الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَدُ الْمُسْتَحَبُّ لِلتَّوْبِ وَالْجَائِزِ والحرام
لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
حدیث نمبر: 8118
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِزَارِ فَقُلْتُ أَيْنَ أَتَّزِرُ فَأَقْنَعَ ظَهْرَهُ بِعَظْمِ سَاقِهِ وَقَالَ هَاهُنَا اتَّزِرْ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنْ أَبَيْتَ فَهَاهُنَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَعْرُوفِ الْخَ
۔ ابو تمیمہ ہجیمی نے اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کیا، اس نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تہبند کے متعلق پوچھا اور کہا: کہاں تک رکھوں؟ آپ نے اپنی پنڈلی کی ہڈی تک تہبند اٹھا کردکھایا اور فرمایا: یہاں تک ازار باندھ لو، اگر تم اس سے انکار کرتے ہو تو اس سے ذرانیچے رکھو، اگر اس سے بھی انکار ہے تو ٹخنوں سے اوپر رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والے شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی کے متعلق سوال کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8118]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 4/ 186، والطيالسي: 1208، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16051»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 8119
عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا هُوَ يَمْشِي قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ حُمُشُ السَّاقَيْنِ فَقَالَ يَا عَمْرُو إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ يَا عَمْرُو وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو فَقَالَ وَهَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ ضَرَبَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ تَحْتَ الْأَرْبَعِ الْأُولَى ثُمَّ قَالَ يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ فَقَالَ يَا عَمْرُو هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ
۔ سیدنا عمرو بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اس حال میں چل رہا تھا کہ اس نے اپنا ازار (ٹخنوں سے نیچے) لٹکا رکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے جا ملے، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوئی تھی اور یہ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری پنڈلیاں پتلی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! یقینا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے۔ اے عمرو!۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور پہلے والی چار انگلیوں (کے فاصلے سے) سے نیچے پھر چار انگلیاں رکھیں اور فرمایا: یہ ازار کی جگہ ہے۔ پھر ان کو اٹھایا اور دوسری والی چار انگلیوں کے نیچے رکھا اور فرمایا: عمرو! یہ ازار کی جگہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8119]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17935»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 8120
عَنِ الشُّرَيْدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ وَفِي رِوَايَةٍ أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ حَتَّى هَرْوَلَ فِي أَثَرِهِ حَتَّى أَخَذَ ثَوْبَهُ فَقَالَ ارْفَعْ إِزَارَكَ قَالَ فَكَشَفَ الرَّجُلُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْنَفُ وَتَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ قَالَ وَلَمْ يُرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ حَتَّى مَاتَ
۔ شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو ثقیف کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنا تہبند گھسیٹتا جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پیچھے تیزی سے چلے یہاں تک کہ اس کا کپڑا پکڑا اور فرمایا: اپنا تہبند اوپر اٹھا کر رکھ۔ اس آدمی نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا اٹھایا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے قدم پڑھے ہیں اور گھٹنے آپس میں ٹکراتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہر مخلوق خوبصورت اور اچھی ہے۔ اس کے بعد اس آدمی کو جب بھی دیکھا گیا تو اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا، موت تک ان کی یہی حالت رہی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8120]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19701»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 8121
عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ بُرْدَةً مَلْحَاءَ أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ
۔ سیدنا عبیدہ بن خلف بیان کرتے ہیں میں مدینہ میں آیا، میں ابھی نوجوان تھا میں نے ایک دھاری دار تہبند باندھ رکھا تھا جوزمین پر کھینچا جا رہا تھا ایک آدمی نے مجھے پا لیا اور مجھے چھڑی لگائی اگر تم یہ کپڑا اوپر اٹھا لو تو تمہارے لئے دیرپابھی ہوگا اور صاف بھی ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایک سیاہ و سفید دھاری والی چادر ہے۔ آپ نے فرمایا: اگرچہ یہ سیاہ و سفید چادر ہے لیکن کیا تمہارے لئے میرے اندر بہترین اسوہ نہیں؟ میں نے آپ کے تہبند کی طرف دیکھا تو وہ ٹخنوں سے اوپر اور پنڈلی کے پٹھے کے نیچے تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8121]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم، وجھالة عمة الاشعث، أخرجه الطيالسي: 1190، والترمذي في الشمائل: 113، والنسائي في الكبري: 9682، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23475»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم
