🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب فَضْل الشَّبَبِ وَكَرَاهَةِ نَتْفِهِ
سفید بالوں کی فضیلت اور ان کو اکھاڑنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8197
عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عمر بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے تو یہ بڑھاپے کی سفیدی روز قیامت اس کے لئے نور بن جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8197]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3965، 3966، والنسائي: 6/ 27، والترمذي: 1638، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17149»
وضاحت: فوائد: … فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے میں): عرف کا لحاظ رکھیں تو اس کا معنی جہاد ہو گا، یعنی جس نے سیاہ بالوں کی عمر سے جہاد شروع کیا اور بالوں کے سفید ہو جانے تک یہ عمل جاری رکھا، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس سے مراد ہر نیک کام ہو، کیونکہ احادیث میں مومن کے سفید بالوں کو اس کے لیے نور قرار دیا گیا ہے، جب کہ جہاد کی فضیلت تو سفید بالوں کی محتاج نہیں، وہ تو اس کے بغیر بھی فضیلت والا ہے۔ واللہ اعلم۔وہ بال ہی نور بن جائیں گے یا ان کی بنا پر نور حاصل ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَغْبِيْرِ الشَّيْبِ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ ونحوهما
سفید بالوں کو مہندی اور کتم (ایک پودا) وغیرہ سے رنگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8198
عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرو اور یہودیوں کی مشابہت اختیاور نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8198]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1415»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8199
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا الشَّيْبَ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَى
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سفید بالوں کو تبدیل کرو اور یہود و نصاریٰ کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8199]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10477»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8200
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ فَأَحْلَكُهَا أَحَبُّ إِلَيْنَا قَالَ مَعْمَرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ (مسند أحمد:)
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8200]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8083 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سر اور داڑھی کے بالوں کو رنگنے کی اصل وجہ اور علت یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اہل کتاب کے مخالفت کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے تھے، اس علت اور وجہ کی بنا پر بالوںکو رنگنا مستحب اور مؤکد ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8201
عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ شَعْرُهُ يَبْلُغُ كَتِفَيْهِ أَوْ مَنْكِبَيْهِ
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہندی اور کتم (پودا) کے ساتھ بال رنگتے تھے، آپ کے بال کندھوں تک پہنچتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8201]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 726، والبيھقي في دلائل النبوة: 1/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17636»
وضاحت: فوائد: … وسمہ: یمن میں پائی جانے والی ایک بوٹی ہے، یہ سرخی مائل سیاہ رنگ نکالتی ہے، جبکہ مہندی کا رنگ

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8202
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي رِمْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَجَجْتُ فَرَأَيْتُ رَجُلًا جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ أَبِي تَدْرِي مَنْ هَذَا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ إِذَا رَجُلٌ ذُو وَفْرَةٍ بِهِ رَدْعٌ وَفِي رِوَايَةٍ رِدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَرَأَيْتُ الشَّيْبَ أَحْمَرَ
۔ سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ میں نے حج کیا اور میں نے کعبہ کے سائے میں ایک آدمی کو دیکھا، میرے ابا جان نے مجھ سے کہا:کیا تجھے معلوم ہے یہ کون آدمی ہے؟ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جب ہم آپ تک پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کان تک تھے اور بالوں پر مہندی کے نشانات تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سبز رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی تھیں، میں نے دیکھا کہ آپ کے سفید بال مہندی کی وجہ سے سرخ نظر آ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8202]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7112»
وضاحت: فوائد: … وفرہ ان بالوں کو کہتے ہیں، جو کان کی لو تک پہنچتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8203
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَخْضُوبًا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ
۔ عثمان بن عبداللہ کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ بال نکالے، وہ مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8203]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27249»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8204
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز، جس سے تم ان سفید بالوں کو تبدیل کرتے ہو، وہ مہندی اور وسمہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8204]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21821»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8205
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَأَخِي مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هَذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ وَقَالَ لِأَخِي رَافِعٍ هَذَا خِضَابُ الْإِيمَانِ
۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8205]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن عبد الله الازدي، وضعف ابنه عبد الصمد بن حبيب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20936»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ زرد رنگ مہندی سے افضل ہے، کیونکہ ایمان کا مرتبہ اسلام سے زیادہ ہے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8206
عَنْ حُمَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا نَحْوًا مِنْ سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ عِشْرِينَ شَعْرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَشِنْ بِالشَّيْبِ فَقِيلَ لِأَنَسٍ أَشَيْنٌ هُوَ قَالَ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ وَلَكِنْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ
۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الادب/حدیث: 8206]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5894، ومسلم: 2341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12859»
وضاحت: فوائد: … سفید بال مسلمان کے لیے نور اور وقار ہیں، عیب ہونے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بال کالے رہیں اور سفید نہ ہوں، یا سفید بالوں کا سفید باقی رہنا عیب ہے، یعنی مہندی وغیرہ کے ذریعے ان کی سفیدی کو تبدیل کر دینا چاہیے، تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو جائے، جیسا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جن کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سفیدی کو بدل دو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں