الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَاب مَنْ أصِيبَ أَنْفُهُ فَاتَّخَذَ أَنَّهَا مِنْ ذَهَبٍ
مردوں کے لیے ضرورت کے وقت سونا اور ریشم استعمال کرنے کی رخصت کے ابواب¤ناک کٹ جانے والے آدمی کا سونے کا ناک بنوا لینے کا بیان
حدیث نمبر: 8038
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ بْنِ عَرْفَجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ يَعْنِي مَاءً اقْتَتَلُوا عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَمَا أَنْتَنَ عَلَيَّ
۔ عبدالرحمن بن طرفہ بن عرفجہ اپنے دادا سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کا ناک کلاب والی جنگ میں کٹ گیا تھا، کلاب دراصل ایک پانی (یعنی ایک کنویں یا ایک چشمے) کا نام کلاب تھا، جس کے پاس جاہلیت میں لڑائی ہوئی تھی، پھر درج بالا روایت کی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: پھر وہ سونے کی وجہ سے بدبو دار نہ ہوا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8038]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20275 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20540»
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 8039
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى أَبِي الْأَشْهَبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُمْ فَقَالُوا حَدِّثْنَا قَالَ سَلُوا فَقَالُوا مَا مَعَنَا شَيْءٌ نَسْأَلُكَ عَنْهُ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ سَلُوهُ عَنْ حَدِيثِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ
۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے سنا، انھوں نے کہا: محدثین کا ایک گروہ آیا اور انھوں نے ابو اشہب کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت دی، وہ آئے اور انہوں نے ابو اشہب سے کہا: ہمیں حدیث بیان کرو، انہوں نے کہا: تم سوال کرو،انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو کوئی سوال نہیں ہے، پھر پردہ کے پیچھے سے ان کی بیٹی نے کہا: ان سے عرفجہ بن اسعد والی حدیث کے بارے میں پوچھو، جن کا ناک کلاب والے دن کٹ گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8039]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20542»
وضاحت: فوائد: … یہ شریعت ِ اسلامیہ کا حسن ہے کہ اس میں بندے کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، جہاں مرد کے لیے سونے کا استعمال بطورِ زینت منع ہے، وہاں بطورِ ضرورت جائز بھی ہے، مثلا ہلنے والے دانتوں کوسونے کی تار سے باندھنا، سونے کا دانت لگوانا، ناک کی طرح کا عضو کٹ جانے کی صورت میں وہ لگوانا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20542
19. بَاب مَا جَاءَ فِي شَدَّ الْإِسْنَانِ بِالذَّهَبِ
سونے کے ذریعے دانتوں کو باندھنے کا بیان
حدیث نمبر: 8040
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْكُوفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ شَدَّ أَسْنَانَهُ بِالذَّهَبِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ
۔ حماد بن ابی سلیمان کوفی کہتے ہیں: میں نے مغیرہ بن عبداللہ کو دیکھا، انہوں نے سونے کی زنجیر سے اپنے دانت باندھ رکھے تھے، جب اس کا ذکر ابراہیم نخعی سے کیا گیا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8040]
تخریج الحدیث: «ھذا الاثر اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 499، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20541»
الحكم على الحديث: ھذا الاثر اسناده حسن
حدیث نمبر: 8041
عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ عَمَّنْ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَبَّبَ أَسْنَانَهُ بِذَهَبٍ
۔ واقد بن عبداللہ تمیمی ایسے آدمی سے بیان کرتے ہیں، جس نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا تھا، اس نے اپنے دانت سونے کے ساتھ باندھ رکھے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8041]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي رأي عثمان، أخرجه ابن سعد: 3/ 58، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 539»
وضاحت: فوائد: … اس باب کا تعلق بھی پچھلے باب سے ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لابھام الراوي الذي رأي عثمان
20. بَابُ الرُّحْضَةِ فِي لَبْسِ الْحَرِيرِ لِحَكَةٍ وَنَحْوِهَا
خارش وغیرہ کی وجہ سے ریشم پہننے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 8042
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رُخِّصَ أَوْ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8042]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2922، ومسلم: 2076، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12288 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12313»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2922
حدیث نمبر: 8043
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصًا مِنْ حَرِيرٍ
۔ (دوسری سند) سیدنا زبیر بن عوام اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جوئیں پڑ جانے کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان میں سے ہر ایک کو ریشم کی قمیص پہنے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8043]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2920، ومسلم: 2076، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12255»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث خارش اور جوئیں پڑ جانے کی وجہ سے ریشم کا لباس استعمال کرنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، معالج حضرات کسی اور بیماری کی وجہ سے بھی ریشمی لباس پہننے کی تجویز دے سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2920
21. باب إباحة اليسير مِنَ الْحَرِيرِ كَالعَلَم وَالرقعه وَنَحْوِهَا
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 8044
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِآذَرْبَيْجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا أُصْبُعَيْنِ قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَمَا عَتَّمْنَا إِلَّا أَنَّهُ الْأَعْلَامُ
۔ ابو عثمان ہندی کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے ایک تحریر آئی، ہم آذربائیجان یا شام میں سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اس تحریر میں لکھا تھا: أَمَّا بَعْدُ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، مگر دو انگلیوں کے برابر اجازت ہے۔ ابو عثمان کہتے ہیں: ہم یہی سمجھے کہ (دو انگلیوں سے مراد یہی ہے کہ) ریشم کی اتنی دھاریاں یا نشانات جائز ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8044]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5828، ومسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 356»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5828
حدیث نمبر: 8045
عَنْ قَتَادَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَشْيَاءَ يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا كَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا هَكَذَا وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى قَالَ أَبُو عُثْمَانَ فَرَأَيْتُ أَنَّهَا أَزْرَارُ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْنَا الطَّيَالِسَةَ
۔ (دوسری سند) ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف کچھ احکام تحریر کر کے بھیجے، جو انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کئے تھے، اس میں یہ بھی تحریر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی دنیا میں ریشم پہنتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو، مگر دو انگلیوں کے برابر۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا، ابو عثمان کہتے ہیں: جب ہم نے طیالسی لباس دیکھا تو ہم نے اندازہ کیا کہ اسی مقدار کے طیالسی لباس کے بٹن ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8045]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5830، ومسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 243»
وضاحت: فوائد: … عجموں کے ایک لباس کو طیالسہ کہتے ہیں، اس لباس کے ریشمی بٹن کی مقدار دو انگلیوں کے برابر تھی۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5830
حدیث نمبر: 8046
عَنْ قَتَادَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِآذَرْبَيْجَانَ يَا عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلُبْسَ الْحَرِيرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَقَالَ إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ
۔ (تیسری سند) ابو عثمان کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر آئی، جبکہ ہم آذر بائیجان میں تھے، اس میں لکھا ہوا تھا: اے عتبہ بن فرقد! نعمت پروری، مشرکوں کی وضع قطع اور ریشم کے لباس سے بچو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ریشم پہننے سے منع کیا ہے، مگر اتنی اجازت ہے، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر وضاحت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8046]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 92»
الحكم على الحديث: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 92
حدیث نمبر: 8047
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفْلَةَ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ بِالْجَابِيَةِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ وَأَشَارَ بِكَفِّهِ
۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں:سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ مقام پر خطبہ دیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے، مگردو یا تین یا چار انگلیوں کے مقدار کے برابر، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8047]
تخریج الحدیث: «أخرجه مرفوعا مسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 365»
الحكم على الحديث: أخرجه مرفوعا مسلم: 2069