🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب مَا جَاءَ فِي الْعُطَاسِ وَآدَابِهِ وَتَشْمِيْتِ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ
چھینک، اس کے آداب اور چھینکنے والے کی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8237
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ قَالَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا،ان میں سے ایک دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شرف والا تھا، شرافت والے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کی چھینک کاجواب نہ دیا اور دوسرے نے چھینکا اوراس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کا جواب دیا، اس شرافت والے نے کہا: میں نے بھی آپ کے قریب چھینکا ہے، لیکن آپ نے میرا جواب نہیں دیا اور اس نے چھینکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا جواب دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے چھینک کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، پس میں نے بھی اس کا ذکر کیا اور تو اللہ تعالیٰ کو بھول گیا، پس میں نے بھی تجھے بھلا دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8237]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8328»
وضاحت: فوائد: … غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن الفاظ کے ساتھ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہنے والے کو سمجھا رہے ہیں کہ اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہہ کر اللہ تعالی کو بھلایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس کے حق میں دعائیہ کلمات نہ کہہ کر اس کو بھلا دیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8238
وَعَنْهُ أَيْضًا يَرْفَعُهُ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کسی کو چھینک آئے تو وہ ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8238]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه عبد الرزاق: 3325، والبيھقي: 2/ 289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11911»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8239
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعَطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے، تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8239]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3289، 6223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9526»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3289
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8240
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ يَعْنِي وَالِدَهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَيْتِ ابْنَةِ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَاءَهَا قَالَتْ عَطَسَ ابْنِي عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا فَقَالَ إِنَّ ابْنَكِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ تَعَالَى فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَإِنَّهَا عَطَسَتْ فَحَمِدَتِ اللَّهَ تَعَالَى فَشَمَّتُّهَا وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا تُشَمِّتُوهُ فَقَالَتْ أَحْسَنْتَ أَحْسَنْتَ
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ ام فضل کی بیٹی ام کلثوم کے گھر میں تھے (یہ ان کی بیوی تھی)، میں نے چھینکا تو والد صاحب نے میرا کوئی جواب نہ دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو انھوں نے ان کا جواب دیا، جب میں اپنی ماں کے پاس واپس آیا تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا، جب میرے والد میری ماں کے پاس آئے تو میری والدہ نے کہا: میرے بیٹے نے چھینکا تو تم نے جواب نہیں دیا، لیکن جب ام کلثوم نے چھینکا تو تم نے جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا:جی ہاں، تمہارے بیٹے نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہیں کہا، اس لئے میں نے بھی جواب نہیں دیا اور اس خاتون نے چھینکا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا، تو میں نے بھی اس کا جواب دیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم اس کا جواب دو اور اگر وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نہ کہے تو پھر تم جواب نہ دو۔ انھوں نے کہا: پھر تو تم نے اچھا کیا، بہت اچھا کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8240]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2992، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19932»
وضاحت: فوائد: … چھینکنے کے آداب اور اس کے اذکار کا بیان ہو رہا ہے، تمام احادیث کا مفہوم واضح ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2992
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا يَقُولُ مَنْ عَطَسَ، وَمَا يَقُولُهُ لَهُ مَنْ حَوْلَهُ، وَمَا يَقُولُ لَهُمْ
اس چیز کا بیان کہ چھینکنے والا، اس کے ارد گرد والے اور پھر وہ کون کون سے ذکر کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8241
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ مَنْ حَوْلَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہے اور ارد گرد والے یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہیں اور پھر چھینکنے والا یہ کہے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تمہاری حالت درست رکھے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8241]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3715، والترمذي: 2741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 973»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8242
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَحَدُهُمَا ذِي الْجَنَاحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ حَمِدَ اللَّهَ فَيُقَالُ لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَيَقُولُ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
۔ ذو الجناحین سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چھینکتے اور الحمد اللہ کہتے تو جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جاتا: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کرے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8242]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطحاوي: 4/ 301، والبيھقي في شعب الايمان: 9340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1748»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8243
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ رَحِمَكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكَ قَالَ حَجَّاجٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینکے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ کہے تو اس کو جواب دینے والا کہے: رَحِمَکَ اللّٰہُ اور اس کے جواب میں چھینکنے والا پھر کہے: (اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح فرمائے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8243]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 2741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23985»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8244
عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ آخَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ثُمَّ سَارَ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ قَالَ مَا أَرَدْتُ أَنْ تَذْكُرَ أُمِّي قَالَ لَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا أَنْ أَقُولَهَا كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ ثُمَّ قَالَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ أَوْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيُقَلْ لَهُ يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ أَوْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ شَكَّ يَحْيَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلْيَقُلْ يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ
۔ ہلال بن یساف، خالد بن عرفطہ کی آل کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا سالم بن عبید کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، سالم بن عبید نے اسے یوں جواب دیا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو، پھر وہ چلے اور اس چھینکنے والے سے کہا: شاید تو ناراض ہوگیا ہو؟ اس نے کہا:میرا یہ ارادہ تو نہیں تھا کہ تم یہاں میری ماں کا ذکر کرو (یہ تم نے نامناسب کام کیا ہے)، انھوں نے کہا: لیکن یہ کہے بغیر تو کوئی چارۂ کار نہ تھا، کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، ایک آدمی نے چھینکا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تجھ پر اور تیری ماں پر سلام ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ کہے: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ یا الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، سننے والا اس کو یوں جواب دے: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ، اور وہ چھینکنے والا پھر کہے: یَغْفِرُ اللّٰہُ لِی وَلَکُمْ (اللہ تعالیٰ میری اور تمہاری بخشش فرمائے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8244]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام رجلين فيه، ولاضطرابه، أخرجه ابوداو: 5032، والترمذي: 2740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24354»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام رجلين فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8245
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ قَالَ الْقَوْمُ مَا نَقُولُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ مَا أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَهُمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینکا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ کہو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہو۔ چھینکنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میں ان کے لئے کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8245]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بشواھده، أخرجه ابويعلي: 4946، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25001»

الحكم على الحديث:
حديث حسن بشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8246
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَكَانَ يَقُولُ لَهُمْ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
۔ سیدنا ابو موسیٰ شعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس امید میں چھینکتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لئے یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ کہیں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب یوں دیتے: یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8246]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5038، والترمذي: 2739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19815»
وضاحت: فوائد: … رحمت کی دعا مسلمان کے ساتھ خاص ہے، البتہ ہر غیر مسلم کے لیے ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں