الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ النَّهْي عَنِ الشُّهْرَةِ وَالْإِسْبَالِ وَ وَعِيدِ مَنْ فَعَلَ ذلِكَ
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت¤اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8108
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ قَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
۔ عطاء بن یسار ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہاتھا، جبکہ اس کا ازار اس کے ٹخنوں سے نیچے تک لٹک رہا تھا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو جا اور وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تو جا اور پھر وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہے کہ آپ نے اس کو وضو کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو خاموش ہو گئے، لیکن پھر فرمایا: اس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8108]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابي جعفر الانصاري المدني، أخرجه ابوداود: 638، 4086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16745»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابي جعفر الانصاري المدني
حدیث نمبر: 8109
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مُسْبِلٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف نہیں دیکھتا جس نے تہبند لٹکایا ہوا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8109]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 8/ 207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2955»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 8110
عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا خُرَيْمُ لَوْلَا خُلَّتَانِ فِيكَ قُلْتُ وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَالُكَ إِزَارَكَ وَإِرْخَاؤُكَ شَعْرَكَ
۔ سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے خریم! تو بڑا اچھا آدمی ہے، کاش اگر تجھ میں دو عادتیں نہ ہوتیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا اور بال زیادہ لمبے رکھنا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8110]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بطرقه، أخرجه الطبراني في الكبير: 4157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19246»
الحكم على الحديث:
حديث حسن بطرقه
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَدُ الْمُسْتَحَبُّ لِلتَّوْبِ وَالْجَائِزِ والحرام
لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
حدیث نمبر: 8111
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيرَاءِ أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا فَسَحَبْتُهُ وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ فَتَقَنَّعْتُ بِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعِ الْإِزَارَ فَإِنَّ مَا مَسَّتِ الْأَرْضَ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرو ی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشم کی ایک پوشاک دی، جو فیروز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِہدیہ دی تھی، میں نے تہبند باندھا تو وہ تو کافی لمبا چوڑا تھا،سو میں نے اسے زمین پر گھسیٹا اور اوپر والی چادر بھی پہن لی اور اس طرح میں نے وجود ڈھانپ لیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے کندھے سے پکڑا اور فرمایا: اے عبداللہ! تہبند اٹھا کر رکھو، کیونکہ یہ ٹخنوں سے لے کر زمین تک جتنی مقدار ہے، یہ آگ میں جائے گی۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد کسی ایسے انسان کو نہیں دیکھا، جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر لباس کو سمیٹ کر رکھنے والا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8111]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 5714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5713»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8112
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً وَكَسَا أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً سِيرَاءَ قَالَ فَنَظَرَ فَرَآنِي قَدْ أَسْبَلْتُ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِي وَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ كُلُّ شَيْءٍ مَسَّ الْأَرْضَ مِنَ الثِّيَابِ فَفِي النَّارِ قَالَ فَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَّزِرُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی چادر دی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دھاری دار ریشمی حلہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نے چادر ٹخنوں کے نیچے لٹکا رکھی ہے، آپ تشریف لائے، میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: اے ابن عمر! لباس کا جو حصہ زمین کو چھوئے گا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اس کے بعد اپنا ازار نصف پنڈلی تک رکھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8112]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5727»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5727
حدیث نمبر: 8113
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ زَيْدٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ يَعْنِي جَدِيدًا فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ قَالَ فَرَفَعْتُهُ قَالَ زِدْ قَالَ فَرَفَعْتُهُ حَتَّى بَلَغَ نِصْفَ السَّاقِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسْتَ مِنْهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تکبر سے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے کھینچے گا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تہبند دیکھا جو کہ زمین پر حرکت کر رہا تھا، نیا ہونے کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبداللہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عبداللہ ہو تو اپنا تہبند اوپر اٹھالو۔ پس میں نے ٹخنوں سے اوپر اٹھا لیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اٹھاؤ۔ پس میں نے اور اٹھا لیا حتیٰ کہ نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، پھر آپ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جس نے تکبر سے اپنا لباس زمین پر کھینچا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کبھی کبھی میرا تہبند کچھ لٹک سا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8113]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3665، 5784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6340»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ بڑی وضاحت کے ساتھ اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ مسلمان پراپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکانا واجب ہے،اسے چاہیے کہ وہ اپنے لباس کو ٹخنوں سے اوپر رکھے، اگرچہ اس کا مقصد تکبر نہ ہو۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا واضح ردّ کیا گیا ہے، جن کے جبّے زمین پر لگ رہے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ تکبر کی نیت سے نہیں کر رہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3665
حدیث نمبر: 8114
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى عَضَلَةِ سَاقَيْهِ ثُمَّ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ ثُمَّ إِلَى كَعْبَيْهِ فَمَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فِي النَّارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند اس کی پنڈلی کے پٹھے تک ہونا چاہیے، یا پھر نصف پنڈلی تک کر لے، نہیں تو ٹخنوں تک، جو اس سے نیچے ہوگا، وہ آگ میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8114]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 9709، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7844»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 8115
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْإِزَارِ فَقَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ لَا جُنَاحَ أَوْ لَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے تہبند کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل سے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مومن کا تہبند اس کی نصف پنڈلی تک ہوتا ہے اور اس میں کوئی گناہ یا حرج نہیں ہے کہ وہ نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان درمیان رہے، البتہ ٹخنوں سے نیچے والا جو حصہ تہبند میں آئے گا، وہ آگ میں ہو گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا، جو از راہِ تکبر تہبند گھسیٹے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8115]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4093، وابن ماجه: 3573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11023»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 8116
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَلَمَّا رَأَى شِدَّةَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ قَالَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ لَا خَيْرَ فِيمَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ یہ حکم مسلمانوں پر گراں گزر رہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹخنوں تک لٹکایا جا سکتا ہے، البتہ اس سے نیچے کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8116]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الطبراني في الاوسط، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13640»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 8117
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کپڑا ٹخنوں کے نیچے لٹکے گا، وہ حصہ آگ میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8117]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26734»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره