور البم بنانے کا عشق کی حد تک شوق رکھتا ہے، رہی سہی کمی کیمرہ والے موبائلوں نے پوری کر دی ہے اور کوئی آدمی سنجیدگی سے شرعی فیصلہ سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لابھام الرجل الذي من قريش و أبيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ أَوْ جُنُبٌ
اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8063
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَتْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَةٌ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ إِنِّي كُنْتُ آتِيهِ كُلَّ سَحَرٍ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَتَنَحْنَحَ وَإِنِّي جِئْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَقَالَ عَلَى رِسْلِكَ يَا أَبَا حَسَنٍ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَيَّ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَغْضَبَكَ أَحَدٌ قَالَ لَا قُلْتُ فَمَا لَكَ لَا تُكَلِّمُنِي فِيمَا مَضَى حَتَّى كَلَّمْتَنِي اللَّيْلَةَ قَالَ سَمِعْتُ فِي الْحُجْرَةِ حَرَكَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَنَا جِبْرِيلُ قُلْتُ ادْخُلْ قَالَ لَا اخْرُجْ إِلَيَّ فَلَمَّا خَرَجْتُ قَالَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا لَا يَدْخُلُهُ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهِ قُلْتُ مَا أَعْلَمُهُ يَا جِبْرِيلُ قَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ فَفَتَحْتُ الْبَيْتَ فَلَمْ أَجِدْ فِيهِ شَيْئًا غَيْرَ جَرْوِ كَلْبٍ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ الْحَسَنُ قُلْتُ مَا وَجَدْتُ إِلَّا جَرْوًا قَالَ إِنَّهَا ثَلَاثٌ لَنْ يَلِجَ مَلَكٌ مَا دَامَ فِيهَا أَبَدًا وَاحِدٌ مِنْهَا كَلْبٌ أَوْ جَنَابَةٌ أَوْ صُورَةُ رُوحٍ
۔ نجی حضرمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لوگوں میں سے جو شرف مجھے حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہیں تھا، میں ہر سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضری دیتا تھا، جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہتا حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھنکارتے تھے، میں ایک رات کو آیا اور سلام کہتے ہوئے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ پر سلام ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو حسن! ذرا ٹھہر جاؤ، میں جب تک باہر نہیں آتا، اندر نہ آنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو کسی نے غضب ناک کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا بات ہے کہ اس سے پہلے آپ مجھ سے بات نہیں کرتے تھے، بلکہ صرف اشارہ دیتے تھے،آج رات آپ نے بات کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دراصل بات یہ ہے کہ میں نے حجرہ میں حرکت سی سنی، پس میں نے کہا: کون ہے؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں، میں نے کہا: داخل ہو جاؤ، انھوں نے کہا:جی نہیں، میں نہیں آؤں گا، آپ خود باہر آجائیں، جب میں باہر آیا تو انھوں نے کہا: آپ کے کمرہ میں ایک ایسی چیز ہے، جب تک وہ اس میں ہے، میں نہیں داخل ہو سکتا، میں نے کہا: اے جبریل! مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز ہے، انھوں نے کہا: جاؤ اور دیکھو، پس میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ گھر میں ایک کتیا کا بچہ تھا، جس کے ساتھ حسن کھیلتے تھے، میں نے کہا کہ گھر میں صرف کتیا کا ایک بچہ ہے، انھوں نے کہا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب تک وہ ہوں گی، اس جگہ پر فرشتہ داخل نہ ہوگا،کتا، جنبی آدمی اور ذی روح کی تصویر۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8063]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن نجي مختلف فيه، وأبوه في عداد المجاھيل، أخرجه النسائي: 3/12، وابن ماجه: 3078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 647»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8064
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي تَنَحْنَحَ فَأَتَيْتُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا أَحْدَثَ الْمَلَكُ اللَّيْلَةَ كُنْتُ أُصَلِّي فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فِي الدَّارِ فَخَرَجْتُ فَإِذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ مَا زِلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ أَنْتَظِرُكَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ كَلْبًا فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا تِمْثَالٌ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں رات دن میں میرا دو مرتبہ آنا جانا تھا، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوتا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھنکارتے تھے، ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے کہ فرشتہ نے ایک نیا حکم دے دیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہاتھا، میں نے گھر میں حرکت سی سنی، جب میں باہر آیا تو وہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے کہا: میں اس رات آپ کے انتظار میں تھا، آپ کے گھر میں ایک کتا تھا، اس لئے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا، ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا، جنبی اور تصویر ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8064]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 608»
وضاحت: فوائد: … جنبی آدمی کی وجہ سے رحمت کے فرشتوں کا گھر میں داخل نہ ہونا، اس بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، نیز بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت کو صبح تک مؤخر بھی کر دیتے تھے، اگرایسی روایت کسی محقق کے نزدیک صحیح ہو تو اس سے مراد وہ شخص ہو گا جو غسل جنابت لیٹ کرنے کو اپنی عادت بنا لیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ جنبی لیا جائے، جو رات کو وضو کر کے نہیں سوتا، کیونکہ امام نسائی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت پر یہ باب قائم کیا ہے: باب فی الجنب اذا لم یتوضأ (اس اس جنبی کا بیان جو وضو نہیں کرتا)۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 608
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8065
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا بَوْلٌ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے، انھوں نے مجھے سلام تو کہا، لیکن اندر نہ آئے، میں نے ان سے کہا: آپ کو اندر آنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ انھوں نے کہا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر اور پیشاب ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8065]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الحسن بن ذكوان ليس بالقوي، وعمرو بن خالد القرشي متروك، ورماه وكيع واحمد وابن معين وغيره بالكذب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1247»
وضاحت: فوائد: … پیشاب کے بارے میں یہ روایت تو ضعیف ہے، البتہ درج ذیل روایات پر غور کریں:

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8066
وَعَنْ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ وَكَانَ الْكَلْبُ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْبَيْتِ
۔ (دوسری سند) جبریل علیہ السلام، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر یا کتا ہو۔ یہ جو گھر میں کتا تھا، یہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8066]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1270»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1270
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8067
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ فَقَالَ أَمَّا هُمْ فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَهَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرًا فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس وقت بیت اللہ میں داخل ہوئے تواس میں ابراہیم علیہ السلام اور مریم رحمہ اللہ علیہا کی تصویریں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! انہوں نے سنا ہوا ہے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جسم میں تصویر ہو، یہ ابراہیم علیہ السلام کو تصویر میں پیش کیا گیا ہے،ان کو کیا ہوا کہ یہ تیروں سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں (یعنی یہ تیروں سے قسمت آزمائی نہیں کرتے تھے)۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8067]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2508»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3351
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں