🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب إباحة اليسير مِنَ الْحَرِيرِ كَالعَلَم وَالرقعه وَنَحْوِهَا
کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8048
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ مِنْ قَزٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا السَّدَى وَالْعَلَمُ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے، جو سارے کا سارا ریشم کا بنا ہوا ہو، اگر کپڑے کا بانا ریشم کا ہو یا نقش و نگار ریشم کا ہو تو ہم اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8048]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4055، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1879»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ذاتی رائے ہے، چارانگلیوں سے زیادہ ریشم نہیں ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8049
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ ان سے یہ بات پوچھوں کہ آپ کی طرف سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہو: کپڑے میں علامات اور نقش و نگار لگانے کو، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کو اور رجب کے سارے روزے رکھنے کو۔ انہوں نے جواباً کہا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ میں سارے ماہِ رجب کے روزے نہ رکھوں، تو پھر اس کا روزہ کیسے ہوگا جو ہمیشہ کے روزے رکھے، جو تم نے کپڑے میں علامات کا ذکرکیا ہے کہ میں اس سے منع کرتا ہوں اس بارے میں گزارش ہے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8049]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 181»
وضاحت: فوائد: … اگر کپڑے پر ریشم کے ذریعے نقش و نگار کیا جائے اور اس ریشم کی مقدار چار انگلیوں سے زائد ہو تو اس کپڑے کا استعمال حرام ہو گا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2069
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8050
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ أَيْضًا عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً عَلَيْهَا لِبْنَةٌ شِبْرٌ مِنْ دِيبَاجٍ كِسْرَوَانِيٍّ وَفَرْجَاهَا مَكْفُوفَانِ بِهِ قَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا يَسْتَشْفِي بِهَا
۔ عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے طیالسی جبہ نکالا، اس کے دامن میں فارسی ریشم کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور اس کے چاک بھی ریشم کے تھے۔ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ تھا،جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنا کرتے تھے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا تھا، ہم اسے مریض کے لئے پانی میں ڈال کر اس کی برکت سے شفاء طلب کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8050]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27481»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2069
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8051
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ أَيْضًا قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا أَسْمَاءُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جُبَّةً مَزْرُورَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ فِي هَذِهِ كَانَ يَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ
۔ عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ہمارے سامنے ایک جبہ رکھا، جس میں ریشم کے بٹن تھے، انھوں نے کہا: یہ وہ جبہ ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن سے بھی ملاقات کرتے تھے، (یعنی امن و جنگ دونوں حالتوں میں پہنتے تھے۔) [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8051]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، أخرجه ابن ماجه: 2819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27483»
وضاحت: فوائد: … اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ زینت یا کسی عام ضرورت کے لیے چار انگلیوں کے بقدر ریشم استعمال کیا جا سکتا ہے، اگر ریشم کے بٹن بنائے جائیں یا بٹنوں پر ریشم چڑھایا جائے تو بھی اسی مقدار کا پابند رہنا چاہیے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّصْوِيْرِ وَ وَعِيْدِ فَاعِلِهِ
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان¤جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں¤تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8052
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ عَاقِدًا وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی اسے روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا اور اس وقت تک ہوتارہے گا، جب تک اس میں روح نہ پھونک دے، جبکہ وہ روح نہیں پھونک سکے گا، جو خواب میں تکلف کا مظاہرہ کرے گا، اسے روز قیامت عذاب دیا جائے گا اور اس وقت تک دیا جاتا رہے گا، جب تک کہ وہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گرہ نہ لگا دے اور جو آدمی ان لوگوں کی بات سنے گا، جو اس سے دور بھاگتے ہوں،یعنی اس کو نہ سنانا چاہتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں (سیسہ ڈال کر) اس کو عذاب دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8052]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1866»
وضاحت: فوائد: … جاسوسی کرنے والوں، چھپ کر دوسروں کی باتیں سننے والوں یا ان کو ریکارڈ کر لینے والوں اور دوسروں کے معائب کی تلاش میں رہنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جب کان میں ایک چیونٹی گھس جائے تو یوں لگتا ہے، جیسے کوئی جہاز داخل ہو گیا، اس سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ پگھلائے ہوئے سیسہ کی کتنی تکلیف ہو گی، العیاذ باللہ۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 7042
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8053
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَلَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يُسْمَعَ حَدِيثُهُمْ أُذِيبَ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ایسے لوگوں کی بات سنے کہ وہ لوگ اس کو بات سنانا گوارا نہ کریں تو سیسہ پگھلا کر اس کے کانوں میں ڈالا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8053]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه البخاري معلقا باثر الحديث: 7042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10556»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8054
عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ لَا يُسْنِدُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ فُتْيَاهُ حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهْ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَدَنَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الْدُّنْيَا يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
۔ سیدنا نضر بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جبکہ وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے اور اپنے فتووں میں کوئی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے، ان کے پاس ایک عراقی آدمی آیا اور اس نے کہا: میں عراق کا آدمی ہوں، میں یہ تصاویر بناتا ہوں، اس سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو یا تین بار کہا: قریب ہو جاؤ، پھر انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں تصویر بنائی، اسے روز قیامت یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس تصویر میں روح پھونکے، جبکہ وہ روح پھونک نہیں سکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8054]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5963، ومسلم: 2110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2162»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5963
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8055
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا قَالَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاجْعَلِ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ
۔ سعید بن ابو حسن کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابن عباس! میں تصاویر بناتا ہوں، مجھے ان کے بارے میں فتویٰ دیجئے،انھوں نے کہا: میرے قریب آجا، پس وہ قریب ہو گیا، انھوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھااور کہا: میں تجھے اس بات کی خبر دیتا ہوں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مصور دوزخ میں جائے گا، اس نے جو تصویریں بنائی ہوں گی، ہر تصویر کے بدلے ایک جان بنائی جائے گا اور وہ اس کو جہنم میں عذاب دیتی رہے گی، اگر تو نے تصوریں بنانی ہی ہیں تو درخت اور غیر ذی روح چیز کی بنا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8055]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2225، ومسلم: 2110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2810»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 2225
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8056
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرِينَ وَقَالَ وَكِيعٌ أَشَدُّ النَّاسِ
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں میں سب سے سخت عذاب والے لوگوں میں سے روز قیامت تصویر بنانے والے ہوں گے کو ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8056]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5950، ومسلم: 2109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4050»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5950
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8057
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُصَوِّرُونَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مصوروں کو روز قیامت عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا تم نے جو کچھ بنایا تھا، اب اس کو زندہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8057]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5951، ومسلم: 2108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4475»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5951
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں