الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ مِنْ مَنَازِلِهِنَّ لِغَيْرِ حَاجَةٍ وَ وَعِيْدِ مَنْ تَعَطَّرَتْ لِلْخُرُوجِ
بغیر کسی ضرورت کے عورتوں کے گھروں سے نکلنے کا اور عطر لگا کر نکلنے والی کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8148
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ اسْتَعْطَرَتْ ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْقَوْمِ لِيَجِدُوا رِيحَهَا فَهِيَ زَانِيَةٌ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت بھی خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرے تا کہ وہ اس کی خوشبو محسوس کریں تو وہ زانیہ اور بدکار ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8148]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد، أخرجه ابوداود: 4173، والترمذي: 2786، والنسائي: 8/ 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19747 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19985»
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد
حدیث نمبر: 8149
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَقِيَ امْرَأَةً فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ إِعْصَارٍ طَيِّبَةً فَقَالَ لَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَسْجِدَ تُرِيدِينَ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ فَيَقْبَلُ اللَّهُ لَهَا صَلَاةً حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنْهُ اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ فَاذْهَبِي فَاغْتَسِلِي
۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت کو ملے اوراس سے بڑی اچھی اور تیز اڑنے والی خوشبومحسوس کی، سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تو مسجد میں جانے کا ارادہ رکھتی ہے؟اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو نے اسی لیے خوشبو استعمال کی ہے؟ ا س نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت مسجد کے لیے خوشبو لگاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا، یہاں تک کہ وہ غسلِ جنابت کی طرح کا غسل نہ کر لے۔ اس لیے تو چلی جا اور غسل کر۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8149]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وھذا سند ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله أخرجه ابوداود: 4174، وابن ماجه: 4002، والطيالسي: 2557، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7356، 7959، 9727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7946»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۲۵۰۰)
الحكم على الحديث:
حديث حسن
33. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْخِضَابِ وَالْحِنَّاءِ لِلنِّسَاءِ
خواتین کے لئے مہندی لگانے کے مستحبّ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 8150
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ جَدَّتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِمْ قَالَ وَقَدْ كَانَتْ صَلَّتِ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي اخْتَضِبِي تَتْرُكُ إِحْدَاكُنَّ الْخِضَابَ حَتَّى تَكُونَ يَدُهَا كَيَدِ الرَّجُلِ قَالَتْ فَمَا تَرَكَتِ الْخِضَابَ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ كَانَتْ لَتَخْتَضِبُ وَإِنَّهَا لَابْنَةُ ثَمَانِينَ
۔ ضمرہ بن سعید اپنی دادی سے اور وہ اپنے خاندان کی ایک عورت سے بیان کرتی ہیں، اس خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی جانب نماز پڑھی تھی، یہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: ہاتھ رنگا کرو، عورتیں مہندی کو چھوڑے رکھتی ہیں، یہاں تک کہ ان کا ہاتھ مرد کے ہاتھ کی طرح لگنے لگتا ہے۔ اس فرمان کے بعد اس خاتون نے مہندی کو ترک نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملی، یہ اس وقت بھی مہندی لگاتی تھی، جس وقت اس کی عمر اسی برس تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8150]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعنة ابن اسحاق، وجدةُ ضمرة لم اعرفھا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27464 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28011»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لعنعنة ابن اسحاق
حدیث نمبر: 8151
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَدَّتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَوْ يَدُ امْرَأَةٍ فَقَالَتْ بَلِ امْرَأَةٌ فَقَالَ لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے پردہ کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب ہاتھ پھیلایا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور فرمایا: مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا۔ اس نے کہا: جی میں عورت ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو عورت ہے تو مہندی سے اپنے ناخنوں کا رنگ تبدیل کر لیا ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8151]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4166، والنسائي: 8/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26788»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 8152
عَنْ كَرِيمَةَ ابْنَةِ هَمَّامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَأَخْلَوْهُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مَا تَقُولِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ كَانَ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ لَوْنُهُ وَيَكْرَهُ رِيحَهُ وَلَيْسَ بِمُحَرَّمٍ عَلَيْكُنَّ بَيْنَ كُلِّ حَيْضَتَيْنِ أَوْ عِنْدَ كُلِّ حَيْضَةٍ