حدیث نمبر: 8122
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ قَالَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِيمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری پنڈلی کے پٹھے کو پکڑ کر کہا یہ تہبند باندھنے کی جگہ ہے اگر تو اس سے انکار کرتا ہے تو اس سے ذرا نیچے کر لو، اور اگر اس سے بھی انکار کرتا ہے تو ٹخنوں کے نیچے تہبند رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8122]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3572، والترمذي: 1783، والنسائي: 8/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23632»
وضاحت: فوائد: … قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے مزاج کو نظر انداز کر کے ان احادیث کا مطالعہ کریں اور اپنے وضع قطع کے معاملات میں اسلام میں پورا پورا داخل ہو جائیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
29. باب الرُّحْصَةِ فِي إِطَالَةِ ذَيْلِ الْمَرْأَةِ
عورت کا اپنا دامن لمبا کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 8123
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ نَافِعٌ فَأُنْبِئْتُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَكَيْفَ بِنَا قَالَ شِبْرًا قَالَتْ إِذَنْ تَبْدُو أَقْدَامُنَا قَالَ ذِرَاعًا لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا لباس تکبر سے زمین پر گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ امام نافع کہتے ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کپڑا نیچے رکھنے میں ہمیں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت نیچے تک رکھ لو۔ انھوں نے کہا: تب تو ہمارے قدم نظر آ سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ رکھ لو، اس سے زیادہ نہیں لٹکانا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8123]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط الشيخين، أما حديث ابن عمر فأخرجه مسلم: 2085، وأما حديث ام سلمة فأخرجه ابوداود: 4118، والنسائي: 8/ 209، وابن ماجه: 3580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5173»
الحكم على الحديث:
صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 8124
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا فَاسْتَزَدْنَهُ فَزَادَهُنَّ شِبْرًا آخَرَ فَجَعَلْنَهُ ذِرَاعًا فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا نَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امہات المومنین کو رخصت دی کہ وہ اپنے دامن کو ایک بالشت کے برابر لٹکا لیا کریں، لیکن جب انہوں نے مزید کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بالشت اور بڑھا رکھنے کی اجازت دے دی، پس وہ ایک ہاتھ تک نیچے لٹکا لیتی تھیں، اور وہ ہمارے پاس کپڑا بھیجتی تھیں، ہم اس کی پیمائش کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8124]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابوداود: 4119، وابن ماجه: 3581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4683»
وضاحت: فوائد: … دو بالشتوں کا ایک ہاتھ بنتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 8125
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ فَاطِمَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنْ تَجُرَّا الذَّيْلَ ذِرَاعًا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ اپنے دامن کو ایک ہاتھ تک لٹکایا کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8125]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابو المھزم متروك، أخرجه ابن ماجه: 3582، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7563»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 8126
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ قَالَ شِبْرٌ قَالَتْ قُلْتُ إِذًا تَخْرُجُ سُوقُهُنَّ قَالَ فَذِرَاعٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایک بالشت ہونا چاہیے، لیکن میں نے کہا: تب تو ان کی پنڈلیاں نظر آ جائیں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ لٹکاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8126]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24973»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 8127
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِالنِّسَاءِ قَالَ يُرْخِينَ شِبْرًا قُلْتُ إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذِرَاعٌ لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں کے لئے کپڑا لٹکانے کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت تک دامن لٹکا لیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب تو ان کے پاؤں ننگے ہو جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ تک رکھ لیں اور اس سے زیادہ نہ کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8127]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 4118، والنسائي: 8/ 209، وابن ماجه: 3580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27216»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح