الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ جَوَاز إِنْخَاذِ الشَّعْرِ وَاكْرَامِهِ
بال رکھنے اور ان کو سنوارنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 8227
عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَا ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ عُثْمَانُ لَهُ ذُؤَابَةٌ
۔ ہبیرہ بن یریم کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انھوں نے اپنے بیٹے کو بلایا،اس کا نام عثمان تھا اور اس کے بالوں کی مینڈھی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8227]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1116»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8228
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلاناغہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8228]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4159، والترمذي: 1756، والنسائي: 8/ 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16916»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: الترجُّل کے معانی ہیں: بالوں میں کنگھی کرنا، ان کو صاف کرنا اور ان کو خوبصورت بنانا۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْقَزَعِ وَالرُّحْصَةِ فِي حَلْقِ الشَّعْرِ
قزع کی کراہت اور مکمل سر منڈوانے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 8229
عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَزَعِ قُلْتُ وَمَا الْقَزَعُ قَالَ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزع سے منع فرمایاہے، میں نے کہا: قزع سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: قزع یہ ہے کہ بچے کے سر کا بعض حصہ منڈوایا جائے اور بعض حصہ رہنے دیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8229]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5175»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8230
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ احْلِقُوا كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوا كُلَّهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا، اس کے سر کے کچھ بال منڈوائے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دئیے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارا سر منڈوا دو یا سارا سر چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8230]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5615»
وضاحت: فوائد: … اس کو پیالہ کٹنگ کہتے ہیں کہ سر کے بعض حصے کو منڈوا دیا جائے اور بعض حصے کو چھوڑ دیا جائے، اس سے بندہ قبیح لگتا ہے، نیز بعض مشرکوں کی یہ عادت ہوتی تھی کہ وہ ایسے بال رکھتے تھے۔ ہونا یہ چاہیے کہ آدمی سر کے سارے بالوں کو یا تو منڈوا دے، یا قینچی سے کٹنگ کروائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8231
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي قَالَ فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا
۔ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر) تین دن تک ہمارے پاس تشریف نہ لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور ہم سے فرمایا: آج یا کل کے بعد میرے بھائی جعفر پر نہ رونا، میرے بھتیجوں کو بلاؤ۔ پس ہمیں لایا گیا، ایسے لگ رہا تھا کہ ہم چوزے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حجام کو بلاؤ۔ پس حجام کو لایا گیا، پھر اس نے ہمارے سرمونڈ دئیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8231]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه النسائي في الكبري: 8604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1750»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ عام حالات میں بھی سر منڈوایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ حکم مردوں کے لئے ہے، عورتوں کے لئے سر منڈوانا ناجائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنا سرمنڈوائے (نسائی)
الحكم على الحديث: صحیح
9. باب مَا جَاءَ فِي التَّناوُبِ وَآدَابِهِ
جمائی، چھینک اور ان کے آداب کے ابواب¤جمائی اور ان کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8232
عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ فِي فِيهِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو وہ حسب ِ استطاعت اس کو روکے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8232]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11282»
وضاحت: فوائد: … اگر آدمی ہونٹ بند کر کے ناک سے سانس لے تو جمائی رک جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8233
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ مَعَ التَّثَاؤُبِ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11911»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8234
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا يَقُلْ آهْ آهْ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا فَتَحَ فَاهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ أَوْ بِهِ قَالَ حَجَّاجٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے، جو آدمی چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو سننے والے پر حق ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہُ کہے اور جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اسے مقدور بھر روکے اور آہ آہ کی آواز نہ نکالے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی منہ کھولتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔ حجاج کے روایت میں ہے: رہا مسئلہ جمائی کا، تو یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8234]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3289، 6223، 6226، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9526»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8235
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ التَّثَاؤُبَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو اس کو مقدور بھر روکے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8235]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9151»
وضاحت: فوائد: … جمائی سستی کی علامت ہے، بدن بوجھل ہوتا ہے، اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، اس سے انسانی صورت بگڑ جاتی ہے، اس لئے اسے روکنے کا حکم ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
10. باب مَا جَاءَ فِي الْعُطَاسِ وَآدَابِهِ وَتَشْمِيْتِ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ
چھینک، اس کے آداب اور چھینکنے والے کی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 8236
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ وَضَعَ ثَوْبَهُ أَوْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ مِنْ صَوْتِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھینکتے تو اپنا کپڑا یا اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ لیتے اور آواز کو پست کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8236]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 5029، والترمذي: 2745، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9662 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9660»
وضاحت: فوائد: … ابوداود کی روایت کے الفاظ زیادہ بامعنی اور واضح ہیں، وہ الفاظ یہ ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذَا عَطَسَ وَضَعَ یَدَہٗ أَوْ ثَوْبَہٗ عَلٰی فِیْہِ وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِہَا صَوْتَہٗ۔ … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھینکتے تو اپنا ہاتھ یا کپڑا اپنے منہ پر رکھتے اور اس کے ذریعے اپنی آواز کو پست کر لیتے۔
الحكم على الحديث: صحیح