۔ کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں: میں مسجد حرام میں داخل ہوئی تو میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنہا پایا، ایک عورت نے ان سے سوال کیا: اے ام المومنین! مہندی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا:میرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رنگ کو تو پسند کرتے تھے، لیکن اس کی بو کو ناپسند کرتے تھے، بہرحال یہ حرام نہیں، پاکیزگی کی حالت میں یا حیض کے فارغ ہوتے وقت اس کا اہتمام کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8152]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،كريمة بنت ھمام مستورة الحال، أخرجه ابوداود: 4164،والنسائي: 8/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25373»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8153
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِيَّاكُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْهِ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنِ الْخِضَابِ فَقَالَتْ لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ لِأَنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم چہروں پر زعفران لگانے سے پرہیز کیا کرو، اتنے میں ایک عورت نے ان سے مہندی کے متعلق سوال کیا، انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن میں اسے پسند نہیں کرتی، کیونکہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بو کو نا پسند کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8153]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26279»
وضاحت: فوائد: … قشر کی وضاحت کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۱۳۲)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26279
حدیث نمبر: 8154
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَخْتَضِبُ وَتَتَطَيَّبُ فَتَرَكَتْهُ فَدَخَلَتْ عَلَيَّ فَقُلْتُ لَهَا أَمُشْهِدٌ أَمْ مُغِيبٌ فَقَالَتْ مُشْهِدٌ كَمُغِيبٍ قُلْتُ لَهَا مَا لَكِ قَالَتْ عُثْمَانُ لَا يُرِيدُ الدُّنْيَا وَلَا يُرِيدُ النِّسَاءَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَلَقِيَ عُثْمَانَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ أَتُؤْمِنُ بِمَا نُؤْمِنُ بِهِ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأُسْوَةٌ مَا لَكَ بِنَا وَفِي رِوَايَةٍ فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی مہندی اور خوشبو لگایا کرتی تھیں، لیکن پھر اس نے یہ چیزیں چھوڑ دیں، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اس سے پوچھا: کیا تمہارا خاوند گھر پر موجود ہے یا غائب ہے؟ اس نے کہا: حاضر تو ہے، لیکن غائب کی مانند ہے۔ میں نے کہا: کیا مطلب؟ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ اس نے کہا: عثمان نہ دنیا چاہتے ہیں اورنہ عورتوں سے رغبت رکھتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے یہ بات آپ کوبتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: اے عثمان! کیا تم اسی طرح ایمان رکھتے ہو، جس طرح ہم ایمان رکھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو پھر ہم میں تیرے لیے کوئی نمونہ اور اسوہ نہیں ہے، پس تو اس طرح کر، جیسے ہم کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8154]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25260»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ بڑے عبادت گزار تھے، تہجد اور عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے بیوی سے بھی دور ہو گئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سمجھایا کہ عبادت کے علاوہ بھی ایسے حقوق ہیں کہ جن کی ادائیگی ضروری اور مسنون ہے، جیسے بیوی کا حق ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
34. بَابُ اسْتِحْبَابِ الطَّيْبِ وَمَا هُوَ الطَّيِّبُ الطَّيبِ
خوشبو، سرمہ اور ان سے متعلقہ امور کے ابواب¤خوشبو کے مستحب ہونے اور عمدہ ترین خوشبو کا بیان
حدیث نمبر: 8155
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس خوشبو لائی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو واپس نہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8155]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12176 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12200»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2582
حدیث نمبر: 8156
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایسی کوئی صورت نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خوشبو پیش کی گئی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو ردّ کر دیا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8156]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13782»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13782
حدیث نمبر: 8157
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں سے میرے نزدیک پسندیدہ چیزیں بیویاں اور خوشبو ہے اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھ دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8157]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 7/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:12283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12318»
وضاحت: فوائد: … خوشبو اور نماز کا معاملہ تو واضح ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن